سعودی عرب میں ملازمت کے قوانین کیا ہیں؟
اسلام آباد : سعودی عرب میں کسی بھی غیرملکی کے لیے ملازمت سے متعلق قوانین واضح ہیں، کفیل اگر تنخواہ نہ دے یا معاہدے سے ہٹ کر کام کروائے تو ملازم بعض حالات میں فوری طور پر ملازمت چھوڑ سکتا ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے سعودی عرب میں ملازمت ختم کرنے سے متعلق کارکنوں کے حقوق اور قانونی تحفظات واضح کردیے۔
بیورو کے مطابق سعودی عرب میں ملازمت کا معاہدہ اس وقت ختم کیا جاسکتا ہے جب معاہدے کی مدت پوری ہوجائے، کاروباری سرگرمی مستقل طور پر بند کردی جائے یا ملازم کی جانب سے دھوکہ دہی، جسمانی حملہ، راز افشا کرنے یا مسلسل فرائض انجام دینے سے انکار جیسی انضباطی وجوہات موجود ہوں۔
بیورو کے مطابق اگر آجر یا کفیل بغیر قانونی وجہ کے ملازم کو ملازمت سے برطرف کرے تو ملازم معاوضے کا حق دار ہوگا۔
جاری کردہ معلومات کے مطابق ماہانہ تنخواہ لینے والے ملازمین کو ملازمت ختم کرنے کے لیے 60 دن کا نوٹس دینا ضروری ہے، جبکہ دیگر ملازمین کے لیے نوٹس کی مدت 30 دن مقرر ہے۔
بیورو نے بتایا کہ بعض مخصوص حالات میں ملازم فوری طور پر ملازمت چھوڑنے کا حق رکھتا ہے اور اس کے باوجود اپنے مکمل قانونی حقوق، بشمول معاوضہ اور ملازمت ختم ہونے سے متعلق مراعات، حاصل کرسکتا ہے۔
ایسے حالات میں آجر یا کفیل کی جانب سے تنخواہ ادا نہ کرنا، معاہدے میں طے شدہ فرائض سے مختلف کام سونپنا، ملازم کی عزت و حفاظت کو خطرے میں ڈالنے والے حالات پیدا کرنا اور ایسے حالات پیدا کرنا جو جسمانی یا جذباتی صحت کے لیے نقصان دہ ہوں، شامل ہیں۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی شہریوں کو ملازمت کے معاہدوں اور اپنے قانونی حقوق سے آگاہ رہنے کی ضرورت پر زور دیا ہے