پیر, 17 اگست 2026 | 3 ربیع الاول 1448 ہجری | 2 بھادوں
بریکنگ نیوز
ٹرمپ کا قوم سے خطاب: ایران کو "قدیم دور" میں دھکیلنے کی دھمکی، جنگی مقاصد کی تکمیل کا دعویٰ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا، جس کے بعد مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے برطانیہ کی قیادت میں 40 ممالک کا اتحاد سرگرم ہو گیا ہے اور مشترکہ فوجی و سفارتی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے پاکستان اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں اقوام متحدہ نے لبنان میں امن دستوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے جبکہ فرانسیسی پولیس نے یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن کو حراست میں لے لیا ہے عراق 40 سال اور ترکیہ 24 سال کے طویل وقفے کے بعد فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں قطر کی اہم ایل این جی تنصیبات پر حملوں کے بعد گیس کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر توانائی بحران کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق قطر کی گیس سپلائی میں کمی دنیا بھر میں قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
مون سون… غریب کے لیے رحمت یا ہر سال کا عذاب؟

مون سون… غریب کے لیے رحمت یا ہر سال کا عذاب؟

وں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں مون سون موسم نہیں، بلکہ غریب آدمی کے صبر، قسمت اور زندگی کا امتحان ہے۔

بارش اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، اسے مردہ زمین کو زندگی دینے، کھیتوں کو سرسبز کرنے اور انسان کے لیے رزق کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں مون سون کی پہلی بارش کے ساتھ ہی ایک اور کہانی جنم لیتی ہے۔ کہیں کسی غریب کا کچا گھر زمین بوس ہو جاتا ہے، کہیں کوئی بچہ برساتی نالے کی نذر ہو جاتا ہے، کہیں بجلی کا کرنٹ زندگی چھین لیتا ہے، اور کہیں سڑکیں دریا بن کر شہروں کی سانسیں روک دیتی ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں مون سون موسم نہیں، بلکہ غریب آدمی کے صبر، قسمت اور زندگی کا امتحان ہے۔
ہر سال محکمہ موسمیات شدید بارشوں، سیلاب اور اربن فلڈنگ کی پیشگی وارننگ جاری کرتا ہے۔ اخبارات سرخیاں لگاتے ہیں، ٹی وی چینلز خصوصی نشریات کرتے ہیں، انتظامیہ ہنگامی اجلاسوں کی تصاویر جاری کرتی ہے، مگر جیسے ہی پہلی بارش ہوتی ہے، پورا نظام پانی میں بہتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
نالے بند، سیوریج ناکام، سڑکیں ٹوٹی ہوئی، بجلی معطل، ٹریفک جام اور امدادی ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے میں مصروف۔

آخر کیوں؟

اگر بارش اچانک نہیں آتی، اس کی پیش گوئی مہینوں پہلے موجود ہوتی ہے، تو پھر ہر سال ہماری تیاری صفر کیوں ہوتی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ بارش کسی کو نہیں مارتی، ناقص منصوبہ بندی مارتی ہے۔
بارش کسی کا گھر نہیں گراتی، کمزور تعمیرات اور ریاستی غفلت گھر گراتی ہے۔
پانی کسی شہر کو مفلوج نہیں کرتا، بند نالے، تجاوزات اور ناقص ڈرینیج سسٹم شہر ڈبوتے ہیں۔
لیکن اس سارے منظر کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ بھی نہیں۔
اصل المیہ یہ ہے کہ ایک طرف مون سون کے دنوں میں کروڑوں بلکہ اربوں گیلن میٹھا پانی ہمارے دریاؤں کے ذریعے سمندر میں جا گرتا ہے، اور دوسری طرف یہی پاکستان چند ماہ بعد پانی کی قلت کا رونا رو رہا ہوتا ہے۔
پاکستان آج دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے۔ کئی شہروں میں واٹر ٹیبل ہر سال مزید گر رہی ہے۔ کسان پہلے سے زیادہ گہرے بور کرنے پر مجبور ہیں، شہروں میں ٹیوب ویل خشک ہوتے جا رہے ہیں، اور ماہرین برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی صورتحال رہی تو آئندہ چند دہائیوں میں پانی ہماری سب سے بڑی قومی سیکیورٹی کا مسئلہ بن جائے گا۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہم مون سون کو صرف سیلاب کے زاویے سے کیوں دیکھتے ہیں؟

کیا یہ ممکن نہیں کہ یہی پانی ہماری آنے والی نسلوں کی زندگی بن جائے؟

دنیا نے اس مسئلے کا حل برسوں پہلے تلاش کر لیا۔

آسٹریلیا، سنگاپور، متحدہ عرب امارات، جاپان اور کئی یورپی ممالک میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے Rainwater Harvesting ایک لازمی نظام ہے۔ گھروں کی چھتوں سے لے کر سرکاری عمارتوں تک، بارش کا پانی مخصوص ٹینکوں میں جمع کیا جاتا ہے، زمین میں ری چارج ویلز کے ذریعے واپس پہنچایا جاتا ہے، مصنوعی جھیلیں بنائی جاتی ہیں، چھوٹے ڈیم تعمیر کیے جاتے ہیں اور ہر قطرے کو قومی اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔

مگر ہمارے ہاں؟

ہم بارش کے پانی کو جلد از جلد سمندر میں پہنچانے کے منصوبے تو بناتے ہیں، مگر اسے محفوظ کرنے کی منصوبہ بندی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔
حالیہ وفاقی بجٹ اور ترقیاتی پروگرام میں آبی وسائل کے لیے کتنے فنڈز رکھے گئے ہیں ؟
شہری سطح پر بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، رین واٹر ہارویسٹنگ، زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ، یا ہر ضلع میں چھوٹے واٹر ریزروائر بنانے کے لیے کوئی ایسی جامع قومی حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی جو آنے والی نسلوں کو پانی کی کمی سے بچا سکے۔
یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ جولائی اور اگست میں ہم اسی پانی کو آفت قرار دیتے ہیں، اور مارچ، اپریل اور مئی میں اسی پانی کے لیے دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں۔
مون سون کی سب سے بڑی قیمت کون ادا کرتا ہے؟
کوئی وزیر نہیں…

کوئی افسر نہیں…
بلکہ وہ مزدور، جس کی ایک دن کی دیہاڑی بارش میں ختم ہو جاتی ہے۔

وہ ریڑھی بان، جس کا سارا سامان پانی میں بہہ جاتا ہے۔

وہ کسان، جس کی مہینوں کی محنت چند گھنٹوں میں تباہ ہو جاتی ہے۔

وہ ماں، جو ٹپکتی چھت کے نیچے اپنے بچوں کو سینے سے لگا کر پوری رات جاگتی ہے۔

اور وہ بچہ، جو سکول جانے کے بجائے گندے پانی میں راستہ تلاش کر رہا ہوتا ہے۔

ہر سال میڈیا پر ایک ہی خبریں گردش کرتی ہیں۔

فلاں شہر زیرِ آب…

فلاں پل ٹوٹ گیا…

فلاں گاؤں کا رابطہ منقطع…

فلاں خاندان بے گھر…

کچھ دن امدادی سرگرمیاں چلتی ہیں، بیانات آتے ہیں، تصویریں بنتی ہیں، اور جیسے ہی سورج نکلتا ہے، ہم اگلے مون سون تک سب کچھ بھول جاتے ہیں۔
پھر اگلے سال یہی کہانی دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ بارش کتنی ہوئی۔

اصل سوال یہ ہے کہ تیاری کتنی تھی؟

کیا ہمارے شہروں کا ماسٹر پلان موسمیاتی تبدیلیوں کو سامنے رکھ کر بنایا جا رہا ہے؟
کیا نالوں پر قائم تجاوزات واقعی ختم کی جا رہی ہیں؟
کیا ہر نئی ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے بارش کے پانی کو محفوظ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے؟
کیا ہر سرکاری عمارت میں رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم نصب ہے؟
کیا ہر ضلع میں بارش کے پانی کو زیرِ زمین پہنچانے کے لیے ری چارج ویلز بنائے جا رہے ہیں؟
اگر ان سوالوں کا جواب “نہیں” ہے، تو پھر ہمیں صرف بارش پر نہیں، اپنی ترجیحات پر بھی غور کرنا ہوگا۔
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اس لیے اب وقتی اقدامات نہیں، بلکہ پچیس اور پچاس سال آگے دیکھنے والی قومی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

بارش اللہ کی رحمت ہے۔
اگر یہ رحمت ہر سال غریب کے لیے عذاب بن رہی ہے، تو قصور آسمان سے برسنے والے پانی کا نہیں، زمین پر بیٹھے منصوبہ سازوں کا ہے۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف سیلاب سے بچنے کی منصوبہ بندی نہ کریں، بلکہ پانی بچانے کی قومی پالیسی بھی بنائیں۔
کیونکہ قومیں بارش سے نہیں ڈوبتیں، غفلت سے ڈوبتی ہیں۔
اور اگر آج ہم نے مون سون کے ہر قطرے کو محفوظ کرنے کا ہنر نہ سیکھا، تو بعید نہیں کہ آنے والی نسلیں سیلاب سے نہیں، پیاس سے جنگ لڑ رہی ہوں گی

متعلقہ خبریں اور کالم

آزادی کا دن… کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ جب قوم جاگتی ہے تو فیصلے بدل جاتے ہیں۔ قانون کی کرسی پر خواہش نہیں، ضابطہ بیٹھتا ہے وینزیلا ماصی کے ساءے اور مستقبل کا اندیشہ ہر لمحہ اک مکتب ۔۔۔ہر لمحہ اک سطر پھاٹک جو وقت کی راہ میں کھڑا ہے