ٹرمپ کا قوم سے خطاب: ایران کو "قدیم دور" میں دھکیلنے کی دھمکی، جنگی مقاصد کی تکمیل کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ خطاب میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن کامیابیوں کے قریب ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کو ایسی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے 20 منٹ کے دورانیے کے خطاب میں 'آپریشن ایپک فیوری' (Operation Epic Fury) کی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ ان کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
سخت وارننگ: انہوں نے کہا کہ اگلے دو سے تین ہفتوں میں ایران پر "انتہائی سخت" حملے کیے جائیں گے تاکہ اس کے فوجی ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
سویلین انفراسٹرکچر: ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے سرنڈر نہ کیا تو اس کے تمام بجلی گھروں (Power Plants) کو نشانہ بنا کر ملک کو "پتھر کے دور" میں واپس بھیج دیا جائے گا۔
عالمی تیل کی ترسیل: انہوں نے اتحادی ممالک پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو کھولنے کی ذمہ داری خود اٹھائیں کیونکہ امریکہ کو اب مشرق وسطیٰ کے تیل کی ضرورت نہیں ہے۔
ایرانی قیادت: ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی موجودہ نئی قیادت پچھلی قیادت کے مقابلے میں "زیادہ سمجھدار" ہے اور پسِ پردہ مذاکرات جاری ہیں
سخت وارننگ: انہوں نے کہا کہ اگلے دو سے تین ہفتوں میں ایران پر "انتہائی سخت" حملے کیے جائیں گے تاکہ اس کے فوجی ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
سویلین انفراسٹرکچر: ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے سرنڈر نہ کیا تو اس کے تمام بجلی گھروں (Power Plants) کو نشانہ بنا کر ملک کو "پتھر کے دور" میں واپس بھیج دیا جائے گا۔
عالمی تیل کی ترسیل: انہوں نے اتحادی ممالک پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو کھولنے کی ذمہ داری خود اٹھائیں کیونکہ امریکہ کو اب مشرق وسطیٰ کے تیل کی ضرورت نہیں ہے۔
ایرانی قیادت: ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی موجودہ نئی قیادت پچھلی قیادت کے مقابلے میں "زیادہ سمجھدار" ہے اور پسِ پردہ مذاکرات جاری ہیں