منگل, 25 اگست 2026 | 11 ربیع الاول 1448 ہجری | 10 بھادوں
بریکنگ نیوز
بقایا جات کی وصولی کیلئے گھریلو بجلی کنکشن کاٹنا غیر قانونی قرار معروف برانڈ کے اسٹور سے 3 ہزار کلو فنگس زدہ آئسکریم برآمد ایران پر امریکی پابندیاں، چین کا ردِعمل سامنے آگیا سعودی آرامکو اور فرانسیسی کمپنیوں کے درمیان اربوں ڈالرز کے معاہدے امریکی سفارتخانے نے ویزا بکنگ کا آغاز کردیا اربوں روپے کی لاگت سے بنی سڑک صرف 40 دن میں ہی دھنس گئی غزہ میں اسرائیلی بربریت کا سلسلہ جاری، دو بچوں سمیت مزید پانچ شہید
پاک آئی ڈی ایپ سے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ بنوانے کا آسان طریقہ

پاک آئی ڈی ایپ سے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ بنوانے کا آسان طریقہ

اسلام آباد : نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پنشنرز کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا طریقہ کار واضح کر دیا ہے۔

نادرا کے مطابق شہری پاک آئیڈینٹیٹی موبائل ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں، جس کے بعد یہ سرٹیفکیٹ متعلقہ پنشن فراہم کرنے والے ادارے کو خودکار طور پر بھیج دیا جاتا ہے۔

نادرا کے مطابق سب سے پہلے صارف کو پاک آئیڈینٹیٹی موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرکے اکاؤنٹ بنانا ہوگا۔ اکاؤنٹ بنانے کے دوران صارف کے چہرے کی تصویر اور فنگر پرنٹس لیے جائیں گے۔

اگر فنگر پرنٹس کی تصدیق نہ ہوسکے تو بھی چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق کا عمل مکمل کیا جاسکتا ہے۔



پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کے لیے کیا کرنا ہوگا؟
ایپ میں پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کا آپشن منتخب کرنے کے بعد صارف کو دو اختیارات دیے جائیں گے، جن میں ’مائی سیلف‘ اور ’مائی بلڈ ریلیٹوز‘ شامل ہیں۔

اگر صارف اپنا سرٹیفکیٹ خود حاصل کر رہا ہے تو اسے ’مائی سیلف‘ کا انتخاب کرنا ہوگا، جبکہ والدین، بہن بھائی، شوہر، بیوی یا بچوں کے سرٹیفکیٹ کے لیے ’مائی بلڈ ریلیٹوز‘ کا آپشن استعمال کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ متعلقہ افراد فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (ایف آر سی) میں درج ہوں۔

نادرا کے مطابق اگر متعلقہ پنشن فراہم کرنے والے ادارے کے ریکارڈ کی تصدیق ہوجائے تو درخواست اگلے مرحلے میں داخل ہوجائے گی۔ تاہم ریکارڈ کی تصدیق نہ ہونے کی صورت میں صارف کو متعلقہ ادارے سے رابطہ کرنا ہوگا۔

چہرے کی تصدیق کیسے ہوگی؟
درخواست منظور ہونے کے بعد صارف کو چہرے کی تصدیق کے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے روشن جگہ کا انتخاب اور چہرے کو کیمرے کے فریم میں واضح رکھنا ضروری ہے۔

نادرا کے مطابق ٹوپی، عینک یا ماسک کے ساتھ بنائی گئی تصویر قابل قبول نہیں ہوگی، جبکہ تصویر سفید پس منظر میں لینا ہوگی۔

اس کے بعد فنگر پرنٹس کی تصدیق کا مرحلہ آئے گا۔ اگر فنگر پرنٹس کی تصدیق نہ بھی ہوسکے تو درخواست کو اگلے مرحلے میں منتقل کردیا جائے گا۔

سرٹیفکیٹ موبائل میں محفوظ ہوجائے گا
درخواست کامیابی سے جمع ہونے کے بعد پروف آف لائف سرٹیفکیٹ ایپ میں ظاہر ہوجائے گا، جسے صارف اپنے موبائل فون میں ڈاؤن لوڈ کرکے محفوظ کرسکتا ہے۔

سرٹیفکیٹ ڈاؤن لوڈ ہونے کے بعد اسے دیکھنے کے لیے ہر وقت انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ صارف ایپ کی ہوم اسکرین پر موجود آئی ڈٖی والٹ میں جاکر مائی ڈاکومنٹ کے آپشن سے اپنا پروف آف لائف سرٹیفکیٹ دیکھ سکتا ہے۔

نادرا کے مطابق سرٹیفکیٹ متعلقہ پنشن فراہم کرنے والے ادارے کو خودکار طور پر بھیج دیا جاتا ہے، جس کے باعث شہریوں کو اسے الگ سے جمع کرانے کی ضرورت نہیں رہتی۔

اگر ادارے کا ریکارڈ تصدیق نہ ہو تو؟
نادرا کے مطابق اگر درخواست کے دوران متعلقہ ادارے کا ریکارڈ تصدیق نہ ہوسکے تو اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ پنشن فراہم کرنے والے ادارے اور نادرا کے درمیان پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کے حوالے سے معاہدہ موجود نہ ہو یا ادارے کے پاس پنشنر کا ریکارڈ اپ ڈیٹ نہ ہو۔ ایسی صورت میں پنشنر کو اپنے متعلقہ ادارے سے رابطہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں اور کالم

اے ٹی ایم سے ایک ہزار کی ٹرانزیکشن پر 2 ہزار نکلنے لگے نادرا رجسٹریشن سینٹرز پر پاسپورٹ سے متعلق سہولیات کی فراہمی پر غور مجھ سے کہا گیا 5 ہزار روپے ہفتہ دیں پھر یہ لوگ ڈھابہ لگانے کی اجازت دیں گے: طاہرہ حبیب جالب 10 روپے کا نوٹ بند کرنے کے حوالے سے اہم خبر آگئی نئے کرنسی نوٹ کب تک آئیں گے؟ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بتا دیا سونے کی قیمت کئی روز کے اضافے کے بعد کم ہوگئی