قانون کی کرسی پر خواہش نہیں، ضابطہ بیٹھتا ہے
کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد صرف آئین، قوانین یا بلند و بالا عمارتوں پر نہیں ہوتی، بلکہ اس یقین پر قائم ہوتی ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ جب فیصلے ضابطوں کے مطابق ہونے لگیں تو انصاف مضبوط ہوتا ہے، لیکن جب خواہشات قانون سے آگے نکل جائیں تو ریاست کی بنیادیں ہلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ معاشرے کی تباہی اُس دن شروع نہیں ہوتی جب کوئی جرم ہوتا ہے، بلکہ اُس دن شروع ہوتی ہے جب لوگ اپنے عہدے، پیشے،
کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد صرف آئین، قوانین یا بلند و بالا عمارتوں پر نہیں ہوتی، بلکہ اس یقین پر قائم ہوتی ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ جب فیصلے ضابطوں کے مطابق ہونے لگیں تو انصاف مضبوط ہوتا ہے، لیکن جب خواہشات قانون سے آگے نکل جائیں تو ریاست کی بنیادیں ہلنا شروع ہو جاتی ہیں۔
معاشرے کی تباہی اُس دن شروع نہیں ہوتی جب کوئی جرم ہوتا ہے، بلکہ اُس دن شروع ہوتی ہے جب لوگ اپنے عہدے، پیشے، تعلقات یا اثر و رسوخ کو قانون سے بڑا سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر ہر شخص اپنے لیے الگ انصاف چاہتا ہے، الگ قانون چاہتا ہے، اور الگ رعایت کا طالب ہوتا ہے۔ یہی سوچ اداروں کو کمزور کرتی ہے۔
ذرا سوچیے!!!
اگر کوئی مریض ڈاکٹر کے پاس جائے اور اصرار کرے کہ “میرا فوراً آپریشن کریں” تو کیا ایک ذمہ دار ڈاکٹر صرف مریض کی خواہش پر آپریشن کر دے گا؟ ہرگز نہیں۔ پہلے معائنہ ہوگا، ٹیسٹ ہوں گے، تشخیص ہوگی، پھر علاج کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر ڈاکٹر جلد بازی کرے تو اسے غفلت کہا جائے گا، مہارت نہیں۔
اگر کوئی شخص عدالت میں جا کر جج سے کہے کہ “دوسرے فریق کو سنے بغیر میرے حق میں فیصلہ لکھ دیں” تو کیا کوئی منصف ایسا کرے گا؟ اگر کرے تو وہ انصاف نہیں، انصاف کا قتل ہوگا۔
اگر ایک انجینئر سے کہا جائے کہ “نقشہ بعد میں دیکھ لینا، پہلے عمارت کی منظوری دے دو”، تو کیا کوئی ذمہ دار انجینئر ایسا کرے گا؟ یقیناً نہیں، کیونکہ ایک غلط منظوری کسی بھی وقت انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
جب ہر شعبے میں ضابطہ، تحقیق اور طریقۂ کار بنیادی شرط ہیں، تو پھر پولیس سے یہ توقع کیوں رکھی جاتی ہے کہ وہ ہر درخواست پر بغیر جانچ پڑتال کے فوراً مقدمہ درج کر دے؟
یہ سوال صرف پولیس کا نہیں، ریاست کی قانونی سوچ کا ہے۔
ایف آئی آر کسی کی خواہش، غصے یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ قانون کے تقاضوں کے مطابق درج ہوتی ہے۔ بعض معاملات میں ابتدائی جانچ پڑتال نہ صرف قانونی تقاضا ہوتی ہے بلکہ بے گناہ افراد کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی۔ اگر ہر درخواست بغیر تحقیق کے مقدمہ بن جائے تو کل ہر شہری صرف کسی کی ناراضی یا ذاتی دشمنی کی بنیاد پر ملزم بن سکتا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک نئی روش جنم لے رہی ہے۔ ہم قانون کی بالادستی کے حامی اس وقت تک ہوتے ہیں جب تک قانون ہمارے حق میں ہو۔ جیسے ہی قانون ہم سے بھی ثبوت، ضابطے یا انتظار کا تقاضا کرتا ہے، ہمیں وہی قانون ناانصافی محسوس ہونے لگتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ بعض اوقات ہم اپنے پیشوں کی عزت کو اپنی دلیل بنانے کے بجائے دباؤ کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ حالانکہ ایک استاد کی عظمت اس کے کردار میں ہے، ایک وکیل کی طاقت اس کی دلیل میں، ایک صحافی کا وقار اس کی سچائی میں، ایک ڈاکٹر کی پہچان اس کی دیانت میں، اور ایک پولیس افسر کی شناخت اس کی قانون پسندی میں۔
جب یہ پیشے اپنی حدود سے نکل کر ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے لگیں تو ادارے کمزور ہو جاتے ہیں اور ریاست آہستہ آہستہ شخصیات کے رحم و کرم پر آ جاتی ہے۔
اربابِ اختیار کو آج ایک بنیادی سوال اپنے سامنے رکھنا ہوگا۔
اگر کوئی پولیس افسر قانون اور ضابطے کے مطابق فوری مقدمہ درج کرنے کے بجائے پہلے حقائق کی جانچ کرنا چاہتا ہے، تو کیا اسے قصوروار سمجھا جائے؟ یا پھر وہ اپنے حلف، اپنے ضابطے اور اپنے فرائض کا پابند ہے؟
ہمیں یہ فیصلہ صرف ایک واقعے کے تناظر میں نہیں، بلکہ آنے والے کل کے لیے کرنا ہے۔
اگر آج قانون کے مطابق کام کرنے والے افسر کو تنہا چھوڑ دیا گیا، تو کل کوئی بھی سرکاری ملازم قانون پر عمل کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ پھر ہر فیصلہ قانون کی کتاب سے نہیں، بلکہ دباؤ، تعلقات اور طاقت کے ترازو میں تولا جائے گا۔
ریاستیں خواہشات سے نہیں، قوانین سے چلتی ہیں۔ ادارے دباؤ سے نہیں، اصولوں سے مضبوط ہوتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں ایک منصفانہ پاکستان دیکھیں تو ہمیں ان افسروں کی پشت پر کھڑا ہونا ہوگا جو شخصیات نہیں، قانون کو ترجیح دیتے ہیں۔
کیونکہ قانون کی کرسی پر اگر ضابطے کے بجائے خواہش بیٹھ جائے، تو انصاف کھڑا نہیں رہ سکتا۔
اور جس دن انصاف کمزور پڑ گیا، اُس دن شکست کسی ایک ادارے کی نہیں ہوگی، پوری ریاست کی ہوگی
معاشرے کی تباہی اُس دن شروع نہیں ہوتی جب کوئی جرم ہوتا ہے، بلکہ اُس دن شروع ہوتی ہے جب لوگ اپنے عہدے، پیشے، تعلقات یا اثر و رسوخ کو قانون سے بڑا سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر ہر شخص اپنے لیے الگ انصاف چاہتا ہے، الگ قانون چاہتا ہے، اور الگ رعایت کا طالب ہوتا ہے۔ یہی سوچ اداروں کو کمزور کرتی ہے۔
ذرا سوچیے!!!
اگر کوئی مریض ڈاکٹر کے پاس جائے اور اصرار کرے کہ “میرا فوراً آپریشن کریں” تو کیا ایک ذمہ دار ڈاکٹر صرف مریض کی خواہش پر آپریشن کر دے گا؟ ہرگز نہیں۔ پہلے معائنہ ہوگا، ٹیسٹ ہوں گے، تشخیص ہوگی، پھر علاج کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر ڈاکٹر جلد بازی کرے تو اسے غفلت کہا جائے گا، مہارت نہیں۔
اگر کوئی شخص عدالت میں جا کر جج سے کہے کہ “دوسرے فریق کو سنے بغیر میرے حق میں فیصلہ لکھ دیں” تو کیا کوئی منصف ایسا کرے گا؟ اگر کرے تو وہ انصاف نہیں، انصاف کا قتل ہوگا۔
اگر ایک انجینئر سے کہا جائے کہ “نقشہ بعد میں دیکھ لینا، پہلے عمارت کی منظوری دے دو”، تو کیا کوئی ذمہ دار انجینئر ایسا کرے گا؟ یقیناً نہیں، کیونکہ ایک غلط منظوری کسی بھی وقت انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
جب ہر شعبے میں ضابطہ، تحقیق اور طریقۂ کار بنیادی شرط ہیں، تو پھر پولیس سے یہ توقع کیوں رکھی جاتی ہے کہ وہ ہر درخواست پر بغیر جانچ پڑتال کے فوراً مقدمہ درج کر دے؟
یہ سوال صرف پولیس کا نہیں، ریاست کی قانونی سوچ کا ہے۔
ایف آئی آر کسی کی خواہش، غصے یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ قانون کے تقاضوں کے مطابق درج ہوتی ہے۔ بعض معاملات میں ابتدائی جانچ پڑتال نہ صرف قانونی تقاضا ہوتی ہے بلکہ بے گناہ افراد کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی۔ اگر ہر درخواست بغیر تحقیق کے مقدمہ بن جائے تو کل ہر شہری صرف کسی کی ناراضی یا ذاتی دشمنی کی بنیاد پر ملزم بن سکتا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک نئی روش جنم لے رہی ہے۔ ہم قانون کی بالادستی کے حامی اس وقت تک ہوتے ہیں جب تک قانون ہمارے حق میں ہو۔ جیسے ہی قانون ہم سے بھی ثبوت، ضابطے یا انتظار کا تقاضا کرتا ہے، ہمیں وہی قانون ناانصافی محسوس ہونے لگتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ بعض اوقات ہم اپنے پیشوں کی عزت کو اپنی دلیل بنانے کے بجائے دباؤ کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ حالانکہ ایک استاد کی عظمت اس کے کردار میں ہے، ایک وکیل کی طاقت اس کی دلیل میں، ایک صحافی کا وقار اس کی سچائی میں، ایک ڈاکٹر کی پہچان اس کی دیانت میں، اور ایک پولیس افسر کی شناخت اس کی قانون پسندی میں۔
جب یہ پیشے اپنی حدود سے نکل کر ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے لگیں تو ادارے کمزور ہو جاتے ہیں اور ریاست آہستہ آہستہ شخصیات کے رحم و کرم پر آ جاتی ہے۔
اربابِ اختیار کو آج ایک بنیادی سوال اپنے سامنے رکھنا ہوگا۔
اگر کوئی پولیس افسر قانون اور ضابطے کے مطابق فوری مقدمہ درج کرنے کے بجائے پہلے حقائق کی جانچ کرنا چاہتا ہے، تو کیا اسے قصوروار سمجھا جائے؟ یا پھر وہ اپنے حلف، اپنے ضابطے اور اپنے فرائض کا پابند ہے؟
ہمیں یہ فیصلہ صرف ایک واقعے کے تناظر میں نہیں، بلکہ آنے والے کل کے لیے کرنا ہے۔
اگر آج قانون کے مطابق کام کرنے والے افسر کو تنہا چھوڑ دیا گیا، تو کل کوئی بھی سرکاری ملازم قانون پر عمل کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ پھر ہر فیصلہ قانون کی کتاب سے نہیں، بلکہ دباؤ، تعلقات اور طاقت کے ترازو میں تولا جائے گا۔
ریاستیں خواہشات سے نہیں، قوانین سے چلتی ہیں۔ ادارے دباؤ سے نہیں، اصولوں سے مضبوط ہوتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں ایک منصفانہ پاکستان دیکھیں تو ہمیں ان افسروں کی پشت پر کھڑا ہونا ہوگا جو شخصیات نہیں، قانون کو ترجیح دیتے ہیں۔
کیونکہ قانون کی کرسی پر اگر ضابطے کے بجائے خواہش بیٹھ جائے، تو انصاف کھڑا نہیں رہ سکتا۔
اور جس دن انصاف کمزور پڑ گیا، اُس دن شکست کسی ایک ادارے کی نہیں ہوگی، پوری ریاست کی ہوگی