امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کا ٹرمپ انتظامیہ سے بھارت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
واشنگٹن: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت میں مذہبی آزادی کی مبینہ خلاف ورزیوں پر بھارتی حکام اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ارکان کے خلاف کارروائی کرے، جس میں ہدفی پابندیاں عائد کرنے اور آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا امریکی ویزا منسوخ کرنے پر غور بھی شامل ہے۔
دو طرفہ وفاقی کمیشن نے امریک میں بھاگوت کے دورے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ آر ایس ایس سے وابستہ گروہوں کے ارکان نے مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں سمیت مذہبی اقلیتوں کے خلاف پرتشدد حملے کیے ہیں۔
امریکی کمیشن کے چیئرمین آصف محمود نے مذہبی اقلیتی برادریوں کے خلاف تشدد اور اشتعال انگیزی کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ بھارت میں مذہبی آزادی کی صورت حال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ محمود نے امریکی حکومت پر زور دیا کہ وہ مذہبی آزادی کی مبینہ خلاف ورزیوں میں ملوث آر ایس ایس ارکان اور بھارتی حکام کے خلاف پابندیوں پر غور کرے۔ انھوں نے بھاگوت کا ویزا منسوخ کرنے اور انھیں مستقبل میں امریکا میں داخلے سے روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔
یو ایس سی آئی آر ایف نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی اختیار کردہ پالیسیاں آر ایس ایس کے ہندو قوم پرستانہ، یا ہندوتوا، نظریے سے گہری مطابقت رکھتی ہیں اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہیں۔
کمیشن نے بھارتی حکام پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف ہجوم کے تشدد کو مؤثر طور پر روکنے، اس کی تحقیقات کرنے یا ذمہ داروں کو سزا دینے میں ناکامی کا بھی الزام عائد کیا۔ کمیشن کے مطابق، چوکس گروہوں کے حملے اکثر بھارت کے انسدادِ تبدیلیِ مذہب قوانین کے نفاذ سے منسلک رہے ہیں، جن کا اثر عیسائیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں پر غیر متناسب طور پر پڑتا ہے۔