آنکٹاڈ (UNCTAD) کی 1 ٹریلین ڈالر کی ایس ڈی جی اور کلائمیٹ فنڈنگ کی کمی پر تنبیہ
غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (FDI) میں جمود اور سخت کیپٹل مارکیٹیں عالمی پائیداری کے اہداف کو خطرے میں ڈال رہی ہیں، جس سے ترقی پذیر معیشتوں کو فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
انٹرنیشنل ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس (UNCTAD) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، عالمی غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کا بہاؤ شدید متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے منصوبوں کے لیے سالانہ 1 ٹریلین ڈالر کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ بلند شرح سود، جیو اکنامک تقسیم اور سپلائی چین کی تبدیلیوں کی وجہ سے نجی اور سرکاری سرمایہ کاروں نے ترقی پذیر ممالک میں بڑے پیمانے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ اگرچہ ترقی یافتہ منڈیوں میں پائیدار مالیاتی مصنوعات میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن سخت ضوابط کی وجہ سے نئے سرمائے کی آمد سست روی کا شکار ہے۔ انکٹاڈ نے عالمی پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سرمائے کی منتقلی کو آسان بنانے کے لیے فوری اصلاحات کریں۔