EN UR
منگل, 14 اپریل 2026 | 26 شوال 1447 ہجری | 1 بیساکھ
بریکنگ نیوز
ٹرمپ کا قوم سے خطاب: ایران کو "قدیم دور" میں دھکیلنے کی دھمکی، جنگی مقاصد کی تکمیل کا دعویٰ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا، جس کے بعد مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے برطانیہ کی قیادت میں 40 ممالک کا اتحاد سرگرم ہو گیا ہے اور مشترکہ فوجی و سفارتی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے پاکستان اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں اقوام متحدہ نے لبنان میں امن دستوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے جبکہ فرانسیسی پولیس نے یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن کو حراست میں لے لیا ہے عراق 40 سال اور ترکیہ 24 سال کے طویل وقفے کے بعد فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں قطر کی اہم ایل این جی تنصیبات پر حملوں کے بعد گیس کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر توانائی بحران کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق قطر کی گیس سپلائی میں کمی دنیا بھر میں قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ ٹرمپ کا قوم سے خطاب: ایران کو "قدیم دور" میں دھکیلنے کی دھمکی، جنگی مقاصد کی تکمیل کا دعویٰ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا، جس کے بعد مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے برطانیہ کی قیادت میں 40 ممالک کا اتحاد سرگرم ہو گیا ہے اور مشترکہ فوجی و سفارتی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے پاکستان اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں اقوام متحدہ نے لبنان میں امن دستوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے جبکہ فرانسیسی پولیس نے یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن کو حراست میں لے لیا ہے عراق 40 سال اور ترکیہ 24 سال کے طویل وقفے کے بعد فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں قطر کی اہم ایل این جی تنصیبات پر حملوں کے بعد گیس کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر توانائی بحران کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق قطر کی گیس سپلائی میں کمی دنیا بھر میں قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ ٹرمپ کا قوم سے خطاب: ایران کو "قدیم دور" میں دھکیلنے کی دھمکی، جنگی مقاصد کی تکمیل کا دعویٰ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا، جس کے بعد مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے برطانیہ کی قیادت میں 40 ممالک کا اتحاد سرگرم ہو گیا ہے اور مشترکہ فوجی و سفارتی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے پاکستان اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں اقوام متحدہ نے لبنان میں امن دستوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے جبکہ فرانسیسی پولیس نے یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن کو حراست میں لے لیا ہے عراق 40 سال اور ترکیہ 24 سال کے طویل وقفے کے بعد فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں قطر کی اہم ایل این جی تنصیبات پر حملوں کے بعد گیس کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر توانائی بحران کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق قطر کی گیس سپلائی میں کمی دنیا بھر میں قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
ہر لمحہ اک مکتب ۔۔۔ہر لمحہ اک سطر

ہر لمحہ اک مکتب ۔۔۔ہر لمحہ اک سطر

ہر لمحہ اک مکتب ۔۔۔ہر لمحہ اک سطر

ابنِ عربی فرماتے ہیں:
“ہر چیز میں حق کا جلوہ ہے،
لیکن وہ جلوہ صرف اُنہیں دکھائی دیتا ہے
جن کا دل آئینہ ہو گیا ہو۔”
دل آئینہ کب بنتا ہے؟
جب انسان چھوٹی باتوں میں بڑا مفہوم تلاش کرنا سیکھ لیتا ہے۔
اور یہی مقام ہے جہاں علم، تجربہ اور وجدان ایک ساتھ جھک جاتے ہیں۔

“زندگی اشاروں میں بولتی ہے“اشفاق احمد کہا کرتے تھے،
“زندگی الفاظ میں نہیں، اشاروں میں بات کرتی ہے۔
جس نے اشارہ سمجھ لیا، اُس نے سب کچھ سمجھ لیا۔”

زندگی تو ہر روز بات کرتی ہے،
کبھی درختوں کے سائے میں، پرندوں کے شور میں،
کسی مزدور کے پسینے میں،
کسی ماں کی دعا میں۔
مگر ہم اتنے شور میں گم ہیں
کہ زندگی کے اشارے ہم سے بات کیے بغیر گزر جاتے ہیں۔
اصل علم کتابوں سے نہیں،
لمحوں سے ملتا ہے،
اور لمحہ ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے،
لیکن اس کا اثر پوری زندگی پر پھیل جاتا ہے۔

کبھی کبھی ایک تنکا زندگی کی پوری حکمت سمجھا جاتا ہے
کسی نے فقیر سے کہا:
“مجھے کوئی بڑا سبق چاہیے، بڑی بات سناؤ بھی اور سمجھاؤ بھی !”
فقیر نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا،
ہوا میں اڑایا اور بولا:
“سبق کتنا بڑا چاہیے؟”
مسافر نے کہا: “بہت بڑا !”
فقیر مسکرا کر بولا:-
“تو پھر کان بڑےکر لے،
کیونکہ سبق ہمیشہ چھوٹا ہوتاہے
بڑا صرف اس کا اثر ہوتا ہے۔”

یہ جملہ گویا زندگی کا خلاصہ ہے۔
ہمیں سیکھنے کے لیے بڑی کتابوں کی نہیں،
بڑے دل کی ضرورت ہے۔

چھوٹے چھوٹے لمحوں کی بڑی چمک دیکھنے کے لیے آنکھ ہونی چاہیے !
کبھی
کسی بچے کی مسکراہٹ،
کسی اجنبی کی دعا،
کسی دوست کی خاموش موجودگی،
یہ سب معمولی باتیں لگتی ہیں،
لیکن کبھی کبھار یہی چھوٹے لمحے
زندگی کی سمت بدل دیتے ہیں۔

میں نے خود جب بھی کچھ سیکھا،
کبھی کسی صدمے سے نہیں سیکھا،
کسی چیخ یا حادثے سے نہیں،
بلکہ ایسے لمحے سے سیکھا
جو بظاہر بے معنی تھا۔
مگر اس میں پوری کائنات سمائی ہوئی تھی۔

اللہ اپنے راز ظاہر کرنے پہ آۓ تو بڑی بڑی کتابوں میں نہیں رکھتا،
بلکہ وہ چھوٹے واقعات میں رکھ دیتا ہے۔
بس آنکھ دیکھنے والی ہو،
دل سننے والا ہو،
تو ہر لمحہ ایک آیت بن جاتا ہے۔

کبھی کسی گلی کے موڑ پر
کوئی فقیر ایسا جملہ کہہ دیتا ہے
جو پوری عمر کی تلاش کا جواب بن جاتا ہے۔
کبھی کسی عام دن میں
اتنی روشنی چھپی ہوتی ہے
کہ برسوں کا اندھیرا مٹ جاتا ہے۔

یہی وہ بات ہے جسے سمجھنے کے بعد
انسان زندگی سے لڑنا چھوڑ دیتا ہے
اور اسے پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔

زندگی کی سچائی بڑے الفاظ میں نہیں چھپی،
وہ تو چھوٹی باتوں کے دروازے پر کھڑی ہے۔
ہم بس اس لیے اسے نہیں دیکھ پاتے
کہ ہم بڑے ہونے کے زعم میں
چھوٹی باتوں کو سیکھ نہیں سمجھتے۔

جس دن ہم نے چھوٹی بات کو غور سے دیکھنا سیکھ لیا،
اس دن بڑی حقیقتیں خود چل کر
ہماری دہلیز پر آ بیٹھیں گی۔

کیونکہ سچ ہمیشہ نرم ہوتا ہے،
چھوٹا ہوتا ہے،
خاموش ہوتا ہے
اور اسی میں خدا کی سب سے بڑی صدا پوشیدہ ہوتی ہے۔ابنِ عربی فرماتے ہیں:
“ہر چیز میں حق کا جلوہ ہے،
لیکن وہ جلوہ صرف اُنہیں دکھائی دیتا ہے
جن کا دل آئینہ ہو گیا ہو۔”
دل آئینہ کب بنتا ہے؟
جب انسان چھوٹی باتوں میں بڑا مفہوم تلاش کرنا سیکھ لیتا ہے۔
اور یہی مقام ہے جہاں علم، تجربہ اور وجدان ایک ساتھ جھک جاتے ہیں۔

“زندگی اشاروں میں بولتی ہے“اشفاق احمد کہا کرتے تھے،
“زندگی الفاظ میں نہیں، اشاروں میں بات کرتی ہے۔
جس نے اشارہ سمجھ لیا، اُس نے سب کچھ سمجھ لیا۔”

زندگی تو ہر روز بات کرتی ہے،
کبھی درختوں کے سائے میں، پرندوں کے شور میں،
کسی مزدور کے پسینے میں،
کسی ماں کی دعا میں۔
مگر ہم اتنے شور میں گم ہیں
کہ زندگی کے اشارے ہم سے بات کیے بغیر گزر جاتے ہیں۔
اصل علم کتابوں سے نہیں،
لمحوں سے ملتا ہے،
اور لمحہ ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے،
لیکن اس کا اثر پوری زندگی پر پھیل جاتا ہے۔

کبھی کبھی ایک تنکا زندگی کی پوری حکمت سمجھا جاتا ہے
کسی نے فقیر سے کہا:
“مجھے کوئی بڑا سبق چاہیے، بڑی بات سناؤ بھی اور سمجھاؤ بھی !”
فقیر نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا،
ہوا میں اڑایا اور بولا:
“سبق کتنا بڑا چاہیے؟”
مسافر نے کہا: “بہت بڑا !”
فقیر مسکرا کر بولا:-
“تو پھر کان بڑےکر لے،
کیونکہ سبق ہمیشہ چھوٹا ہوتاہے
بڑا صرف اس کا اثر ہوتا ہے۔”

یہ جملہ گویا زندگی کا خلاصہ ہے۔
ہمیں سیکھنے کے لیے بڑی کتابوں کی نہیں،
بڑے دل کی ضرورت ہے۔

چھوٹے چھوٹے لمحوں کی بڑی چمک دیکھنے کے لیے آنکھ ہونی چاہیے !
کبھی
کسی بچے کی مسکراہٹ،
کسی اجنبی کی دعا،
کسی دوست کی خاموش موجودگی،
یہ سب معمولی باتیں لگتی ہیں،
لیکن کبھی کبھار یہی چھوٹے لمحے
زندگی کی سمت بدل دیتے ہیں۔

میں نے خود جب بھی کچھ سیکھا،
کبھی کسی صدمے سے نہیں سیکھا،
کسی چیخ یا حادثے سے نہیں،
بلکہ ایسے لمحے سے سیکھا
جو بظاہر بے معنی تھا۔
مگر اس میں پوری کائنات سمائی ہوئی تھی۔

اللہ اپنے راز ظاہر کرنے پہ آۓ تو بڑی بڑی کتابوں میں نہیں رکھتا،
بلکہ وہ چھوٹے واقعات میں رکھ دیتا ہے۔
بس آنکھ دیکھنے والی ہو،
دل سننے والا ہو،
تو ہر لمحہ ایک آیت بن جاتا ہے۔

کبھی کسی گلی کے موڑ پر
کوئی فقیر ایسا جملہ کہہ دیتا ہے
جو پوری عمر کی تلاش کا جواب بن جاتا ہے۔
کبھی کسی عام دن میں
اتنی روشنی چھپی ہوتی ہے
کہ برسوں کا اندھیرا مٹ جاتا ہے۔

یہی وہ بات ہے جسے سمجھنے کے بعد
انسان زندگی سے لڑنا چھوڑ دیتا ہے
اور اسے پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔

زندگی کی سچائی بڑے الفاظ میں نہیں چھپی،
وہ تو چھوٹی باتوں کے دروازے پر کھڑی ہے۔
ہم بس اس لیے اسے نہیں دیکھ پاتے
کہ ہم بڑے ہونے کے زعم میں
چھوٹی باتوں کو سیکھ نہیں سمجھتے۔

جس دن ہم نے چھوٹی بات کو غور سے دیکھنا سیکھ لیا،
اس دن بڑی حقیقتیں خود چل کر
ہماری دہلیز پر آ بیٹھیں گی۔

کیونکہ سچ ہمیشہ نرم ہوتا ہے،
چھوٹا ہوتا ہے،
خاموش ہوتا ہے
اور اسی میں خدا کی سب سے بڑی صدا پوشیدہ ہوتی ہے۔ابنِ عربی فرماتے ہیں:
“ہر چیز میں حق کا جلوہ ہے،
لیکن وہ جلوہ صرف اُنہیں دکھائی دیتا ہے
جن کا دل آئینہ ہو گیا ہو۔”
دل آئینہ کب بنتا ہے؟
جب انسان چھوٹی باتوں میں بڑا مفہوم تلاش کرنا سیکھ لیتا ہے۔
اور یہی مقام ہے جہاں علم، تجربہ اور وجدان ایک ساتھ جھک جاتے ہیں۔

“زندگی اشاروں میں بولتی ہے“اشفاق احمد کہا کرتے تھے،
“زندگی الفاظ میں نہیں، اشاروں میں بات کرتی ہے۔
جس نے اشارہ سمجھ لیا، اُس نے سب کچھ سمجھ لیا۔”

زندگی تو ہر روز بات کرتی ہے،
کبھی درختوں کے سائے میں، پرندوں کے شور میں،
کسی مزدور کے پسینے میں،
کسی ماں کی دعا میں۔
مگر ہم اتنے شور میں گم ہیں
کہ زندگی کے اشارے ہم سے بات کیے بغیر گزر جاتے ہیں۔
اصل علم کتابوں سے نہیں،
لمحوں سے ملتا ہے،
اور لمحہ ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے،
لیکن اس کا اثر پوری زندگی پر پھیل جاتا ہے۔

کبھی کبھی ایک تنکا زندگی کی پوری حکمت سمجھا جاتا ہے
کسی نے فقیر سے کہا:
“مجھے کوئی بڑا سبق چاہیے، بڑی بات سناؤ بھی اور سمجھاؤ بھی !”
فقیر نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا،
ہوا میں اڑایا اور بولا:
“سبق کتنا بڑا چاہیے؟”
مسافر نے کہا: “بہت بڑا !”
فقیر مسکرا کر بولا:-
“تو پھر کان بڑےکر لے،
کیونکہ سبق ہمیشہ چھوٹا ہوتاہے
بڑا صرف اس کا اثر ہوتا ہے۔”

یہ جملہ گویا زندگی کا خلاصہ ہے۔
ہمیں سیکھنے کے لیے بڑی کتابوں کی نہیں،
بڑے دل کی ضرورت ہے۔

چھوٹے چھوٹے لمحوں کی بڑی چمک دیکھنے کے لیے آنکھ ہونی چاہیے !
کبھی
کسی بچے کی مسکراہٹ،
کسی اجنبی کی دعا،
کسی دوست کی خاموش موجودگی،
یہ سب معمولی باتیں لگتی ہیں،
لیکن کبھی کبھار یہی چھوٹے لمحے
زندگی کی سمت بدل دیتے ہیں۔

میں نے خود جب بھی کچھ سیکھا،
کبھی کسی صدمے سے نہیں سیکھا،
کسی چیخ یا حادثے سے نہیں،
بلکہ ایسے لمحے سے سیکھا
جو بظاہر بے معنی تھا۔
مگر اس میں پوری کائنات سمائی ہوئی تھی۔

اللہ اپنے راز ظاہر کرنے پہ آۓ تو بڑی بڑی کتابوں میں نہیں رکھتا،
بلکہ وہ چھوٹے واقعات میں رکھ دیتا ہے۔
بس آنکھ دیکھنے والی ہو،
دل سننے والا ہو،
تو ہر لمحہ ایک آیت بن جاتا ہے۔

کبھی کسی گلی کے موڑ پر
کوئی فقیر ایسا جملہ کہہ دیتا ہے
جو پوری عمر کی تلاش کا جواب بن جاتا ہے۔
کبھی کسی عام دن میں
اتنی روشنی چھپی ہوتی ہے
کہ برسوں کا اندھیرا مٹ جاتا ہے۔

یہی وہ بات ہے جسے سمجھنے کے بعد
انسان زندگی سے لڑنا چھوڑ دیتا ہے
اور اسے پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔

زندگی کی سچائی بڑے الفاظ میں نہیں چھپی،
وہ تو چھوٹی باتوں کے دروازے پر کھڑی ہے۔
ہم بس اس لیے اسے نہیں دیکھ پاتے
کہ ہم بڑے ہونے کے زعم میں
چھوٹی باتوں کو سیکھ نہیں سمجھتے۔

جس دن ہم نے چھوٹی بات کو غور سے دیکھنا سیکھ لیا،
اس دن بڑی حقیقتیں خود چل کر
ہماری دہلیز پر آ بیٹھیں گی۔

کیونکہ سچ ہمیشہ نرم ہوتا ہے،
چھوٹا ہوتا ہے،
خاموش ہوتا ہے
اور اسی میں خدا کی سب سے بڑی صدا پوشیدہ ہوتی ہے۔ابنِ عربی فرماتے ہیں:
“ہر چیز میں حق کا جلوہ ہے،
لیکن وہ جلوہ صرف اُنہیں دکھائی دیتا ہے
جن کا دل آئینہ ہو گیا ہو۔”
دل آئینہ کب بنتا ہے؟
جب انسان چھوٹی باتوں میں بڑا مفہوم تلاش کرنا سیکھ لیتا ہے۔
اور یہی مقام ہے جہاں علم، تجربہ اور وجدان ایک ساتھ جھک جاتے ہیں۔

“زندگی اشاروں میں بولتی ہے“اشفاق احمد کہا کرتے تھے،
“زندگی الفاظ میں نہیں، اشاروں میں بات کرتی ہے۔
جس نے اشارہ سمجھ لیا، اُس نے سب کچھ سمجھ لیا۔”

زندگی تو ہر روز بات کرتی ہے،
کبھی درختوں کے سائے میں، پرندوں کے شور میں،
کسی مزدور کے پسینے میں،
کسی ماں کی دعا میں۔
مگر ہم اتنے شور میں گم ہیں
کہ زندگی کے اشارے ہم سے بات کیے بغیر گزر جاتے ہیں۔
اصل علم کتابوں سے نہیں،
لمحوں سے ملتا ہے،
اور لمحہ ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے،
لیکن اس کا اثر پوری زندگی پر پھیل جاتا ہے۔

کبھی کبھی ایک تنکا زندگی کی پوری حکمت سمجھا جاتا ہے
کسی نے فقیر سے کہا:
“مجھے کوئی بڑا سبق چاہیے، بڑی بات سناؤ بھی اور سمجھاؤ بھی !”
فقیر نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا،
ہوا میں اڑایا اور بولا:
“سبق کتنا بڑا چاہیے؟”
مسافر نے کہا: “بہت بڑا !”
فقیر مسکرا کر بولا:-
“تو پھر کان بڑےکر لے،
کیونکہ سبق ہمیشہ چھوٹا ہوتاہے
بڑا صرف اس کا اثر ہوتا ہے۔”

یہ جملہ گویا زندگی کا خلاصہ ہے۔
ہمیں سیکھنے کے لیے بڑی کتابوں کی نہیں،
بڑے دل کی ضرورت ہے۔

چھوٹے چھوٹے لمحوں کی بڑی چمک دیکھنے کے لیے آنکھ ہونی چاہیے !
کبھی
کسی بچے کی مسکراہٹ،
کسی اجنبی کی دعا،
کسی دوست کی خاموش موجودگی،
یہ سب معمولی باتیں لگتی ہیں،
لیکن کبھی کبھار یہی چھوٹے لمحے
زندگی کی سمت بدل دیتے ہیں۔

میں نے خود جب بھی کچھ سیکھا،
کبھی کسی صدمے سے نہیں سیکھا،
کسی چیخ یا حادثے سے نہیں،
بلکہ ایسے لمحے سے سیکھا
جو بظاہر بے معنی تھا۔
مگر اس میں پوری کائنات سمائی ہوئی تھی۔

اللہ اپنے راز ظاہر کرنے پہ آۓ تو بڑی بڑی کتابوں میں نہیں رکھتا،
بلکہ وہ چھوٹے واقعات میں رکھ دیتا ہے۔
بس آنکھ دیکھنے والی ہو،
دل سننے والا ہو،
تو ہر لمحہ ایک آیت بن جاتا ہے۔

کبھی کسی گلی کے موڑ پر
کوئی فقیر ایسا جملہ کہہ دیتا ہے
جو پوری عمر کی تلاش کا جواب بن جاتا ہے۔
کبھی کسی عام دن میں
اتنی روشنی چھپی ہوتی ہے
کہ برسوں کا اندھیرا مٹ جاتا ہے۔

یہی وہ بات ہے جسے سمجھنے کے بعد
انسان زندگی سے لڑنا چھوڑ دیتا ہے
اور اسے پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔

زندگی کی سچائی بڑے الفاظ میں نہیں چھپی،
وہ تو چھوٹی باتوں کے دروازے پر کھڑی ہے۔
ہم بس اس لیے اسے نہیں دیکھ پاتے
کہ ہم بڑے ہونے کے زعم میں
چھوٹی باتوں کو سیکھ نہیں سمجھتے۔

جس دن ہم نے چھوٹی بات کو غور سے دیکھنا سیکھ لیا،
اس دن بڑی حقیقتیں خود چل کر
ہماری دہلیز پر آ بیٹھیں گی۔

کیونکہ سچ ہمیشہ نرم ہوتا ہے،
چھوٹا ہوتا ہے،
خاموش ہوتا ہے
اور اسی میں خدا کی سب سے بڑی صدا پوشیدہ ہوتی ہے۔