اتوار, 16 اگست 2026 | 2 ربیع الاول 1448 ہجری | 1 بھادوں
بریکنگ نیوز
ٹرمپ کا قوم سے خطاب: ایران کو "قدیم دور" میں دھکیلنے کی دھمکی، جنگی مقاصد کی تکمیل کا دعویٰ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا، جس کے بعد مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے برطانیہ کی قیادت میں 40 ممالک کا اتحاد سرگرم ہو گیا ہے اور مشترکہ فوجی و سفارتی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے پاکستان اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں اقوام متحدہ نے لبنان میں امن دستوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے جبکہ فرانسیسی پولیس نے یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن کو حراست میں لے لیا ہے عراق 40 سال اور ترکیہ 24 سال کے طویل وقفے کے بعد فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں قطر کی اہم ایل این جی تنصیبات پر حملوں کے بعد گیس کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر توانائی بحران کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق قطر کی گیس سپلائی میں کمی دنیا بھر میں قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
بہتر گورننس کے لیے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدہ مشاورت شروع

بہتر گورننس کے لیے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدہ مشاورت شروع

وفاقی حکومت کی جانب سے مجوزہ 28 ویں آئینی ترمیم کے تحت کراچی، گوادر، پنجاب اور کے پی کے میں نئے انتظامی زونز بنانے کی تجاویز پر بحث تیز ہو گئی۔

15 اگست کو وفاقی دارالحکومت میں مجوزہ 28 ویں آئینی ترمیم اور ملک میں نئے انتظامی زونز یا صوبوں کے قیام کے حوالے سے سیاسی و آئینی حلقوں میں سرگرمیاں عروج پر رہیں۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزارتِ قانون کی ٹیم کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر پاکستان پیپلز پارٹی، نون لیگ اور اتحاد تنظیموں کے آئینی ماہرین کے درمیان مشاورت کا دوسرا دور مکمل ہوا۔ زیرِ بحث خاکہ کے مطابق ملک کے موجودہ چاروں صوبوں کے انتظامی بوجھ کو کم کرنے اور گورننس کو بہتر بنانے کے لیے آئین میں ترمیم کر کے مزید انتظامی اکائیاں (Administrative Units) بنانے کی آئینی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

ان تجاویز کے تحت پنجاب کو تین انتظامی حصوں (سنٹرل پنجاب، ساؤتھ پنجاب اور پوٹھوہار زون)، خیبر پختونخوا کو دو حصوں (سرحد اور ملاکنڈ و ضم شدہ اضلاع) جبکہ کراچی اور گوادر کو خصوصی معاشی و انتظامی زونز کے طور پر براہِ راست تکنیکی فریم ورک دینے پر بات چیت کی گئی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد صوبائیت، لسانی تفریق اور مرکزیت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اضلاع کی سطح پر فنڈز کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنانا ہے۔ تاہم، اپوزیشن جماعتوں اور بعض قوم پرست رہنماؤں نے تجاویز کے بعض نکات پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی ترمیم سے قبل تمام پارلیمانی جماعتوں اور صوبائی اسمبلیوں کو اعتماد میں لیا جائے۔

متعلقہ خبریں اور کالم

جماعتِ اسلامی کا پٹرولیم مصنوعات پر نافذ کردہ لیوی اور مہنگائی کے خلاف 17 اگست سے ملک گیر احتجاج کا اعلان آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کے بعد نون لیگ حکومت بنانے کے قریب، نواز شریف کا علاقے کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان مقامی اور عالمی صرافہ بازار میں سونے کی قیمتوں میں یکدم 3,500 روپے فی تولہ کمی بحرِ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثی حملے میں 3 پاکستانی شہید، اسلام آباد کی سخت مذمت سالہ تعلق کے بعد کرسٹیانو رونالڈو اور جارجینا روڈریگز بالآخر رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئ8 فیفا صدر جانی انفانٹینو کو عہدے سے ہٹانے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت