بہتر گورننس کے لیے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدہ مشاورت شروع
وفاقی حکومت کی جانب سے مجوزہ 28 ویں آئینی ترمیم کے تحت کراچی، گوادر، پنجاب اور کے پی کے میں نئے انتظامی زونز بنانے کی تجاویز پر بحث تیز ہو گئی۔
15 اگست کو وفاقی دارالحکومت میں مجوزہ 28 ویں آئینی ترمیم اور ملک میں نئے انتظامی زونز یا صوبوں کے قیام کے حوالے سے سیاسی و آئینی حلقوں میں سرگرمیاں عروج پر رہیں۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزارتِ قانون کی ٹیم کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر پاکستان پیپلز پارٹی، نون لیگ اور اتحاد تنظیموں کے آئینی ماہرین کے درمیان مشاورت کا دوسرا دور مکمل ہوا۔ زیرِ بحث خاکہ کے مطابق ملک کے موجودہ چاروں صوبوں کے انتظامی بوجھ کو کم کرنے اور گورننس کو بہتر بنانے کے لیے آئین میں ترمیم کر کے مزید انتظامی اکائیاں (Administrative Units) بنانے کی آئینی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
ان تجاویز کے تحت پنجاب کو تین انتظامی حصوں (سنٹرل پنجاب، ساؤتھ پنجاب اور پوٹھوہار زون)، خیبر پختونخوا کو دو حصوں (سرحد اور ملاکنڈ و ضم شدہ اضلاع) جبکہ کراچی اور گوادر کو خصوصی معاشی و انتظامی زونز کے طور پر براہِ راست تکنیکی فریم ورک دینے پر بات چیت کی گئی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد صوبائیت، لسانی تفریق اور مرکزیت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اضلاع کی سطح پر فنڈز کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنانا ہے۔ تاہم، اپوزیشن جماعتوں اور بعض قوم پرست رہنماؤں نے تجاویز کے بعض نکات پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی ترمیم سے قبل تمام پارلیمانی جماعتوں اور صوبائی اسمبلیوں کو اعتماد میں لیا جائے۔
ان تجاویز کے تحت پنجاب کو تین انتظامی حصوں (سنٹرل پنجاب، ساؤتھ پنجاب اور پوٹھوہار زون)، خیبر پختونخوا کو دو حصوں (سرحد اور ملاکنڈ و ضم شدہ اضلاع) جبکہ کراچی اور گوادر کو خصوصی معاشی و انتظامی زونز کے طور پر براہِ راست تکنیکی فریم ورک دینے پر بات چیت کی گئی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد صوبائیت، لسانی تفریق اور مرکزیت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اضلاع کی سطح پر فنڈز کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنانا ہے۔ تاہم، اپوزیشن جماعتوں اور بعض قوم پرست رہنماؤں نے تجاویز کے بعض نکات پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی ترمیم سے قبل تمام پارلیمانی جماعتوں اور صوبائی اسمبلیوں کو اعتماد میں لیا جائے۔