ہر لمحہ اک مکتب ۔۔۔ہر لمحہ اک سطر
ہر لمحہ اک مکتب ۔۔۔ہر لمحہ اک سطر
ابنِ عربی فرماتے ہیں:
“ہر چیز میں حق کا جلوہ ہے،
لیکن وہ جلوہ صرف اُنہیں دکھائی دیتا ہے
جن کا دل آئینہ ہو گیا ہو۔”
دل آئینہ کب بنتا ہے؟
جب انسان چھوٹی باتوں میں بڑا مفہوم تلاش کرنا سیکھ لیتا ہے۔
اور یہی مقام ہے جہاں علم، تجربہ اور وجدان ایک ساتھ جھک جاتے ہیں۔
“زندگی اشاروں میں بولتی ہے“اشفاق احمد کہا کرتے تھے،
“زندگی الفاظ میں نہیں، اشاروں میں بات کرتی ہے۔
جس نے اشارہ سمجھ لیا، اُس نے سب کچھ سمجھ لیا۔”
زندگی تو ہر روز بات کرتی ہے،
کبھی درختوں کے سائے میں، پرندوں کے شور میں،
کسی مزدور کے پسینے میں،
کسی ماں کی دعا میں۔
مگر ہم اتنے شور میں گم ہیں
کہ زندگی کے اشارے ہم سے بات کیے بغیر گزر جاتے ہیں۔
اصل علم کتابوں سے نہیں،
لمحوں سے ملتا ہے،
اور لمحہ ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے،
لیکن اس کا اثر پوری زندگی پر پھیل جاتا ہے۔
کبھی کبھی ایک تنکا زندگی کی پوری حکمت سمجھا جاتا ہے
کسی نے فقیر سے کہا:
“مجھے کوئی بڑا سبق چاہیے، بڑی بات سناؤ بھی اور سمجھاؤ بھی !”
فقیر نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا،
ہوا میں اڑایا اور بولا:
“سبق کتنا بڑا چاہیے؟”
مسافر نے کہا: “بہت بڑا !”
فقیر مسکرا کر بولا:-
“تو پھر کان بڑےکر لے،
کیونکہ سبق ہمیشہ چھوٹا ہوتاہے
بڑا صرف اس کا اثر ہوتا ہے۔”
یہ جملہ گویا زندگی کا خلاصہ ہے۔
ہمیں سیکھنے کے لیے بڑی کتابوں کی نہیں،
بڑے دل کی ضرورت ہے۔
چھوٹے چھوٹے لمحوں کی بڑی چمک دیکھنے کے لیے آنکھ ہونی چاہیے !
کبھی
کسی بچے کی مسکراہٹ،
کسی اجنبی کی دعا،
کسی دوست کی خاموش موجودگی،
یہ سب معمولی باتیں لگتی ہیں،
لیکن کبھی کبھار یہی چھوٹے لمحے
زندگی کی سمت بدل دیتے ہیں۔
میں نے خود جب بھی کچھ سیکھا،
کبھی کسی صدمے سے نہیں سیکھا،
کسی چیخ یا حادثے سے نہیں،
بلکہ ایسے لمحے سے سیکھا
جو بظاہر بے معنی تھا۔
مگر اس میں پوری کائنات سمائی ہوئی تھی۔
اللہ اپنے راز ظاہر کرنے پہ آۓ تو بڑی بڑی کتابوں میں نہیں رکھتا،
بلکہ وہ چھوٹے واقعات میں رکھ دیتا ہے۔
بس آنکھ دیکھنے والی ہو،
دل سننے والا ہو،
تو ہر لمحہ ایک آیت بن جاتا ہے۔
کبھی کسی گلی کے موڑ پر
کوئی فقیر ایسا جملہ کہہ دیتا ہے
جو پوری عمر کی تلاش کا جواب بن جاتا ہے۔
کبھی کسی عام دن میں
اتنی روشنی چھپی ہوتی ہے
کہ برسوں کا اندھیرا مٹ جاتا ہے۔
یہی وہ بات ہے جسے سمجھنے کے بعد
انسان زندگی سے لڑنا چھوڑ دیتا ہے
اور اسے پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔
زندگی کی سچائی بڑے الفاظ میں نہیں چھپی،
وہ تو چھوٹی باتوں کے دروازے پر کھڑی ہے۔
ہم بس اس لیے اسے نہیں دیکھ پاتے
کہ ہم بڑے ہونے کے زعم میں
چھوٹی باتوں کو سیکھ نہیں سمجھتے۔
جس دن ہم نے چھوٹی بات کو غور سے دیکھنا سیکھ لیا،
اس دن بڑی حقیقتیں خود چل کر
ہماری دہلیز پر آ بیٹھیں گی۔
کیونکہ سچ ہمیشہ نرم ہوتا ہے،
چھوٹا ہوتا ہے،
خاموش ہوتا ہے
اور اسی میں خدا کی سب سے بڑی صدا پوشیدہ ہوتی ہے۔ابنِ عربی فرماتے ہیں:
“ہر چیز میں حق کا جلوہ ہے،
لیکن وہ جلوہ صرف اُنہیں دکھائی دیتا ہے
جن کا دل آئینہ ہو گیا ہو۔”
دل آئینہ کب بنتا ہے؟
جب انسان چھوٹی باتوں میں بڑا مفہوم تلاش کرنا سیکھ لیتا ہے۔
اور یہی مقام ہے جہاں علم، تجربہ اور وجدان ایک ساتھ جھک جاتے ہیں۔
“زندگی اشاروں میں بولتی ہے“اشفاق احمد کہا کرتے تھے،
“زندگی الفاظ میں نہیں، اشاروں میں بات کرتی ہے۔
جس نے اشارہ سمجھ لیا، اُس نے سب کچھ سمجھ لیا۔”
زندگی تو ہر روز بات کرتی ہے،
کبھی درختوں کے سائے میں، پرندوں کے شور میں،
کسی مزدور کے پسینے میں،
کسی ماں کی دعا میں۔
مگر ہم اتنے شور میں گم ہیں
کہ زندگی کے اشارے ہم سے بات کیے بغیر گزر جاتے ہیں۔
اصل علم کتابوں سے نہیں،
لمحوں سے ملتا ہے،
اور لمحہ ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے،
لیکن اس کا اثر پوری زندگی پر پھیل جاتا ہے۔
کبھی کبھی ایک تنکا زندگی کی پوری حکمت سمجھا جاتا ہے
کسی نے فقیر سے کہا:
“مجھے کوئی بڑا سبق چاہیے، بڑی بات سناؤ بھی اور سمجھاؤ بھی !”
فقیر نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا،
ہوا میں اڑایا اور بولا:
“سبق کتنا بڑا چاہیے؟”
مسافر نے کہا: “بہت بڑا !”
فقیر مسکرا کر بولا:-
“تو پھر کان بڑےکر لے،
کیونکہ سبق ہمیشہ چھوٹا ہوتاہے
بڑا صرف اس کا اثر ہوتا ہے۔”
یہ جملہ گویا زندگی کا خلاصہ ہے۔
ہمیں سیکھنے کے لیے بڑی کتابوں کی نہیں،
بڑے دل کی ضرورت ہے۔
چھوٹے چھوٹے لمحوں کی بڑی چمک دیکھنے کے لیے آنکھ ہونی چاہیے !
کبھی
کسی بچے کی مسکراہٹ،
کسی اجنبی کی دعا،
کسی دوست کی خاموش موجودگی،
یہ سب معمولی باتیں لگتی ہیں،
لیکن کبھی کبھار یہی چھوٹے لمحے
زندگی کی سمت بدل دیتے ہیں۔
میں نے خود جب بھی کچھ سیکھا،
کبھی کسی صدمے سے نہیں سیکھا،
کسی چیخ یا حادثے سے نہیں،
بلکہ ایسے لمحے سے سیکھا
جو بظاہر بے معنی تھا۔
مگر اس میں پوری کائنات سمائی ہوئی تھی۔
اللہ اپنے راز ظاہر کرنے پہ آۓ تو بڑی بڑی کتابوں میں نہیں رکھتا،
بلکہ وہ چھوٹے واقعات میں رکھ دیتا ہے۔
بس آنکھ دیکھنے والی ہو،
دل سننے والا ہو،
تو ہر لمحہ ایک آیت بن جاتا ہے۔
کبھی کسی گلی کے موڑ پر
کوئی فقیر ایسا جملہ کہہ دیتا ہے
جو پوری عمر کی تلاش کا جواب بن جاتا ہے۔
کبھی کسی عام دن میں
اتنی روشنی چھپی ہوتی ہے
کہ برسوں کا اندھیرا مٹ جاتا ہے۔
یہی وہ بات ہے جسے سمجھنے کے بعد
انسان زندگی سے لڑنا چھوڑ دیتا ہے
اور اسے پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔
زندگی کی سچائی بڑے الفاظ میں نہیں چھپی،
وہ تو چھوٹی باتوں کے دروازے پر کھڑی ہے۔
ہم بس اس لیے اسے نہیں دیکھ پاتے
کہ ہم بڑے ہونے کے زعم میں
چھوٹی باتوں کو سیکھ نہیں سمجھتے۔
جس دن ہم نے چھوٹی بات کو غور سے دیکھنا سیکھ لیا،
اس دن بڑی حقیقتیں خود چل کر
ہماری دہلیز پر آ بیٹھیں گی۔
کیونکہ سچ ہمیشہ نرم ہوتا ہے،
چھوٹا ہوتا ہے،
خاموش ہوتا ہے
اور اسی میں خدا کی سب سے بڑی صدا پوشیدہ ہوتی ہے۔ابنِ عربی فرماتے ہیں:
“ہر چیز میں حق کا جلوہ ہے،
لیکن وہ جلوہ صرف اُنہیں دکھائی دیتا ہے
جن کا دل آئینہ ہو گیا ہو۔”
دل آئینہ کب بنتا ہے؟
جب انسان چھوٹی باتوں میں بڑا مفہوم تلاش کرنا سیکھ لیتا ہے۔
اور یہی مقام ہے جہاں علم، تجربہ اور وجدان ایک ساتھ جھک جاتے ہیں۔
“زندگی اشاروں میں بولتی ہے“اشفاق احمد کہا کرتے تھے،
“زندگی الفاظ میں نہیں، اشاروں میں بات کرتی ہے۔
جس نے اشارہ سمجھ لیا، اُس نے سب کچھ سمجھ لیا۔”
زندگی تو ہر روز بات کرتی ہے،
کبھی درختوں کے سائے میں، پرندوں کے شور میں،
کسی مزدور کے پسینے میں،
کسی ماں کی دعا میں۔
مگر ہم اتنے شور میں گم ہیں
کہ زندگی کے اشارے ہم سے بات کیے بغیر گزر جاتے ہیں۔
اصل علم کتابوں سے نہیں،
لمحوں سے ملتا ہے،
اور لمحہ ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے،
لیکن اس کا اثر پوری زندگی پر پھیل جاتا ہے۔
کبھی کبھی ایک تنکا زندگی کی پوری حکمت سمجھا جاتا ہے
کسی نے فقیر سے کہا:
“مجھے کوئی بڑا سبق چاہیے، بڑی بات سناؤ بھی اور سمجھاؤ بھی !”
فقیر نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا،
ہوا میں اڑایا اور بولا:
“سبق کتنا بڑا چاہیے؟”
مسافر نے کہا: “بہت بڑا !”
فقیر مسکرا کر بولا:-
“تو پھر کان بڑےکر لے،
کیونکہ سبق ہمیشہ چھوٹا ہوتاہے
بڑا صرف اس کا اثر ہوتا ہے۔”
یہ جملہ گویا زندگی کا خلاصہ ہے۔
ہمیں سیکھنے کے لیے بڑی کتابوں کی نہیں،
بڑے دل کی ضرورت ہے۔
چھوٹے چھوٹے لمحوں کی بڑی چمک دیکھنے کے لیے آنکھ ہونی چاہیے !
کبھی
کسی بچے کی مسکراہٹ،
کسی اجنبی کی دعا،
کسی دوست کی خاموش موجودگی،
یہ سب معمولی باتیں لگتی ہیں،
لیکن کبھی کبھار یہی چھوٹے لمحے
زندگی کی سمت بدل دیتے ہیں۔
میں نے خود جب بھی کچھ سیکھا،
کبھی کسی صدمے سے نہیں سیکھا،
کسی چیخ یا حادثے سے نہیں،
بلکہ ایسے لمحے سے سیکھا
جو بظاہر بے معنی تھا۔
مگر اس میں پوری کائنات سمائی ہوئی تھی۔
اللہ اپنے راز ظاہر کرنے پہ آۓ تو بڑی بڑی کتابوں میں نہیں رکھتا،
بلکہ وہ چھوٹے واقعات میں رکھ دیتا ہے۔
بس آنکھ دیکھنے والی ہو،
دل سننے والا ہو،
تو ہر لمحہ ایک آیت بن جاتا ہے۔
کبھی کسی گلی کے موڑ پر
کوئی فقیر ایسا جملہ کہہ دیتا ہے
جو پوری عمر کی تلاش کا جواب بن جاتا ہے۔
کبھی کسی عام دن میں
اتنی روشنی چھپی ہوتی ہے
کہ برسوں کا اندھیرا مٹ جاتا ہے۔
یہی وہ بات ہے جسے سمجھنے کے بعد
انسان زندگی سے لڑنا چھوڑ دیتا ہے
اور اسے پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔
زندگی کی سچائی بڑے الفاظ میں نہیں چھپی،
وہ تو چھوٹی باتوں کے دروازے پر کھڑی ہے۔
ہم بس اس لیے اسے نہیں دیکھ پاتے
کہ ہم بڑے ہونے کے زعم میں
چھوٹی باتوں کو سیکھ نہیں سمجھتے۔
جس دن ہم نے چھوٹی بات کو غور سے دیکھنا سیکھ لیا،
اس دن بڑی حقیقتیں خود چل کر
ہماری دہلیز پر آ بیٹھیں گی۔
کیونکہ سچ ہمیشہ نرم ہوتا ہے،
چھوٹا ہوتا ہے،
خاموش ہوتا ہے
اور اسی میں خدا کی سب سے بڑی صدا پوشیدہ ہوتی ہے۔ابنِ عربی فرماتے ہیں:
“ہر چیز میں حق کا جلوہ ہے،
لیکن وہ جلوہ صرف اُنہیں دکھائی دیتا ہے
جن کا دل آئینہ ہو گیا ہو۔”
دل آئینہ کب بنتا ہے؟
جب انسان چھوٹی باتوں میں بڑا مفہوم تلاش کرنا سیکھ لیتا ہے۔
اور یہی مقام ہے جہاں علم، تجربہ اور وجدان ایک ساتھ جھک جاتے ہیں۔
“زندگی اشاروں میں بولتی ہے“اشفاق احمد کہا کرتے تھے،
“زندگی الفاظ میں نہیں، اشاروں میں بات کرتی ہے۔
جس نے اشارہ سمجھ لیا، اُس نے سب کچھ سمجھ لیا۔”
زندگی تو ہر روز بات کرتی ہے،
کبھی درختوں کے سائے میں، پرندوں کے شور میں،
کسی مزدور کے پسینے میں،
کسی ماں کی دعا میں۔
مگر ہم اتنے شور میں گم ہیں
کہ زندگی کے اشارے ہم سے بات کیے بغیر گزر جاتے ہیں۔
اصل علم کتابوں سے نہیں،
لمحوں سے ملتا ہے،
اور لمحہ ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے،
لیکن اس کا اثر پوری زندگی پر پھیل جاتا ہے۔
کبھی کبھی ایک تنکا زندگی کی پوری حکمت سمجھا جاتا ہے
کسی نے فقیر سے کہا:
“مجھے کوئی بڑا سبق چاہیے، بڑی بات سناؤ بھی اور سمجھاؤ بھی !”
فقیر نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا،
ہوا میں اڑایا اور بولا:
“سبق کتنا بڑا چاہیے؟”
مسافر نے کہا: “بہت بڑا !”
فقیر مسکرا کر بولا:-
“تو پھر کان بڑےکر لے،
کیونکہ سبق ہمیشہ چھوٹا ہوتاہے
بڑا صرف اس کا اثر ہوتا ہے۔”
یہ جملہ گویا زندگی کا خلاصہ ہے۔
ہمیں سیکھنے کے لیے بڑی کتابوں کی نہیں،
بڑے دل کی ضرورت ہے۔
چھوٹے چھوٹے لمحوں کی بڑی چمک دیکھنے کے لیے آنکھ ہونی چاہیے !
کبھی
کسی بچے کی مسکراہٹ،
کسی اجنبی کی دعا،
کسی دوست کی خاموش موجودگی،
یہ سب معمولی باتیں لگتی ہیں،
لیکن کبھی کبھار یہی چھوٹے لمحے
زندگی کی سمت بدل دیتے ہیں۔
میں نے خود جب بھی کچھ سیکھا،
کبھی کسی صدمے سے نہیں سیکھا،
کسی چیخ یا حادثے سے نہیں،
بلکہ ایسے لمحے سے سیکھا
جو بظاہر بے معنی تھا۔
مگر اس میں پوری کائنات سمائی ہوئی تھی۔
اللہ اپنے راز ظاہر کرنے پہ آۓ تو بڑی بڑی کتابوں میں نہیں رکھتا،
بلکہ وہ چھوٹے واقعات میں رکھ دیتا ہے۔
بس آنکھ دیکھنے والی ہو،
دل سننے والا ہو،
تو ہر لمحہ ایک آیت بن جاتا ہے۔
کبھی کسی گلی کے موڑ پر
کوئی فقیر ایسا جملہ کہہ دیتا ہے
جو پوری عمر کی تلاش کا جواب بن جاتا ہے۔
کبھی کسی عام دن میں
اتنی روشنی چھپی ہوتی ہے
کہ برسوں کا اندھیرا مٹ جاتا ہے۔
یہی وہ بات ہے جسے سمجھنے کے بعد
انسان زندگی سے لڑنا چھوڑ دیتا ہے
اور اسے پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔
زندگی کی سچائی بڑے الفاظ میں نہیں چھپی،
وہ تو چھوٹی باتوں کے دروازے پر کھڑی ہے۔
ہم بس اس لیے اسے نہیں دیکھ پاتے
کہ ہم بڑے ہونے کے زعم میں
چھوٹی باتوں کو سیکھ نہیں سمجھتے۔
جس دن ہم نے چھوٹی بات کو غور سے دیکھنا سیکھ لیا،
اس دن بڑی حقیقتیں خود چل کر
ہماری دہلیز پر آ بیٹھیں گی۔
کیونکہ سچ ہمیشہ نرم ہوتا ہے،
چھوٹا ہوتا ہے،
خاموش ہوتا ہے
اور اسی میں خدا کی سب سے بڑی صدا پوشیدہ ہوتی ہے۔
“ہر چیز میں حق کا جلوہ ہے،
لیکن وہ جلوہ صرف اُنہیں دکھائی دیتا ہے
جن کا دل آئینہ ہو گیا ہو۔”
دل آئینہ کب بنتا ہے؟
جب انسان چھوٹی باتوں میں بڑا مفہوم تلاش کرنا سیکھ لیتا ہے۔
اور یہی مقام ہے جہاں علم، تجربہ اور وجدان ایک ساتھ جھک جاتے ہیں۔
“زندگی اشاروں میں بولتی ہے“اشفاق احمد کہا کرتے تھے،
“زندگی الفاظ میں نہیں، اشاروں میں بات کرتی ہے۔
جس نے اشارہ سمجھ لیا، اُس نے سب کچھ سمجھ لیا۔”
زندگی تو ہر روز بات کرتی ہے،
کبھی درختوں کے سائے میں، پرندوں کے شور میں،
کسی مزدور کے پسینے میں،
کسی ماں کی دعا میں۔
مگر ہم اتنے شور میں گم ہیں
کہ زندگی کے اشارے ہم سے بات کیے بغیر گزر جاتے ہیں۔
اصل علم کتابوں سے نہیں،
لمحوں سے ملتا ہے،
اور لمحہ ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے،
لیکن اس کا اثر پوری زندگی پر پھیل جاتا ہے۔
کبھی کبھی ایک تنکا زندگی کی پوری حکمت سمجھا جاتا ہے
کسی نے فقیر سے کہا:
“مجھے کوئی بڑا سبق چاہیے، بڑی بات سناؤ بھی اور سمجھاؤ بھی !”
فقیر نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا،
ہوا میں اڑایا اور بولا:
“سبق کتنا بڑا چاہیے؟”
مسافر نے کہا: “بہت بڑا !”
فقیر مسکرا کر بولا:-
“تو پھر کان بڑےکر لے،
کیونکہ سبق ہمیشہ چھوٹا ہوتاہے
بڑا صرف اس کا اثر ہوتا ہے۔”
یہ جملہ گویا زندگی کا خلاصہ ہے۔
ہمیں سیکھنے کے لیے بڑی کتابوں کی نہیں،
بڑے دل کی ضرورت ہے۔
چھوٹے چھوٹے لمحوں کی بڑی چمک دیکھنے کے لیے آنکھ ہونی چاہیے !
کبھی
کسی بچے کی مسکراہٹ،
کسی اجنبی کی دعا،
کسی دوست کی خاموش موجودگی،
یہ سب معمولی باتیں لگتی ہیں،
لیکن کبھی کبھار یہی چھوٹے لمحے
زندگی کی سمت بدل دیتے ہیں۔
میں نے خود جب بھی کچھ سیکھا،
کبھی کسی صدمے سے نہیں سیکھا،
کسی چیخ یا حادثے سے نہیں،
بلکہ ایسے لمحے سے سیکھا
جو بظاہر بے معنی تھا۔
مگر اس میں پوری کائنات سمائی ہوئی تھی۔
اللہ اپنے راز ظاہر کرنے پہ آۓ تو بڑی بڑی کتابوں میں نہیں رکھتا،
بلکہ وہ چھوٹے واقعات میں رکھ دیتا ہے۔
بس آنکھ دیکھنے والی ہو،
دل سننے والا ہو،
تو ہر لمحہ ایک آیت بن جاتا ہے۔
کبھی کسی گلی کے موڑ پر
کوئی فقیر ایسا جملہ کہہ دیتا ہے
جو پوری عمر کی تلاش کا جواب بن جاتا ہے۔
کبھی کسی عام دن میں
اتنی روشنی چھپی ہوتی ہے
کہ برسوں کا اندھیرا مٹ جاتا ہے۔
یہی وہ بات ہے جسے سمجھنے کے بعد
انسان زندگی سے لڑنا چھوڑ دیتا ہے
اور اسے پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔
زندگی کی سچائی بڑے الفاظ میں نہیں چھپی،
وہ تو چھوٹی باتوں کے دروازے پر کھڑی ہے۔
ہم بس اس لیے اسے نہیں دیکھ پاتے
کہ ہم بڑے ہونے کے زعم میں
چھوٹی باتوں کو سیکھ نہیں سمجھتے۔
جس دن ہم نے چھوٹی بات کو غور سے دیکھنا سیکھ لیا،
اس دن بڑی حقیقتیں خود چل کر
ہماری دہلیز پر آ بیٹھیں گی۔
کیونکہ سچ ہمیشہ نرم ہوتا ہے،
چھوٹا ہوتا ہے،
خاموش ہوتا ہے
اور اسی میں خدا کی سب سے بڑی صدا پوشیدہ ہوتی ہے۔ابنِ عربی فرماتے ہیں:
“ہر چیز میں حق کا جلوہ ہے،
لیکن وہ جلوہ صرف اُنہیں دکھائی دیتا ہے
جن کا دل آئینہ ہو گیا ہو۔”
دل آئینہ کب بنتا ہے؟
جب انسان چھوٹی باتوں میں بڑا مفہوم تلاش کرنا سیکھ لیتا ہے۔
اور یہی مقام ہے جہاں علم، تجربہ اور وجدان ایک ساتھ جھک جاتے ہیں۔
“زندگی اشاروں میں بولتی ہے“اشفاق احمد کہا کرتے تھے،
“زندگی الفاظ میں نہیں، اشاروں میں بات کرتی ہے۔
جس نے اشارہ سمجھ لیا، اُس نے سب کچھ سمجھ لیا۔”
زندگی تو ہر روز بات کرتی ہے،
کبھی درختوں کے سائے میں، پرندوں کے شور میں،
کسی مزدور کے پسینے میں،
کسی ماں کی دعا میں۔
مگر ہم اتنے شور میں گم ہیں
کہ زندگی کے اشارے ہم سے بات کیے بغیر گزر جاتے ہیں۔
اصل علم کتابوں سے نہیں،
لمحوں سے ملتا ہے،
اور لمحہ ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے،
لیکن اس کا اثر پوری زندگی پر پھیل جاتا ہے۔
کبھی کبھی ایک تنکا زندگی کی پوری حکمت سمجھا جاتا ہے
کسی نے فقیر سے کہا:
“مجھے کوئی بڑا سبق چاہیے، بڑی بات سناؤ بھی اور سمجھاؤ بھی !”
فقیر نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا،
ہوا میں اڑایا اور بولا:
“سبق کتنا بڑا چاہیے؟”
مسافر نے کہا: “بہت بڑا !”
فقیر مسکرا کر بولا:-
“تو پھر کان بڑےکر لے،
کیونکہ سبق ہمیشہ چھوٹا ہوتاہے
بڑا صرف اس کا اثر ہوتا ہے۔”
یہ جملہ گویا زندگی کا خلاصہ ہے۔
ہمیں سیکھنے کے لیے بڑی کتابوں کی نہیں،
بڑے دل کی ضرورت ہے۔
چھوٹے چھوٹے لمحوں کی بڑی چمک دیکھنے کے لیے آنکھ ہونی چاہیے !
کبھی
کسی بچے کی مسکراہٹ،
کسی اجنبی کی دعا،
کسی دوست کی خاموش موجودگی،
یہ سب معمولی باتیں لگتی ہیں،
لیکن کبھی کبھار یہی چھوٹے لمحے
زندگی کی سمت بدل دیتے ہیں۔
میں نے خود جب بھی کچھ سیکھا،
کبھی کسی صدمے سے نہیں سیکھا،
کسی چیخ یا حادثے سے نہیں،
بلکہ ایسے لمحے سے سیکھا
جو بظاہر بے معنی تھا۔
مگر اس میں پوری کائنات سمائی ہوئی تھی۔
اللہ اپنے راز ظاہر کرنے پہ آۓ تو بڑی بڑی کتابوں میں نہیں رکھتا،
بلکہ وہ چھوٹے واقعات میں رکھ دیتا ہے۔
بس آنکھ دیکھنے والی ہو،
دل سننے والا ہو،
تو ہر لمحہ ایک آیت بن جاتا ہے۔
کبھی کسی گلی کے موڑ پر
کوئی فقیر ایسا جملہ کہہ دیتا ہے
جو پوری عمر کی تلاش کا جواب بن جاتا ہے۔
کبھی کسی عام دن میں
اتنی روشنی چھپی ہوتی ہے
کہ برسوں کا اندھیرا مٹ جاتا ہے۔
یہی وہ بات ہے جسے سمجھنے کے بعد
انسان زندگی سے لڑنا چھوڑ دیتا ہے
اور اسے پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔
زندگی کی سچائی بڑے الفاظ میں نہیں چھپی،
وہ تو چھوٹی باتوں کے دروازے پر کھڑی ہے۔
ہم بس اس لیے اسے نہیں دیکھ پاتے
کہ ہم بڑے ہونے کے زعم میں
چھوٹی باتوں کو سیکھ نہیں سمجھتے۔
جس دن ہم نے چھوٹی بات کو غور سے دیکھنا سیکھ لیا،
اس دن بڑی حقیقتیں خود چل کر
ہماری دہلیز پر آ بیٹھیں گی۔
کیونکہ سچ ہمیشہ نرم ہوتا ہے،
چھوٹا ہوتا ہے،
خاموش ہوتا ہے
اور اسی میں خدا کی سب سے بڑی صدا پوشیدہ ہوتی ہے۔ابنِ عربی فرماتے ہیں:
“ہر چیز میں حق کا جلوہ ہے،
لیکن وہ جلوہ صرف اُنہیں دکھائی دیتا ہے
جن کا دل آئینہ ہو گیا ہو۔”
دل آئینہ کب بنتا ہے؟
جب انسان چھوٹی باتوں میں بڑا مفہوم تلاش کرنا سیکھ لیتا ہے۔
اور یہی مقام ہے جہاں علم، تجربہ اور وجدان ایک ساتھ جھک جاتے ہیں۔
“زندگی اشاروں میں بولتی ہے“اشفاق احمد کہا کرتے تھے،
“زندگی الفاظ میں نہیں، اشاروں میں بات کرتی ہے۔
جس نے اشارہ سمجھ لیا، اُس نے سب کچھ سمجھ لیا۔”
زندگی تو ہر روز بات کرتی ہے،
کبھی درختوں کے سائے میں، پرندوں کے شور میں،
کسی مزدور کے پسینے میں،
کسی ماں کی دعا میں۔
مگر ہم اتنے شور میں گم ہیں
کہ زندگی کے اشارے ہم سے بات کیے بغیر گزر جاتے ہیں۔
اصل علم کتابوں سے نہیں،
لمحوں سے ملتا ہے،
اور لمحہ ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے،
لیکن اس کا اثر پوری زندگی پر پھیل جاتا ہے۔
کبھی کبھی ایک تنکا زندگی کی پوری حکمت سمجھا جاتا ہے
کسی نے فقیر سے کہا:
“مجھے کوئی بڑا سبق چاہیے، بڑی بات سناؤ بھی اور سمجھاؤ بھی !”
فقیر نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا،
ہوا میں اڑایا اور بولا:
“سبق کتنا بڑا چاہیے؟”
مسافر نے کہا: “بہت بڑا !”
فقیر مسکرا کر بولا:-
“تو پھر کان بڑےکر لے،
کیونکہ سبق ہمیشہ چھوٹا ہوتاہے
بڑا صرف اس کا اثر ہوتا ہے۔”
یہ جملہ گویا زندگی کا خلاصہ ہے۔
ہمیں سیکھنے کے لیے بڑی کتابوں کی نہیں،
بڑے دل کی ضرورت ہے۔
چھوٹے چھوٹے لمحوں کی بڑی چمک دیکھنے کے لیے آنکھ ہونی چاہیے !
کبھی
کسی بچے کی مسکراہٹ،
کسی اجنبی کی دعا،
کسی دوست کی خاموش موجودگی،
یہ سب معمولی باتیں لگتی ہیں،
لیکن کبھی کبھار یہی چھوٹے لمحے
زندگی کی سمت بدل دیتے ہیں۔
میں نے خود جب بھی کچھ سیکھا،
کبھی کسی صدمے سے نہیں سیکھا،
کسی چیخ یا حادثے سے نہیں،
بلکہ ایسے لمحے سے سیکھا
جو بظاہر بے معنی تھا۔
مگر اس میں پوری کائنات سمائی ہوئی تھی۔
اللہ اپنے راز ظاہر کرنے پہ آۓ تو بڑی بڑی کتابوں میں نہیں رکھتا،
بلکہ وہ چھوٹے واقعات میں رکھ دیتا ہے۔
بس آنکھ دیکھنے والی ہو،
دل سننے والا ہو،
تو ہر لمحہ ایک آیت بن جاتا ہے۔
کبھی کسی گلی کے موڑ پر
کوئی فقیر ایسا جملہ کہہ دیتا ہے
جو پوری عمر کی تلاش کا جواب بن جاتا ہے۔
کبھی کسی عام دن میں
اتنی روشنی چھپی ہوتی ہے
کہ برسوں کا اندھیرا مٹ جاتا ہے۔
یہی وہ بات ہے جسے سمجھنے کے بعد
انسان زندگی سے لڑنا چھوڑ دیتا ہے
اور اسے پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔
زندگی کی سچائی بڑے الفاظ میں نہیں چھپی،
وہ تو چھوٹی باتوں کے دروازے پر کھڑی ہے۔
ہم بس اس لیے اسے نہیں دیکھ پاتے
کہ ہم بڑے ہونے کے زعم میں
چھوٹی باتوں کو سیکھ نہیں سمجھتے۔
جس دن ہم نے چھوٹی بات کو غور سے دیکھنا سیکھ لیا،
اس دن بڑی حقیقتیں خود چل کر
ہماری دہلیز پر آ بیٹھیں گی۔
کیونکہ سچ ہمیشہ نرم ہوتا ہے،
چھوٹا ہوتا ہے،
خاموش ہوتا ہے
اور اسی میں خدا کی سب سے بڑی صدا پوشیدہ ہوتی ہے۔ابنِ عربی فرماتے ہیں:
“ہر چیز میں حق کا جلوہ ہے،
لیکن وہ جلوہ صرف اُنہیں دکھائی دیتا ہے
جن کا دل آئینہ ہو گیا ہو۔”
دل آئینہ کب بنتا ہے؟
جب انسان چھوٹی باتوں میں بڑا مفہوم تلاش کرنا سیکھ لیتا ہے۔
اور یہی مقام ہے جہاں علم، تجربہ اور وجدان ایک ساتھ جھک جاتے ہیں۔
“زندگی اشاروں میں بولتی ہے“اشفاق احمد کہا کرتے تھے،
“زندگی الفاظ میں نہیں، اشاروں میں بات کرتی ہے۔
جس نے اشارہ سمجھ لیا، اُس نے سب کچھ سمجھ لیا۔”
زندگی تو ہر روز بات کرتی ہے،
کبھی درختوں کے سائے میں، پرندوں کے شور میں،
کسی مزدور کے پسینے میں،
کسی ماں کی دعا میں۔
مگر ہم اتنے شور میں گم ہیں
کہ زندگی کے اشارے ہم سے بات کیے بغیر گزر جاتے ہیں۔
اصل علم کتابوں سے نہیں،
لمحوں سے ملتا ہے،
اور لمحہ ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے،
لیکن اس کا اثر پوری زندگی پر پھیل جاتا ہے۔
کبھی کبھی ایک تنکا زندگی کی پوری حکمت سمجھا جاتا ہے
کسی نے فقیر سے کہا:
“مجھے کوئی بڑا سبق چاہیے، بڑی بات سناؤ بھی اور سمجھاؤ بھی !”
فقیر نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا،
ہوا میں اڑایا اور بولا:
“سبق کتنا بڑا چاہیے؟”
مسافر نے کہا: “بہت بڑا !”
فقیر مسکرا کر بولا:-
“تو پھر کان بڑےکر لے،
کیونکہ سبق ہمیشہ چھوٹا ہوتاہے
بڑا صرف اس کا اثر ہوتا ہے۔”
یہ جملہ گویا زندگی کا خلاصہ ہے۔
ہمیں سیکھنے کے لیے بڑی کتابوں کی نہیں،
بڑے دل کی ضرورت ہے۔
چھوٹے چھوٹے لمحوں کی بڑی چمک دیکھنے کے لیے آنکھ ہونی چاہیے !
کبھی
کسی بچے کی مسکراہٹ،
کسی اجنبی کی دعا،
کسی دوست کی خاموش موجودگی،
یہ سب معمولی باتیں لگتی ہیں،
لیکن کبھی کبھار یہی چھوٹے لمحے
زندگی کی سمت بدل دیتے ہیں۔
میں نے خود جب بھی کچھ سیکھا،
کبھی کسی صدمے سے نہیں سیکھا،
کسی چیخ یا حادثے سے نہیں،
بلکہ ایسے لمحے سے سیکھا
جو بظاہر بے معنی تھا۔
مگر اس میں پوری کائنات سمائی ہوئی تھی۔
اللہ اپنے راز ظاہر کرنے پہ آۓ تو بڑی بڑی کتابوں میں نہیں رکھتا،
بلکہ وہ چھوٹے واقعات میں رکھ دیتا ہے۔
بس آنکھ دیکھنے والی ہو،
دل سننے والا ہو،
تو ہر لمحہ ایک آیت بن جاتا ہے۔
کبھی کسی گلی کے موڑ پر
کوئی فقیر ایسا جملہ کہہ دیتا ہے
جو پوری عمر کی تلاش کا جواب بن جاتا ہے۔
کبھی کسی عام دن میں
اتنی روشنی چھپی ہوتی ہے
کہ برسوں کا اندھیرا مٹ جاتا ہے۔
یہی وہ بات ہے جسے سمجھنے کے بعد
انسان زندگی سے لڑنا چھوڑ دیتا ہے
اور اسے پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔
زندگی کی سچائی بڑے الفاظ میں نہیں چھپی،
وہ تو چھوٹی باتوں کے دروازے پر کھڑی ہے۔
ہم بس اس لیے اسے نہیں دیکھ پاتے
کہ ہم بڑے ہونے کے زعم میں
چھوٹی باتوں کو سیکھ نہیں سمجھتے۔
جس دن ہم نے چھوٹی بات کو غور سے دیکھنا سیکھ لیا،
اس دن بڑی حقیقتیں خود چل کر
ہماری دہلیز پر آ بیٹھیں گی۔
کیونکہ سچ ہمیشہ نرم ہوتا ہے،
چھوٹا ہوتا ہے،
خاموش ہوتا ہے
اور اسی میں خدا کی سب سے بڑی صدا پوشیدہ ہوتی ہے۔