ایران میں پیٹرول کا بحران، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں
تہران : ایران کے مختلف علاقوں میں پیٹرول کے حصول کے لیے طویل قطاریں لگ گئیں۔
تفصیلات کے مطابق ایران شدید پیٹرول بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے، دارالحکومت تہران سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں پیٹرول کے حصول کے لیے گاڑیوں کی کلومیٹر طویل قطاریں لگ گئی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر متعدد پیٹرول پمپس کی بندش کی ویڈیوز بھی سامنے آ رہی ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں ایندھن کی شدید قلت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگی حالات اور ملکی آمدنی میں کمی کے باعث پیٹرول کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ درآمدی راستے بند ہونے کی وجہ سے پیٹرول سمیت دیگر ضروری اشیا کی ترسیل اور سپلائی چین میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے اب قومی ذخائر کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی توانائی کمیٹی کے اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرول کی یومیہ پیداوار 13 کروڑ 20 لاکھ لیٹر ہے، جبکہ روزانہ کی کھپت 13 کروڑ 70 لاکھ لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث روزانہ کی بنیاد پر 50 لاکھ لیٹر سے زائد کا شارٹ فال (فرق) پیدا ہو رہا ہے۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ستمبر کے اختتام تک پیٹرول کی یومیہ طلب 14 کروڑ لیٹر سے بھی تجاوز کر جائے گی، جس سے انرجی کرائسز مزید شدید ہو سکتا ہے۔