جمعرات, 27 اگست 2026 | 13 ربیع الاول 1448 ہجری | 12 بھادوں
بریکنگ نیوز
نیپال اور تبت میں ہولناک سیلابی ریلا، 157 افراد ہلاک، درجنوں لاپتا پمز اسپتال آتشزدگی، وزیراعظم کا حکام کو فوری تحقیقات کا حکم واٹس ایپ نے اکاؤنٹ سیکورٹی میں بڑی تبدیلیاں کر دیں ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آگئی بیلجیئم میں خطرے کی گھنٹی بج گئی، مارکیٹ سے 20 لاکھ انڈے واپس شادی کی تقریب میں دولہا انتقال کر گیا جعلی ایئر لائن نے ملازمت کا جھانسہ دے کر نوجوانوں کو کیسے لوٹا؟
نیپال اور تبت میں قیامت خیز سیلاب، 9 افراد ہلاک، 384 لاپتا

نیپال اور تبت میں قیامت خیز سیلاب، 9 افراد ہلاک، 384 لاپتا

کھٹمنڈو (26 اگست 2026) : نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں آنے والے زلزلے اور سیلاب نے قیامت صغریٰ بپا کردی، مختلف حادثات میں کم از کم 9 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔

زلزلے کے بعد برف اور چٹانوں کا تودہ دریا میں گرنے سے ہر طرف تباہی مچ گئی، سڑکیں، پل اور مکانات کاغذ کی مانند بہہ گئے، اب تک 384 شہری لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق تباہ کن سیلابی ریلے نے سڑکوں، پلوں، مکانات اور بجلی کے منصوبوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ مٹی کے تودے نے تبت سے ملحقہ اہم زمینی گزرگاہ گیرونگ پورٹ کو بھی متاثر کیا، جس کے باعث سڑکوں، مواصلاتی نظام اور بجلی کی فراہمی میں خلل پڑا۔

قیامت خیز زلزلے اور سیلاب سے پوری کی پوری آبادی کا وجود ہی ختم ہوگیا، سیکڑوں سیاح لاپتہ ہوگئے، جن میں 12 برطانوی بھی شامل ہیں۔

سیلاب بدھ کی صبح سویرے نیپال کے دار الحکومت کٹھمنڈو کے شمال میں واقع ضلع رسووا میں آیا، برف کا غیرمعمولی رفتار سے پگھل کر بھوٹے کوشی دریا میں شامل ہونا سیلاب کا سبب بنا۔

تبت اور نیپال کی سرحد کے دونوں جانب سرچ آپریشن جاری ہیں۔ اب تک 12 افراد کو بچایا جاسکا ہے۔ چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تبت میں جانی نقصان بہت زیادہ ہوا ہے۔ نیپالی حکام کا کہنا ہے انہیں بڑے پیمانے پر نقصان کا خدشہ ہے۔

حکام کے مطابق تاحال 384 افراد لاپتا ہیں، جن میں 105 بھارتی، 93 نیپالی، 3 امریکی اور 12 برطانوی شہری شامل ہیں۔

نیپال میں پن بجلی کے منصوبے پر کام کرنے والے 8 جنوبی کوریائی شہری بھی لاپتا افراد میں شامل ہیں۔ دیگر لاپتا افراد میں 17 ملائیشین، 4 جنوبی افریقی جبکہ آسٹریلیا اور نیدرلینڈز کا ایک، ایک شہری شامل ہے۔

نیپال کے متعلقہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ ابھی مکمل طور پر ٹلا نہیں کیونکہ دریا کے بالائی حصے میں رکاوٹ بدستور موجود ہے، جس کے باعث دوسرے سیلاب کا خدشہ برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں اور کالم

ہمیں 2 سوختہ لاشیں دی گئیں، ڈی این اے نہیں کرایا گیا، ماموں پمز اسپتال میں موجود ہر چیز ٹھیک، صرف ہمارے بچے جل گئے، غمزدہ والدین کی دہائی غم کی اس گھڑی میں پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، سعودی عرب امریکا کو تمام معاشی نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا، ایرانی وزیر خارجہ نیپال اور تبت میں ہولناک سیلابی ریلا، 157 افراد ہلاک، درجنوں لاپتا امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کا ٹرمپ انتظامیہ سے بھارت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ