منگل, 25 اگست 2026 | 11 ربیع الاول 1448 ہجری | 10 بھادوں
بریکنگ نیوز
بقایا جات کی وصولی کیلئے گھریلو بجلی کنکشن کاٹنا غیر قانونی قرار معروف برانڈ کے اسٹور سے 3 ہزار کلو فنگس زدہ آئسکریم برآمد ایران پر امریکی پابندیاں، چین کا ردِعمل سامنے آگیا سعودی آرامکو اور فرانسیسی کمپنیوں کے درمیان اربوں ڈالرز کے معاہدے امریکی سفارتخانے نے ویزا بکنگ کا آغاز کردیا اربوں روپے کی لاگت سے بنی سڑک صرف 40 دن میں ہی دھنس گئی غزہ میں اسرائیلی بربریت کا سلسلہ جاری، دو بچوں سمیت مزید پانچ شہید
اربوں روپے کی لاگت سے بنی سڑک صرف 40 دن میں ہی دھنس گئی

اربوں روپے کی لاگت سے بنی سڑک صرف 40 دن میں ہی دھنس گئی

(25 اگست 2026): کھربوں روپے کی لاگت سے بنی ایکسپریس وے صرف 40 دن میں کئی مقامات پر دھنس گئی اور مسافروں کے لیے مسافروں کے لیے سفر خطرناک ہو گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کثیر لاگت سے یہ ناقص سڑک بھارتی شہر کانپور میں بنائی گئی تھی۔ لکھنو ایکسپریس وے کی تعمیر پر 4200 کروڑ بھارتی روپے (پاکستانی ایک کھرب 39 ارب روپے) لاگت آئی تھی۔

تاہم اپنی تعمیر کے صرف 40 روز کے اندر ہی مذکورہ ایکسپریس وے کم از کم پانچ مقامات پر دھنس چکی ہے اور آئے روز کسی نہ کسی مقام پر سڑک کے دھنسنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

4200 کروڑ سے بنی ایکسپریس وے پر سفر اب محفوظ نہیں، 5 مقامات پر سڑک دھنس گئی

مذکورہ ایکسپریس وے کا افتتاح رواں برس 13 جولائی کو ہوا تھا۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، مرکزی وزیر نتن گڈکری اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بڑے طمطراق اور دعووں کے ساتھ اس شاہراہ کا افتتاح کیا تھا۔

14 جولائی سے اس پر گاڑیوں کی آمد و رفت شروع ہوئی تھی۔ تاہم ٹریفک شروع ہوتے ہی ایکسپریس وے ٹوٹنے اور دھنسنے لگا۔ 40 دن گزر جانے کے بعد ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا جب ایکسپریس وے کو نقصان نہ پہنچا ہو۔ انڈر پاس کے قریب بنائی گئی نالی 24 گھنٹے بھی نہیں چل پائی اور مٹی بہہ جانے سے رین کٹ بن گئے۔

جگہ جگہ سے شاہراہ کے دھنسنے پر تعمیراتی ایجنسی پی این سی نے ہفتہ کو عجلت میں مرمت کرائی تھی، لیکن یہ نالی اتوار کو ہی اکھڑ گئی۔ بچھایا گیا ڈامر بہہ گیا۔ اتنا ہی نہیں، ایک گاؤں کے سامنے بارش کے پانی سے سڑک کنارے کی مٹی بہہ جانے سے رین کٹ بن گیا۔

دوسری جانب لکھنؤ ایکسپریس وے کی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے تعمیراتی ایجنسی نے اب رات کے وقت پیچ ورک اور دیگر مرمتی کام شروع کرا دیا ہے۔

کثیر لاگت سے بنی ایکسپریس وے کی صرف 40 دن میں تباہ حالی کے باوجود ریاستی اور مرکزی حکومت کی جانب سے تعمیراتی کمپنی کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں اور کالم

اے ٹی ایم سے ایک ہزار کی ٹرانزیکشن پر 2 ہزار نکلنے لگے نادرا رجسٹریشن سینٹرز پر پاسپورٹ سے متعلق سہولیات کی فراہمی پر غور مجھ سے کہا گیا 5 ہزار روپے ہفتہ دیں پھر یہ لوگ ڈھابہ لگانے کی اجازت دیں گے: طاہرہ حبیب جالب 10 روپے کا نوٹ بند کرنے کے حوالے سے اہم خبر آگئی نئے کرنسی نوٹ کب تک آئیں گے؟ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بتا دیا سونے کی قیمت کئی روز کے اضافے کے بعد کم ہوگئی