16 سال سے کم عمر بچی کی شادی اور رخصتی پر پابندی عائد
پشاور کی عدالت نے پھندو میں 13 سالہ بچی کی زبردستی شادی کے واقعے پر حکم نامہ جاری کردیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق پشاور کی عدالت نے 16 سال سے کم عمر بچی کی شادی اور رخصتی پر پابندی عائد کردی ہے۔
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بچی کی عمر 16 سال ہونے تک شادی یا رخصتی نہیں کی جائے گی، بچی کے والد نے 16 سال سے پہلے رخصتی نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
چائلد پروٹیکشن یونٹ نے 13 سال 6 ماہ کی بچی کو مل کر بازیاب کراویا تھا جبکہ چائلڈ پروٹیکشن آفیسر عدالت میں بچی کی حفاظت سے متعلق سہ ماہی رپورٹ جمع کروائیں گے۔
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ معاملے کے فالو اپ کے لیے عدالت میں الگ فائل کھولی جائے۔
واضح رہے کہ بچی کی محفوظ تحویل اور تحفظ کے لیے چائلڈ پروٹیکشن آفیسر نے درخواست دائر کی تھی، عدالت میں بچی کے والد، دادا، دادی اور وکیل محمد ارشاد مہمند ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
بچی اہلخانہ نے شادی کے الزامات کی تردید کی صرف منگنی کی تقریب کا دعویٰ کیا جبکہ بچی کو قانونی کارروائی کے دوران عارضی طور پر ’زمونگ کور‘ میں رکھا گیا تھا۔
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بچی کی عمر 16 سال ہونے تک شادی یا رخصتی نہیں کی جائے گی، بچی کے والد نے 16 سال سے پہلے رخصتی نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
چائلد پروٹیکشن یونٹ نے 13 سال 6 ماہ کی بچی کو مل کر بازیاب کراویا تھا جبکہ چائلڈ پروٹیکشن آفیسر عدالت میں بچی کی حفاظت سے متعلق سہ ماہی رپورٹ جمع کروائیں گے۔
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ معاملے کے فالو اپ کے لیے عدالت میں الگ فائل کھولی جائے۔
واضح رہے کہ بچی کی محفوظ تحویل اور تحفظ کے لیے چائلڈ پروٹیکشن آفیسر نے درخواست دائر کی تھی، عدالت میں بچی کے والد، دادا، دادی اور وکیل محمد ارشاد مہمند ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
بچی اہلخانہ نے شادی کے الزامات کی تردید کی صرف منگنی کی تقریب کا دعویٰ کیا جبکہ بچی کو قانونی کارروائی کے دوران عارضی طور پر ’زمونگ کور‘ میں رکھا گیا تھا۔