اسرائیلی وزیر بن گویر کا غزہ میں روزانہ 30 سے 40 فلسطینیوں کے قتل کا انتہائی اشتعال انگیز مطالبہ
تل ابیب(17 اگست 2026): اسرائیل کے قومی سلامتی مشیر اتمار بن گویر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کو غزہ کے اندر ہر رات 30 سے 40 افراد کو ہلاک کرنا چاہیے۔
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انتہائی اشتعال انگیز اور متنازع بیان دیا ہے کہ اسرائیلی فوج کو غزہ کے اندر ہر رات تیس سے چالیس فلسطینیوں کو قتل کرنا چاہیے۔
یہ بیان انہوں نے غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق یرغمالی روم براسلاوسکی (Braslavski)کے پوڈ کاسٹ میں دیا۔ اس دوران انہوں نے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں حالیہ کمی پر کڑی تنقید کی اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے اپنے اختلاف کا کھل کر اظہار کیا۔اتمار بن گویر نے کہا کہ یہ کارروائی صرف ان افراد تک محدود نہیں ہونی چاہیے جو فوری خطرہ بن رہے ہیں، بلکہ غزہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو زندہ رہنے کے قابل نہیں ہیں اور انہیں زندہ نہیں رہنا چاہیے کیونکہ وہ انسان ہی نہیں ہیں۔اس پوڈ کاسٹ میں اسرائیلی وزیر نے فلسطینیوں کی غزہ سے بڑے پیمانے پر جبری ہجرت اور وہاں دوبارہ اسرائیلی بستیاں بسانے کی بھی حمایت کی۔
ان کے اس نسل پرستانہ اور متنازع بیان پر عالمی سطح پر شدید مذمت کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ ماضی میں بھی ان کے ایسے بیانات کو بین الاقوامی عدالتوں میں نسل کشی کے ارادے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔
یہ بیان انہوں نے غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق یرغمالی روم براسلاوسکی (Braslavski)کے پوڈ کاسٹ میں دیا۔ اس دوران انہوں نے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں حالیہ کمی پر کڑی تنقید کی اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے اپنے اختلاف کا کھل کر اظہار کیا۔اتمار بن گویر نے کہا کہ یہ کارروائی صرف ان افراد تک محدود نہیں ہونی چاہیے جو فوری خطرہ بن رہے ہیں، بلکہ غزہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو زندہ رہنے کے قابل نہیں ہیں اور انہیں زندہ نہیں رہنا چاہیے کیونکہ وہ انسان ہی نہیں ہیں۔اس پوڈ کاسٹ میں اسرائیلی وزیر نے فلسطینیوں کی غزہ سے بڑے پیمانے پر جبری ہجرت اور وہاں دوبارہ اسرائیلی بستیاں بسانے کی بھی حمایت کی۔
ان کے اس نسل پرستانہ اور متنازع بیان پر عالمی سطح پر شدید مذمت کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ ماضی میں بھی ان کے ایسے بیانات کو بین الاقوامی عدالتوں میں نسل کشی کے ارادے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔