جمعہ, 28 اگست 2026 | 14 ربیع الاول 1448 ہجری | 13 بھادوں
بریکنگ نیوز
نیپال اور تبت میں ہولناک سیلابی ریلا، 157 افراد ہلاک، درجنوں لاپتا پمز اسپتال آتشزدگی، وزیراعظم کا حکام کو فوری تحقیقات کا حکم واٹس ایپ نے اکاؤنٹ سیکورٹی میں بڑی تبدیلیاں کر دیں ’’ای پنشن پورٹل‘‘ ریٹائرڈ ملازمین کو بڑی سہولت فراہم کر دی گئی امریکا میں لبلبے کے کینسر کی انقلابی دوا منظور، قیمت کتنی ہے؟ جاپان: 400 ٹن وزنی تاریخی محل کو انسانی ہاتھوں سے کھینچ کر اصل جگہ منتقلی! عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 86.70 ڈالر فی بیرل پر آگئی
وعدہ ہے میر رضا قتل کیس کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر چلائیں گے، سربراہ کمیشن

وعدہ ہے میر رضا قتل کیس کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر چلائیں گے، سربراہ کمیشن

کراچی(28 اگست 2026): میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے کہا ہے کہ وعدہ ہے کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل جوڈیشل کمیشن نے میر رضا قتل کیس کی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جس دوران کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے کو شفاف انداز میں چلایا جائے گا اور کمیشن کی مدت کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ سمیت کسی سے ملاقات نہیں کی جائے گی۔

کمیشن کے روبرو اظہارِ خیال کرتے ہوئے جسٹس عمر سیال نے مقتول کے والد سے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ پچھلے دس برس سے قتل کے کیسز چلا رہے ہیں، اس لیے اہل خانہ کی تکلیف کا مکمل احساس ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کمیشن کا مقصد انکوائری اور انویسٹی گیشن کے فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش کے نقائص، پولیس کی کارروائی اور غفلت کا جائزہ لینا ہے، اور کمیشن خود تفتیش نہیں کرے گا بلکہ غلطیوں کی نشاندہی اور تجاویز دے گا۔

مقتول کے وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ میر رضا 28 جولائی کو دوپہر 4 بجے گھر سے روانہ ہوئے اور آخری بار 4:38 پر سی سی ٹی وی میں دیکھے گئے۔ ان کی لاش 29 جولائی کو دن 11:52 پر نرسری کے دو ملازمین (یاسر اور قیصر) نے دیکھی، جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور لاش جناح اسپتال منتقل کی گئی۔

وکیل کا کہنا تھا کہ لاش ملنے سے قبل ہی اغوا کا مقدمہ درج ہو چکا تھا، تاہم پرانی انویسٹی گیشن ٹیم نے مجرمانہ غفلت برتی، اور گزشتہ روز اہل خانہ کی مدد کرنے والے 20 افراد کے خلاف شارع فیصل پر ‘جسٹس فار رضا’ کے نعرے لگانے پر مقدمہ بھی درج کر لیا گیا۔

جوڈیشل کمیشن نے کارروائی کے دوران اہم احکامات جاری کرتے ہوئے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ وہ معلومات دینے والے کے لیے ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کرے اور اس سلسلے میں اردو، انگریزی اور سندھی اخبارات میں اشتہارات شائع کروائے جائیں۔

کمیشن نے پولیس افسران، ڈاکٹرز کی فہرست، گواہان کے بیانات، میڈیکل رپورٹس اور اصل دستاویزات طلب کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچنے والے دو پولیس اہلکاروں، ایمبولینس ڈرائیورز (محسن اور جاوید)، لاش دیکھنے والے نرسری کے دو ملازمین اور ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ شیخ کو بھی نوٹس جاری کر کے طلب کر لیا ہے۔

کمیشن نے متعلقہ فریقین کو کل تک تمام دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں اور کالم

سپریم کورٹ نے ملازمین کی سینیارٹی کے کیس کا فیصلہ سنا دیا موبائل بیلنس کی کم از کم میعاد مقرر روسی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل کار بم دھماکے میں ہلاک امریکی صدر نے خود کو امریکا کا عظیم ترین صدر قرار دے دیا امریکی سینٹکام کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے متعلق اہم بیان متحدہ عرب امارات میں ملازمت کے ویزا سے متعلق اہم خبر