ڈاک کے ذریعے ووٹنگ، سپریم کورٹ کا ٹرمپ کے حق میں بڑا فیصلہ
واشنگٹن (25 اگست 2026): امریکی سپریم کورٹ نے الیکشن سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں بڑا فیصلہ کیا ہے، ٹرمپ کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے قواعد میں تبدیلیوں کی اجازت مل گئی۔
امریکی سپریم کورٹ نے پیر کے روز ایک حکم میں کہا ہے کہ صدرِ ٹرمپ آئندہ مڈ ٹرم الیکشن سے صرف چند ماہ قبل ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے بیلٹ کو محدود کرنے والا ایک انتظامی حکم نافذ کر سکتے ہیں۔
یہ فیصلہ رواں سال کے انتخابات کا نقشہ بدل سکتا ہے، خصوصاً واشنگٹن جیسی ریاستوں میں جہاں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ رائج ہے۔ واشنگٹن کی تمام کاؤنٹیاں 2011 سے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کرتی آ رہی ہیں۔ تاہم قانونی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، اور اس فیصلے کے حقیقی اثرات ابھی پوری طرح واضح نہیں ہیں۔
سپریم کورٹ نے 6-3 سے صدارتی حکم کے خلاف وفاقی عدالت کا فیصلہ مسترد کیا، صدر ٹرمپ نے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے عمل میں بڑی تبدیلیوں کا حکم جاری کیا تھا، اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے لیے اہل ووٹرز کی وفاقی فہرست تیار کرنے کا حکم دیا تھا، اور امریکی پوسٹل سروس سے کہا تھا کہ وہ صرف ان ووٹروں کے بیلٹ قبول کرے جو ان فہرستوں میں شامل ہوں۔ دوسری طرف ڈیموکریٹک ریاستوں کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر انتخابی عمل میں مداخلت ہے۔
یہ فیصلہ رواں سال کے انتخابات کا نقشہ بدل سکتا ہے، خصوصاً واشنگٹن جیسی ریاستوں میں جہاں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ رائج ہے۔ واشنگٹن کی تمام کاؤنٹیاں 2011 سے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کرتی آ رہی ہیں۔ تاہم قانونی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، اور اس فیصلے کے حقیقی اثرات ابھی پوری طرح واضح نہیں ہیں۔
سپریم کورٹ نے 6-3 سے صدارتی حکم کے خلاف وفاقی عدالت کا فیصلہ مسترد کیا، صدر ٹرمپ نے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے عمل میں بڑی تبدیلیوں کا حکم جاری کیا تھا، اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے لیے اہل ووٹرز کی وفاقی فہرست تیار کرنے کا حکم دیا تھا، اور امریکی پوسٹل سروس سے کہا تھا کہ وہ صرف ان ووٹروں کے بیلٹ قبول کرے جو ان فہرستوں میں شامل ہوں۔ دوسری طرف ڈیموکریٹک ریاستوں کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر انتخابی عمل میں مداخلت ہے۔