جب قوم جاگتی ہے تو فیصلے بدل جاتے ہیں۔
ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں نوجوانوں کی آواز نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ جب عوام اپنے حق کے لیے منظم، پُرامن اور جمہوری انداز میں کھڑے ہوتے ہیں تو حکمرانوں کو اپنی پالیسیوں پر نظرِثانی کرنا پڑتی ہے۔ اختلافِ رائے کو سنا گیا، عوامی مطالبات پر بحث ہوئی، اور بالآخر حکومت نے عوامی ردِعمل کو اہمیت دی۔
ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں نوجوانوں کی آواز نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ جب عوام اپنے حق کے لیے منظم، پُرامن اور جمہوری انداز میں کھڑے ہوتے ہیں تو حکمرانوں کو اپنی پالیسیوں پر نظرِثانی کرنا پڑتی ہے۔ اختلافِ رائے کو سنا گیا، عوامی مطالبات پر بحث ہوئی، اور بالآخر حکومت نے عوامی ردِعمل کو اہمیت دی۔ یہی جمہوریت کا اصل حسن ہے کہ وہاں ضد نہیں، دلیل جیتتی ہے، طاقت نہیں، عوامی رائے وزن رکھتی ہے ، اور حکمران یہ جانتے ہیں کہ اقتدار کا اصل سرچشمہ عوام ہیں۔ ایک باشعور نوجوان صرف اپنا مستقبل نہیں بدلتا، بلکہ پوری قوم کی سمت متعین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پھر ایک سوال میرے ذہن میں بار بار ابھرتا ہے…
آخر ہمارے نوجوان کہاں ہیں ؟
قومیں صرف ووٹ ڈالنے سے زندہ نہیں رہتیں، بلکہ سوال پوچھنے سے زندہ رہتی ہیں۔
جمہوریت کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ اس میں آخری فیصلہ طاقت کا نہیں، عوام کی آواز کا ہوتا ہے۔ حکومتیں پالیسیاں بناتی ہیں، لیکن اگر وہ پالیسیاں عوام کی زندگی اجیرن بنا دیں تو جمہوری معاشروں میں لوگ خاموش نہیں رہتے۔ وہ سڑکوں پر نکلتے ہیں، دلیل دیتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں، عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں، میڈیا کو متوجہ کرتے ہیں، اور آخرکار حکمرانوں کو اپنی رائے سننے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے کئی جمہوری ممالک میں عوامی دباؤ کے نتیجے میں فیصلے تبدیل ہوئے، قوانین واپس لیے گئے اور حکومتوں کو اپنی پالیسوں پر نظرِ ثانی کرنا پڑی۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے کہ وہاں اقتدار عوام کے اعتماد سے قائم رہتا ہے، اور عوام ہی اس اعتماد کا احتساب بھی کرتے ہیں۔
ہر وہ معاشرہ جہاں نوجوان شعور کے ساتھ اپنے مستقبل کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، وہاں تبدیلی جنم لیتی ہے۔ کیونکہ نوجوان صرف کسی قوم کا مستقبل نہیں ہوتے، وہ اس کے حال کے بھی سب سے بڑے محافظ ہوتے ہیں۔
پھر ایک سوال میرے ذہن میں بار بار ابھرتا ہے۔
آخر ہمارے نوجوان کہاں ہیں؟
کیا ہمارے مسائل کم ہیں؟
کیا ہمارے گھروں میں مہنگائی نے دستک نہیں دی؟
کیا بجلی کے بل ہر ماہ لوگوں کی نیندیں نہیں چھین رہے؟
کیا بے روزگاری، تعلیم، صحت اور انصاف کے مسائل ختم ہو چکے ہیں؟
اگر نہیں، تو پھر ہماری اجتماعی خاموشی کی وجہ کیا ہے؟
چند روز پہلے ایک نوجوان میرے پاس آیا۔ ایک ہاتھ سے معذور تھا۔ آنکھوں میں آنسو تھے اور آواز لرز رہی تھی۔
کہنے لگا:-
“بھائی! پچھلے مہینے بیماری کی وجہ سے بجلی کا بل ادا نہ کر سکا۔ ابھی دو دن ہوئے تھے کہ دوبارہ کام پر جانا شروع کیا تھا، مگر میٹر اتار کر لے گئے۔ تیرہ ہزار روپے کہاں سے لاؤں؟ اگر بجلی ہی نہیں ہوگی تو گھر کیسے چلے گا؟”
میں اس کی بات سن رہا تھا، لیکن میرے پاس اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
دو دن پہلے ایک عمر رسیدہ بیوہ خاتون ملی۔ وہ اپنے ایک یا دو ایسے بچوں کی کفالت کر رہی تھی جو خصوصی توجہ کے محتاج تھے۔ وہ بار بار صرف ایک جملہ دہرا رہی تھی
“بیٹا! دس ہزار کا بل آیا ہے، میں کیا کروں؟ روٹی خریدوں یا بل ادا کروں؟”
یہ صرف دو کہانیاں نہیں۔
یہ پاکستان کے لاکھوں گھروں کی کہانی ہے۔ خصوصی سفید پوش لوگ جو اس موجودہ مہنگائی میں پس چکے ہیں ،
آج بجلی صرف روشنی فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں رہی، بلکہ غریب آدمی کے لیے خوف کا دوسرا نام بن چکی ہے۔ کبھی بجلی کا بل گھر کی آمدنی کا ایک حصہ ہوتا تھا، آج بہت سے گھروں میں یہی بل پورے ماہ کے راشن پر بھاری پڑ جاتا ہے۔
دنیا کی ترقی یافتہ ریاستوں میں ریسرچ ٹیمیں اس لیے کام کرتی ہیں کہ عوام کی زندگی کیسے آسان بنائی جائے۔ سائنس دان نئی ٹیکنالوجی بناتے ہیں، ماہرین معاشیات ایسے ماڈل تیار کرتے ہیں جن سے عام آدمی کا بوجھ کم ہو، انجینئر توانائی کو سستا کرنے کے طریقے تلاش کرتے ہیں، اور حکومتیں یہ سوچتی ہیں کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کیسے دیا جائے۔
لیکن ہمارے ہاں اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ساری ذہانت اس بات پر صرف ہو رہی ہو کہ آمدنی میں ایسی کونسی مد باقی رہ گئی ہے جس پر ٹیکس لگانا ہے،
وہ صرف ایسی ریسرچ کرتے ہیں کہ ایک یونٹ کا فرق آئے اور بل ہزاروں روپے بڑھ جائے۔
بجلی کے ٹیرف کا موجودہ نظام کئی صارفین کے لیے اس قدر پیچیدہ ہے کہ اگر کسی مہینے استعمال ایک مخصوص حد سے ذرا سا بڑھ جائے تو صرف اسی مہینے نہیں، بعد کے مہینوں میں بھی اس کے مالی اثرات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ عام آدمی کو نہ فارمولہ سمجھ آتا ہے، نہ حساب، صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ بل اس کی استطاعت سے باہر ہو گیا ہے۔
یہاں سوال صرف بجلی کا نہیں۔
سوال انصاف کا ہے۔
سوال ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا ہے۔
جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں۔ جمہوریت کا مطلب یہ بھی ہے کہ حکومت عوام کی تکلیف سنے، اپنی پالیسیوں کا جائزہ لے، اور اگر کوئی فیصلہ لوگوں کی زندگی مشکل بنا رہا ہو تو اس پر نظرثانی کرے۔
خاموش معاشرے کبھی مضبوط نہیں بنتے۔
تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جن قوموں نے سوال پوچھنا چھوڑ دیا، وہاں فیصلے بند کمروں میں ہونے لگے۔ اور جن قوموں نے شعور کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کیا، وہاں حکومتوں نے عوام کی بات سننا سیکھی۔
لیکن ایک بات بھی اتنی ہی اہم ہے۔
آواز بلند کرنا اور قانون کو ہاتھ میں لینا دو الگ چیزیں ہیں۔
ایک مہذب قوم اپنے حقوق کے لیے کھڑی ضرور ہوتی ہے، مگر آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر۔ اسی طرزِ عمل سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے اور ادارے بھی۔
آج ہمارے نوجوانوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ صرف سوشل میڈیا پر شکایت کرتے رہیں گے، یا اپنے مسائل پر منظم، مہذب اور آئینی انداز میں آواز بھی اٹھائیں گے۔
کیونکہ اگر ایک ہاتھ سے معذور نوجوان کے آنسو، ایک بیوہ ماں کی بے بسی، ایک مزدور کی خالی جیب اور ایک طالب علم کی مایوسی بھی ہمیں خاموش رکھے، تو پھر مسئلہ صرف مہنگی بجلی نہیں، ہماری اجتماعی بے حسی بھی ہے۔
قوموں کی تقدیر ایوانوں میں کم، عوام کے شعور میں زیادہ لکھی جاتی ہے۔
جس دن اس ملک کا نوجوان اپنے ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر اجتماعی مفاد کے لیے کھڑا ہو گیا، اس دن شاید حکومتیں بھی پالیسیاں بناتے وقت صرف اعداد و شمار نہیں، انسانوں کے چہرے بھی دیکھنا شروع کر دیں گی۔
کیونکہ جمہوریت کی اصل طاقت ووٹ نہیں…
باشعور، باوقار اور بیدار عوام ہوتے ہیں
پھر ایک سوال میرے ذہن میں بار بار ابھرتا ہے…
آخر ہمارے نوجوان کہاں ہیں ؟
قومیں صرف ووٹ ڈالنے سے زندہ نہیں رہتیں، بلکہ سوال پوچھنے سے زندہ رہتی ہیں۔
جمہوریت کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ اس میں آخری فیصلہ طاقت کا نہیں، عوام کی آواز کا ہوتا ہے۔ حکومتیں پالیسیاں بناتی ہیں، لیکن اگر وہ پالیسیاں عوام کی زندگی اجیرن بنا دیں تو جمہوری معاشروں میں لوگ خاموش نہیں رہتے۔ وہ سڑکوں پر نکلتے ہیں، دلیل دیتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں، عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں، میڈیا کو متوجہ کرتے ہیں، اور آخرکار حکمرانوں کو اپنی رائے سننے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے کئی جمہوری ممالک میں عوامی دباؤ کے نتیجے میں فیصلے تبدیل ہوئے، قوانین واپس لیے گئے اور حکومتوں کو اپنی پالیسوں پر نظرِ ثانی کرنا پڑی۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے کہ وہاں اقتدار عوام کے اعتماد سے قائم رہتا ہے، اور عوام ہی اس اعتماد کا احتساب بھی کرتے ہیں۔
ہر وہ معاشرہ جہاں نوجوان شعور کے ساتھ اپنے مستقبل کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، وہاں تبدیلی جنم لیتی ہے۔ کیونکہ نوجوان صرف کسی قوم کا مستقبل نہیں ہوتے، وہ اس کے حال کے بھی سب سے بڑے محافظ ہوتے ہیں۔
پھر ایک سوال میرے ذہن میں بار بار ابھرتا ہے۔
آخر ہمارے نوجوان کہاں ہیں؟
کیا ہمارے مسائل کم ہیں؟
کیا ہمارے گھروں میں مہنگائی نے دستک نہیں دی؟
کیا بجلی کے بل ہر ماہ لوگوں کی نیندیں نہیں چھین رہے؟
کیا بے روزگاری، تعلیم، صحت اور انصاف کے مسائل ختم ہو چکے ہیں؟
اگر نہیں، تو پھر ہماری اجتماعی خاموشی کی وجہ کیا ہے؟
چند روز پہلے ایک نوجوان میرے پاس آیا۔ ایک ہاتھ سے معذور تھا۔ آنکھوں میں آنسو تھے اور آواز لرز رہی تھی۔
کہنے لگا:-
“بھائی! پچھلے مہینے بیماری کی وجہ سے بجلی کا بل ادا نہ کر سکا۔ ابھی دو دن ہوئے تھے کہ دوبارہ کام پر جانا شروع کیا تھا، مگر میٹر اتار کر لے گئے۔ تیرہ ہزار روپے کہاں سے لاؤں؟ اگر بجلی ہی نہیں ہوگی تو گھر کیسے چلے گا؟”
میں اس کی بات سن رہا تھا، لیکن میرے پاس اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
دو دن پہلے ایک عمر رسیدہ بیوہ خاتون ملی۔ وہ اپنے ایک یا دو ایسے بچوں کی کفالت کر رہی تھی جو خصوصی توجہ کے محتاج تھے۔ وہ بار بار صرف ایک جملہ دہرا رہی تھی
“بیٹا! دس ہزار کا بل آیا ہے، میں کیا کروں؟ روٹی خریدوں یا بل ادا کروں؟”
یہ صرف دو کہانیاں نہیں۔
یہ پاکستان کے لاکھوں گھروں کی کہانی ہے۔ خصوصی سفید پوش لوگ جو اس موجودہ مہنگائی میں پس چکے ہیں ،
آج بجلی صرف روشنی فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں رہی، بلکہ غریب آدمی کے لیے خوف کا دوسرا نام بن چکی ہے۔ کبھی بجلی کا بل گھر کی آمدنی کا ایک حصہ ہوتا تھا، آج بہت سے گھروں میں یہی بل پورے ماہ کے راشن پر بھاری پڑ جاتا ہے۔
دنیا کی ترقی یافتہ ریاستوں میں ریسرچ ٹیمیں اس لیے کام کرتی ہیں کہ عوام کی زندگی کیسے آسان بنائی جائے۔ سائنس دان نئی ٹیکنالوجی بناتے ہیں، ماہرین معاشیات ایسے ماڈل تیار کرتے ہیں جن سے عام آدمی کا بوجھ کم ہو، انجینئر توانائی کو سستا کرنے کے طریقے تلاش کرتے ہیں، اور حکومتیں یہ سوچتی ہیں کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کیسے دیا جائے۔
لیکن ہمارے ہاں اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ساری ذہانت اس بات پر صرف ہو رہی ہو کہ آمدنی میں ایسی کونسی مد باقی رہ گئی ہے جس پر ٹیکس لگانا ہے،
وہ صرف ایسی ریسرچ کرتے ہیں کہ ایک یونٹ کا فرق آئے اور بل ہزاروں روپے بڑھ جائے۔
بجلی کے ٹیرف کا موجودہ نظام کئی صارفین کے لیے اس قدر پیچیدہ ہے کہ اگر کسی مہینے استعمال ایک مخصوص حد سے ذرا سا بڑھ جائے تو صرف اسی مہینے نہیں، بعد کے مہینوں میں بھی اس کے مالی اثرات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ عام آدمی کو نہ فارمولہ سمجھ آتا ہے، نہ حساب، صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ بل اس کی استطاعت سے باہر ہو گیا ہے۔
یہاں سوال صرف بجلی کا نہیں۔
سوال انصاف کا ہے۔
سوال ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا ہے۔
جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں۔ جمہوریت کا مطلب یہ بھی ہے کہ حکومت عوام کی تکلیف سنے، اپنی پالیسیوں کا جائزہ لے، اور اگر کوئی فیصلہ لوگوں کی زندگی مشکل بنا رہا ہو تو اس پر نظرثانی کرے۔
خاموش معاشرے کبھی مضبوط نہیں بنتے۔
تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جن قوموں نے سوال پوچھنا چھوڑ دیا، وہاں فیصلے بند کمروں میں ہونے لگے۔ اور جن قوموں نے شعور کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کیا، وہاں حکومتوں نے عوام کی بات سننا سیکھی۔
لیکن ایک بات بھی اتنی ہی اہم ہے۔
آواز بلند کرنا اور قانون کو ہاتھ میں لینا دو الگ چیزیں ہیں۔
ایک مہذب قوم اپنے حقوق کے لیے کھڑی ضرور ہوتی ہے، مگر آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر۔ اسی طرزِ عمل سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے اور ادارے بھی۔
آج ہمارے نوجوانوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ صرف سوشل میڈیا پر شکایت کرتے رہیں گے، یا اپنے مسائل پر منظم، مہذب اور آئینی انداز میں آواز بھی اٹھائیں گے۔
کیونکہ اگر ایک ہاتھ سے معذور نوجوان کے آنسو، ایک بیوہ ماں کی بے بسی، ایک مزدور کی خالی جیب اور ایک طالب علم کی مایوسی بھی ہمیں خاموش رکھے، تو پھر مسئلہ صرف مہنگی بجلی نہیں، ہماری اجتماعی بے حسی بھی ہے۔
قوموں کی تقدیر ایوانوں میں کم، عوام کے شعور میں زیادہ لکھی جاتی ہے۔
جس دن اس ملک کا نوجوان اپنے ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر اجتماعی مفاد کے لیے کھڑا ہو گیا، اس دن شاید حکومتیں بھی پالیسیاں بناتے وقت صرف اعداد و شمار نہیں، انسانوں کے چہرے بھی دیکھنا شروع کر دیں گی۔
کیونکہ جمہوریت کی اصل طاقت ووٹ نہیں…
باشعور، باوقار اور بیدار عوام ہوتے ہیں