نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کویتی و ایرانی ہم منصبوں سے رابطہ، مکہ دفاعی معاہدے پر اعتماد میں لیا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے سفارتی سطح پر اہم پیش رفت جاری ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پس منظر میں اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ایران اور کویت کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے اس دفاعی معاہدے کے مقاصد اور علاقائی سلامتی پر اس کے اثرات پر تفصیلی بات چیت کی۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ سہ فریقی معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے میں پائیدار امن و استحکام کو فروغ دینا ہے، کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحیت نہیں۔ ایرانی ترجمان دفترِ خارجہ نے اس معاہدے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے خطے کی سیکیورٹی کے حوالے سے مثبت تبادلہ خیال کی تصدیق کی ہے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ اور جنوب ایشیائی ممالک کے درمیان دفاعی توازن برقرار رکھنے میں انتہائی اہم اور دور رس نتائج کی حامل ثابت ہوگی۔