منگل, 25 اگست 2026 | 11 ربیع الاول 1448 ہجری | 10 بھادوں
بریکنگ نیوز
بقایا جات کی وصولی کیلئے گھریلو بجلی کنکشن کاٹنا غیر قانونی قرار معروف برانڈ کے اسٹور سے 3 ہزار کلو فنگس زدہ آئسکریم برآمد ایران پر امریکی پابندیاں، چین کا ردِعمل سامنے آگیا سعودی آرامکو اور فرانسیسی کمپنیوں کے درمیان اربوں ڈالرز کے معاہدے امریکی سفارتخانے نے ویزا بکنگ کا آغاز کردیا اربوں روپے کی لاگت سے بنی سڑک صرف 40 دن میں ہی دھنس گئی غزہ میں اسرائیلی بربریت کا سلسلہ جاری، دو بچوں سمیت مزید پانچ شہید
مجھ سے کہا گیا 5 ہزار روپے ہفتہ دیں پھر یہ لوگ ڈھابہ لگانے کی اجازت دیں گے: طاہرہ حبیب جالب

مجھ سے کہا گیا 5 ہزار روپے ہفتہ دیں پھر یہ لوگ ڈھابہ لگانے کی اجازت دیں گے: طاہرہ حبیب جالب

لاہور (25 اگست 2026): نامور انقلابی شاعر حبیب جالب کی بیٹی طاہرہ حبیب جالب نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کو ڈھابہ لگانے کیلیے 5 ہزار روپے ہفتہ دینے کی پیشکش کی گئی۔

طاہرہ حبیب جالب نے مہنگائی کے طوفان اور کٹھن حالات کے باوجود کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنی محنت سے باعزت روزگار کمانے کی ایک کوشش کی۔ انہوں نے گاڑی پر ڈرائیونگ سکھانے کے کام میں بچت نہ ہونے کے بعد اپنی گاڑی میں ایک موبائل ڈھابہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا، اس مقصد کیلیے انہوں نے لوگوں سے ادھار پر برتن اور دیگر سامان خریدا لیکن ضلعی انتظامیہ اور مقامی مافیا نے انہیں ایک دن بھی چین سے کام نہیں کرنے دیا۔

اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو میں طاہرہ حبیب جالب نے کہا کہ وہ بھیک مانگنے یا کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے حبیب جالب کی بیٹی ہونے کا مان رکھتے ہوئے حلال روزگار کمانا چاہتی ہیں۔

ان کے مطابق کام کے پہلے ہی دن شام کو چند افراد ڈھابے پر آئے اور دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ مریم نواز صاحبہ کا آرڈر ہے کہ یہاں کوئی ڈھابہ نہیں لگے گا، اس کے بعد کچھ دوسرے افراد نے یہ تجویز دی کہ وہ خاموشی سے 5 ہزار روپے ہفتہ دے دیں پھر کوئی ان کی طرف دیکھ بھی نہیں سکے گا۔

طاہرہ حبیب جالب نے بتایا کہ انہوں نے ڈھابہ لگانے کیلیے باقاعدہ قانونی اجازت کیلیے 3 جون کو ٹاؤن اور ڈی سی آفس میں درخواستیں جمع کروائی تھیں لیکن مہینے گزرنے کے باوجود متعلقہ حکام نے ان کی درخواست پر کوئی توجہ نہیں دی اور نہ ہی انہیں ماڈل ریڑھی یا کیبن فراہم کیا۔

ان کے مطابق واقعے کے بعد جب میڈیا اور کمشنر و ڈپٹی کمشنر سمیت ضلعی انتظامیہ کی سطح پر ہلچل مچی اور فونز کا سلسلہ شروع ہوا تو میں نے صاف کہہ دیا کہ اب مجھے انتظامیہ کی کسی مدد یا احسان کی کوئی ضرورت نہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ حبیب جالب کی شاعری تو یہ حکمران اور لوگ بڑے شوق سے پڑھتے ہیں، لیکن کیا یہ شاعری پڑھتے وقت کبھی ان سے اجازت لیتے ہیں؟ آج مجھ سے پوچھا جا رہا ہے کہ کام کرنے کیلیے اجازت کیوں نہیں لی؟ کیا اس ملک میں پیدل چلنے، سانس لینے اور جینے کیلیے بھی ان سے اجازت لینا پڑے گی؟


متعلقہ خبریں اور کالم

اے ٹی ایم سے ایک ہزار کی ٹرانزیکشن پر 2 ہزار نکلنے لگے نادرا رجسٹریشن سینٹرز پر پاسپورٹ سے متعلق سہولیات کی فراہمی پر غور 10 روپے کا نوٹ بند کرنے کے حوالے سے اہم خبر آگئی نئے کرنسی نوٹ کب تک آئیں گے؟ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بتا دیا سونے کی قیمت کئی روز کے اضافے کے بعد کم ہوگئی امریکا کے فوجی طیارے کی روس میں لینڈنگ پر سنسنی پھیل گئی