اسٹیٹ بینک کی رپورٹ: مالیاتی سال 2026 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 139 ملین ڈالر خسارے کا شکار
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ پچھلے سال کے سرپلس کے برعکس، مالیاتی سال 2025-26 کے اختتام پر ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا گیا ہے.
اسٹیٹ بینک (SBP) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مالیاتی سال 2025-26 کے اختتام پر 139 ملین ڈالر کے خسارے (CAD) کا شکار ہو گیا ہے، جبکہ اس سے پچھلے مالیاتی سال (2024-25) میں 1.838 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا. خلیجِ فارس کی جنگ اور اس کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو اس خسارے کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے. رپورٹ کے مطابق صرف جون 2026 کے ایک مہینے میں 649 ملین ڈالر کا بڑا تجارتی خسارہ دیکھا گیا. تاہم، اوورسیز پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی ریکارڈ ترسیلاتِ زر (Remittances) جو کہ 41.585 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، انہوں نے اس خسارے کو ایک بہت بڑی حد تک بڑھنے سے روکے رکھا، ورنہ امپورٹ بل بڑھنے اور ایکسپورٹ میں کمی کے باعث یہ دباؤ مزید شدید ہو سکتا تھا.