جماعتِ اسلامی کا پٹرولیم مصنوعات پر نافذ کردہ لیوی اور مہنگائی کے خلاف 17 اگست سے ملک گیر احتجاج کا اعلان
حافظ نعیم الرحمن نے عوام پر عائد اضافی ٹیکسوں اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کی کال دے دی۔
اگست 2026ء کو جماعتِ16 اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے منصورہ لاہور میں پارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادت کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کے بعد ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے پٹرولیم مصنوعات پر نافذ العمل بھاری پٹرولیم لیوی (Petroleum Levy) اور بجلی و گیس کے مسلسل بڑھتے ہوئے نرخوں کو "عوامی معاشی قتل" قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ حافظ نعیم نے اعلان کیا کہ جماعتِ اسلامی اس ظالمانہ معاشی پالیسی اور آئی ایم ایف کے ایجنڈے کے خلاف 17 اگست سے ملک کے تمام چاروں صوبائی دارالحکومتوں اور بڑے شاہراہوں پر دھرنوں اور پہیہ جام احتجاجی تحریک کا آغاز کر رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعتِ اسلامی کے کارکنان اور یوتھ ونگ کے نوجوان 17 اگست سے لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جبکہ کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنے دیں گے۔ جماعتِ اسلامی کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت میں فوری طور پر فی لیٹر 225 روپے تک کمی کی جائے اور عوام پر عائد کردہ غیر ضروری بالواسطہ ٹیکس واپس لیے جائیں۔ حافظ نعیم نے تاجروں، وکلاء، طلباء اور موٹر سائیکل سواروں سے اپیل کی کہ وہ اس عوامی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر پرامن احتجاج میں رکاوٹ ڈالی گئی تو یہ تحریک حکومت ہٹاؤ تحریک میں تبدیل ہو جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعتِ اسلامی کے کارکنان اور یوتھ ونگ کے نوجوان 17 اگست سے لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جبکہ کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنے دیں گے۔ جماعتِ اسلامی کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت میں فوری طور پر فی لیٹر 225 روپے تک کمی کی جائے اور عوام پر عائد کردہ غیر ضروری بالواسطہ ٹیکس واپس لیے جائیں۔ حافظ نعیم نے تاجروں، وکلاء، طلباء اور موٹر سائیکل سواروں سے اپیل کی کہ وہ اس عوامی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر پرامن احتجاج میں رکاوٹ ڈالی گئی تو یہ تحریک حکومت ہٹاؤ تحریک میں تبدیل ہو جائے گی۔