ہری پور: 15 روز سے لاپتہ 5 سالہ معصوم آیت نور کی لاش کنویں سے برآمد، مرکزی ملزم گرفتار
خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کے علاقے پٹھان کالونی سے 15 روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والی 5 سالہ معصوم بچی آیت نور کی لاش یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک کنویں سے برآمد ہو گئی ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے مرکزی ملزم سمیت 5 افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جن میں سے مرکزی ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور عوام نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ملزمان کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ہری پور: خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں 15 روز قبل اپنے گھر کے باہر سے لاپتہ ہونے والی 5 سالہ معصوم بچی آیت نور کا المناک ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ پولیس کے مطابق بچی کی لاش یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک گودام میں واقع کنویں سے برآمد کر لی گئی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آیت نور پٹھان کالونی میں گھر کے باہر کھیلتے ہوئے اچانک لاپتہ ہو گئی تھی۔ پولیس نے جدت پر مبنی تفتیش اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا تو بچی کو ایک لڑکے کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس فوٹیج کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے مرکزی ملزم اور اس کے دیگر ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔
تفتیشی حکام کے مطابق کیس میں اب تک 5 ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر کی عمریں 16 سال سے کم ہیں۔ دورانِ تفتیش مرکزی ملزم نے مجسٹریٹ کے سامنے بچی کو اغوا کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔
معصوم بچی کی لاش برآمد ہونے اور دل دہلا دینے والے انکشافات کے بعد علاقے میں فضا انتہائی سوگوار ہے اور مقامی شہریوں نے صدیق اکبر چوک پر جمع ہو کر شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین اور غم زدہ خاندان نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار ملزمان کو سخت ترین اور عبرتناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی ایسا بزدلانہ اور سفاکانہ اقدام نہ کر سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیشی اور قانونی کارروائی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔