ٹرمپ اور قالیباف کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی
تہران/واشنگٹن (25 اگست 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے مؤقف کو نشانہ بنایا۔
تہران سے واشنگٹن تک ایک عجیب لفظی جنگ شروع ہو گئی ہے جس میں ٹرمپ اور قالیباف آمنے سامنے ہیں، ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک امریکی میڈیا کمپنی نیوز میکس کی رپورٹ شیئر کی، جس میں ایک بیان قالیباف سے منسوب کرتے ہوئے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے: ’’ہم بھوکے ہیں، ہم زندہ نہیں رہ سکتے۔‘‘ تاہم یہ اقتباس قالیباف کے ایک بیان کے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا تھا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے اُن کے انتخابی نعرے ’میک امریکا گریٹ اگین‘ میں ترمیم کے ساتھ ’میک امریکا ہنگری اگین‘ کر کے پیش کر دیا۔
قالیباف نے ’’امریکہ کو دوبارہ بھوکا بناؤ‘‘ کے جملے پر مشتمل تصویر کے ساتھ لکھا ’’آپ جھوٹے دعوؤں کے ذریعے شکستوں پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔‘‘ اس تصویر میں امریکا میں بھوک اور خوراک کے عدم تحفظ سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے تھے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے اُن کے انتخابی نعرے ’میک امریکا گریٹ اگین‘ میں ترمیم کے ساتھ ’میک امریکا ہنگری اگین‘ کر کے پیش کر دیا۔
قالیباف نے ’’امریکہ کو دوبارہ بھوکا بناؤ‘‘ کے جملے پر مشتمل تصویر کے ساتھ لکھا ’’آپ جھوٹے دعوؤں کے ذریعے شکستوں پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔‘‘ اس تصویر میں امریکا میں بھوک اور خوراک کے عدم تحفظ سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے تھے۔