نئے کرنسی نوٹ کب تک آئیں گے؟ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بتا دیا
اسلام آباد (25 اگست 2026): ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان محمد علی ملک کا نئے کرنسی نوٹ کے حوالے سے اہم بیان سامنے آگیا۔
اسلام آباد (25 اگست 2026): ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان محمد علی ملک کا نئے کرنسی نوٹ کے حوالے سے اہم بیان سامنے آگیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا جس میں ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں محمد علی ملک نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کمیٹی کی منظوری کے بعد بھی نئے کرنسی نوٹ لانے میں ایک سال لگ جائے گا۔
10 روپے کا نوٹ ختم کرنے کی سفارش
اس پر سینیٹر عبدالقادر نے سوال کیا کہ ایک 5 ہزار روپے کا کرنسی نوٹ بنانے میں کتنی لاگت آتی ہے؟ محمد علی ملک نے بتایا کہ 5 ہزار کا ایک نوٹ 14 روپے میں بنتا ہے، 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے کی سفارش کی ہے، نئے نوٹ کتنی مالیت تک کے ہوں گے اس کا فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ ہماری سینیٹرشپ کی مدت میں نئے کرنسی نوٹ آ سکیں گے۔
جعلی نوٹ کی تیاری
اجلاس میں حکام نے بتایا کہ اصل کرنسی نوٹ کا ڈیزائن ہاتھ سے بنے گا اور اس کے بعد مشین تیار کرے گی۔ اس پر سلیم مانڈوی والا نے سوال کیا کہ قائمہ کمیٹی کو کسی عالمی نوٹ چھپانے والی کمپنی سے بریفنگ لینا ہوگی؟ نوٹ بنانے میں تو دیر ہوگی مگر اس کی کیا گارنٹی ہوگی کہ جعلی نوٹ تیار نہیں ہوں گے؟
حکام نے بتایا کہ کرنسی نوٹ بنانے کا طریقہ کار مکمل تبدیل کر دیا جائے گا جس سے جعلی نوٹ کی تیاری خاصی کم ہو جائے گی۔