پیر, 17 اگست 2026 | 3 ربیع الاول 1448 ہجری | 2 بھادوں
بریکنگ نیوز
ٹرمپ کا قوم سے خطاب: ایران کو "قدیم دور" میں دھکیلنے کی دھمکی، جنگی مقاصد کی تکمیل کا دعویٰ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا، جس کے بعد مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے برطانیہ کی قیادت میں 40 ممالک کا اتحاد سرگرم ہو گیا ہے اور مشترکہ فوجی و سفارتی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے پاکستان اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں اقوام متحدہ نے لبنان میں امن دستوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے جبکہ فرانسیسی پولیس نے یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن کو حراست میں لے لیا ہے عراق 40 سال اور ترکیہ 24 سال کے طویل وقفے کے بعد فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں قطر کی اہم ایل این جی تنصیبات پر حملوں کے بعد گیس کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر توانائی بحران کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق قطر کی گیس سپلائی میں کمی دنیا بھر میں قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
آزادی کا دن… کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

آزادی کا دن… کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

گلیاں سبز ہلالی پرچموں سے سجی ہوئی ہیں، گھروں کی چھتوں پر پرچم لہرا رہے ہیں، گاڑیوں پر جھنڈے ہیں، بچوں کے ہاتھوں میں سبز و سفید رنگ ہیں اور ہر طرف ایک ہی نعرہ سنائی دے رہا ہے

آج چودہ اگست ہے۔

گلیاں سبز ہلالی پرچموں سے سجی ہوئی ہیں، گھروں کی چھتوں پر پرچم لہرا رہے ہیں، گاڑیوں پر جھنڈے ہیں، بچوں کے ہاتھوں میں سبز و سفید رنگ ہیں اور ہر طرف ایک ہی نعرہ سنائی دے رہا ہے:

پاکستان زندہ باد!

یہ سب دیکھ کر دل خوش بھی ہوتا ہے اور فخر سے بھر بھی جاتا ہے۔ یہ وطن ہمارے بزرگوں کی بے شمار قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی، گھر چھوڑے، مال و اسباب چھوڑے، اپنوں سے بچھڑے اور بہت سے لوگوں نے اپنی جانیں تک قربان کر دیں تاکہ آنے والی نسلیں ایک آزاد ملک میں زندگی گزار سکیں۔
لیکن آج، جشنِ آزادی کے اس دن، میرے ذہن میں ایک سوال بار بار اٹھ رہا ہے۔
کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟
کیا آزادی صرف یہ ہے کہ ہم سبز ہلالی پرچم لہرا سکیں؟
کیا آزادی صرف یہ ہے کہ چودہ اگست کو سڑکوں پر نکلیں، ملی نغمے سنیں اور موٹر سائیکلوں پر جھنڈے لگا کر پورا شہر گھومیں؟
یا آزادی کا مطلب کچھ اور بھی ہے؟
میرے خیال میں آزادی صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں۔ آزادی دراصل اس احساس کا نام ہے کہ ایک عام شہری اپنے ملک میں عزت، انصاف اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکے۔
وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھا سکے۔
وہ سوال پوچھ سکے۔
وہ غلط کو غلط کہہ سکے۔
وہ اپنے بچے کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھ سکے۔
وہ بیمار ہو تو علاج کرا سکے۔
وہ بجلی کا بل ادا کرنے کے بعد گھر کا چولہا بھی جلا سکے۔
وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دے سکے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے انصاف کے حصول کے لیے اپنی حیثیت، تعلقات یا سفارش کا سہارا نہ لینا پڑے۔
اگر ایک غریب آدمی اپنے بنیادی حقوق کے لیے دروازے کھٹکھٹاتا رہے اور اسے صرف اس لیے نہ سنا جائے کہ اس کے پاس طاقت نہیں، تو پھر ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ ہماری آزادی کہاں کھڑی ہے؟
آزادی کا دن دراصل جشن سے زیادہ احتساب کا دن ہونا چاہیے۔
ہمیں صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا؛ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم نے پاکستان کو کیا دیا۔
آج ملک کے ہر بااختیار عہدیدار کو اپنے آپ سے ایک سوال کرنا چاہیے۔
جس کرسی پر میں بیٹھا ہوں، کیا وہ میرے اختیار کے لیے ہے یا عوام کی خدمت کے لیے؟
جس قلم سے میں دستخط کرتا ہوں، کیا وہ کسی مستحق کا حق دلانے کے لیے استعمال ہوتا ہے یا کسی کمزور کی زندگی مزید مشکل بنانے کے لیے؟
جس اختیار کی ذمہ داری مجھے دی گئی ہے، کیا میں اسے امانت سمجھتا ہوں یا اپنی طاقت؟
یہ سوال صرف کسی ایک ادارے یا ایک طبقے سے نہیں۔
یہ سوال ہر وزیر، ہر رکنِ اسمبلی، ہر سرکاری افسر، ہر پولیس افسر، ہر استاد، ہر ڈاکٹر، ہر جج، ہر صحافی، ہر تاجر اور ہر اس شخص سے ہے جسے معاشرے میں کسی نہ کسی شکل میں اختیار حاصل ہے۔
کیونکہ ریاست صرف ایوانِ اقتدار کا نام نہیں۔
ریاست ہم سب کا نام ہے۔
آج اگر کوئی پولیس افسر کسی طاقتور کے بجائے قانون کو ترجیح دیتا ہے تو وہ بھی پاکستان کی خدمت کر رہا ہے۔
اگر کوئی استاد سفارش کے بجائے میرٹ پر طالب علم کا حق دیتا ہے تو وہ بھی پاکستان بنا رہا ہے۔
اگر کوئی ڈاکٹر غریب مریض کو صرف اس لیے نظر انداز نہیں کرتا کہ وہ فیس ادا نہیں کر سکتا تو وہ بھی پاکستان کی خدمت کر رہا ہے۔
اگر کوئی صحافی دباؤ کے باوجود سچ لکھتا ہے تو وہ بھی آزادی کا حق ادا کر رہا ہے۔
اگر کوئی جج کسی طاقتور کے سامنے جھکنے کے بجائے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہے تو وہ بھی اس ملک کے قیام کے مقصد کی حفاظت کر رہا ہے۔
اور اگر ایک عام شہری رشوت دینے سے انکار کرتا ہے، ٹریفک قانون کی پابندی کرتا ہے، ٹیکس ادا کرتا ہے، اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرتا ہے اور دوسرے کے حق کا احترام کرتا ہے تو وہ بھی ایک بہتر پاکستان کی بنیاد رکھ رہا ہے۔
ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ملک میں کچھ ٹھیک نہیں۔
حکومت ٹھیک نہیں۔
ادارے ٹھیک نہیں۔
سیاست ٹھیک نہیں۔
نظام ٹھیک نہیں۔
لیکن شاید ہمیں کبھی کبھی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہم خود کتنے ٹھیک ہیں؟
ہمیں ہر چیز حکومت سے چاہیے، مگر اپنی ذمہ داری کوئی ادا نہیں کرنا چاہتا۔
ہم قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں، مگر جب قانون ہماری مرضی کے خلاف ہو تو ہم سفارش تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

ہم میرٹ چاہتے ہیں، مگر اپنے بچے کے لیے میرٹ سے پہلے اپنا تعلق استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
ہم کرپشن کے خلاف تقریریں کرتے ہیں، لیکن معمولی کام کے لیے بھی رشوت دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔
یہ تضاد ختم کیے بغیر پاکستان حقیقی معنوں میں آزاد نہیں ہو سکتا۔
آزادی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہمارے اوپر کسی دوسرے ملک کا پرچم نہیں لہرتا۔
آزادی کا اصل مطلب یہ ہے کہ ہمارے فیصلے انصاف، قانون، میرٹ اور عوامی فلاح کے اصولوں کے مطابق ہوں۔
آج چودہ اگست کے دن ہمیں ایک اور عہد کرنا چاہیے۔
ہر بااختیار شخص اپنے اختیار کو امانت سمجھے۔
ہر ادارہ اپنے آئینی دائرے میں رہ کر کام کرے۔
ہر افسر اپنے منصب کو عوام کی خدمت کا ذریعہ سمجھے۔
ہر شہری اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی یاد رکھے۔
اور ہم سب یہ عہد کریں کہ پاکستان کو صرف نعروں میں نہیں، اپنے کردار میں بھی زندہ رکھیں گے۔
ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں کسی غریب باپ کو اپنے بچے کے علاج اور بجلی کے بل میں سے ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے۔
ایسا پاکستان جہاں کسی بیوہ کو اپنے حق کے لیے در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔
ایسا پاکستان جہاں نوجوان ڈگری ہاتھ میں لے کر سفارش کی تلاش میں نہ پھرے۔
ایسا پاکستان جہاں کسی شہری کو انصاف حاصل کرنے کے لیے طاقتور کا دروازہ نہ کھٹکھٹانا پڑے۔
ایسا پاکستان جہاں قانون کی نظر میں امیر اور غریب برابر ہوں۔
شاید یہی وہ پاکستان تھا جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔
آج پرچم لہراتے ہوئے ہمیں صرف یہ نہیں کہنا چاہیے:
پاکستان زندہ باد۔
بلکہ اپنے عمل سے یہ ثابت بھی کرنا چاہیے کہ ہم پاکستان کو زندہ رکھنے کے قابل ہیں۔
آزادی صرف جشن منانے کا نام نہیں۔
آزادی ایک ذمہ داری ہے۔
اور آج چودہ اگست کے دن اگر ہر بااختیار شخص اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر صرف اتنا عہد کر لے کہ “میں اپنے اختیار کو ذاتی مفاد نہیں، عوام کی امانت سمجھوں گا” تو شاید یہی اس ملک کے ساتھ سب سے خوبصورت تجدیدِ عہد ہوگی۔
پرچم ہر سال لہراتا رہے گا۔
جشن ہر سال منایا جائے گا۔
ملی نغمے ہر سال بجیں گے۔
مگر اصل جشن اُس دن ہوگا جب پاکستان کا عام شہری اپنے دل سے کہے گا:
ہاں، اب میں صرف آزاد ملک میں نہیں، ایک منصفانہ معاشرے میں بھی رہتا ہوں۔

پاکستان زندہ ب

متعلقہ خبریں اور کالم

جب قوم جاگتی ہے تو فیصلے بدل جاتے ہیں۔ مون سون… غریب کے لیے رحمت یا ہر سال کا عذاب؟ قانون کی کرسی پر خواہش نہیں، ضابطہ بیٹھتا ہے وینزیلا ماصی کے ساءے اور مستقبل کا اندیشہ ہر لمحہ اک مکتب ۔۔۔ہر لمحہ اک سطر پھاٹک جو وقت کی راہ میں کھڑا ہے