پمز اسپتال میں موجود ہر چیز ٹھیک، صرف ہمارے بچے جل گئے، غمزدہ والدین کی دہائی
اسلام آباد (27 اگست 2026): پمز اسپتال میں آتشزدگی سے 14 نومولود کی موت نے پورے ملک کو افسردہ کر دیا غمزدہ والدین نوحہ کناں ہیں۔
وفاق حکومت کے زیر انتظام اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال، پمز کی نرسری میں آگ لگنے سے جڑواں بچوں سمیت 14 نومولود کی اموات نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے جب کہ جاں بحق بچوں کے والدین غم سے نڈھال اور انصاف کے منتظر ہیں۔
14 نومولود کی پیدائش پر ابھی ان کے والدین کی خوشیاں بھی مکمل طور پر نہیں منائی تھیں کہ پمز اسپتال کی نرسری میں ہولناک آتشزدگی کے ان پر غم کا پہاڑ ڈھا دیا۔ متاثرین نے اسپتال انتظامیہ کو واقعے کا ذمے دار قراردے دیا ہے۔
ایگزیٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر نے دعویٰ کیا کہ آئی سی یو میں دو ڈاکٹر، چار نرسیں اور دیگر عملہ موجود تھا۔
تاہم اسپتال کے باہر تڑپتے والدین انتظامیہ پر برس پڑے اور ڈائریکٹر پمز کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے وقت ڈاکٹر اور عملہ موجود نہیں تھا۔ نرسری کے دروازے پر تالے پڑے تھے۔
ایک متوفی نومولود کے غمزدہ والد نے دہائی دی کہ اسپتال میں ہر چیز ٹھیک ہے، صرف ہمارے بچے ہی جل گئے۔