اتوار, 23 اگست 2026 | 9 ربیع الاول 1448 ہجری | 8 بھادوں
بریکنگ نیوز
سیاسی و عسکری قیادت میں مکمل ہم آہنگی اور اسٹینڈنگ ہے: رانا ثنا اللہ پاکستان میں بارشوں کا سلسلہ جاری، راولپنڈی اور اسلام آباد میں سیلابی صورتحال کا عالمی کشیدگی کے باوجود پاکستان میں خام تیل کی درآمدات پر اہم پیش رفت امریکا سے 10 ارب ڈالر کے حصول کی کوششیں تیز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فو ن پر رابطہ پاکستانی روپے کی قدر میں استحکام کی توقع، عالمی مارکیٹ پر سرمایہ کاروں کی نظریں ہاکی ورلڈ کپ 2026، پاکستان اور بھارت ایک ہی گروپ میں شامل
گرمیوں میں بجلی کا بل کم کیسے کیا جائے؟

گرمیوں میں بجلی کا بل کم کیسے کیا جائے؟

ملک بھر میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے غریب اور متوسط طبقے کے ہوش اڑا کر رکھ دیے ہیں اور مستقبل میں بجلی کی قیمت میں کمی کے آثار بھی دکھائی نہیں دے رہے۔

تقریباً ہر پاکستانی بجلی کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں سے تنگ ہے، لیکن اگر آپ بھی اپنے گھر کی بجلی کا بل کم کرنا چاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کریں۔

موسم گرما کی شدت کے باعث گھروں اور دفاتر میں ایئر کنڈیشنر (اے سی) کا استعمال ضرورت بن گیا ہے، تاہم اے سی جتنے زیادہ گھنٹے چلتا ہے، بجلی کی کھپت بھی اتنی ہی بڑھتی ہے، جس کا اثر ماہ کے آخر میں بجلی کے بل پر واضح نظر آسکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ شدید گرمی میں گھر کو ٹھنڈا بھی رکھا جائے اور ایئر کنڈیشنر (اے سی) کو ہر وقت پوری طاقت پر چلانے سے بھی بچا جائے؟

یاد رکھیں!! اے سی کا درجہ حرارت چند ڈگری بڑھانے سے توانائی کی کھپت کم کی جاسکتی ہے، تاہم بہت زیادہ درجہ حرارت مقرر کرنے سے گھر کا ماحول غیر آرام دہ ہوسکتا ہے۔

بجلی کا بل کم کرنے کے لیے ایئر کنڈیشنر (اے سی) کا درجہ حرارت 26 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ رکھیں، تمام پرانے بلبوں کی جگہ ایل ای ڈی لائٹس استعمال کریں اور استعمال میں نہ ہونے پر الیکٹرانک آلات کے پلگ سوئچ سے نکال دیں۔

اگرچہ بجلی کا بل اے سی کی کارکردگی، گھر کے رقبے اور بیرونی درجہ حرارت سمیت کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے، لیکن اے سی پر مقرر کیا گیا درجہ حرارت بھی بجلی کی کھپت پر نمایاں اثر ڈالتا ہے۔

بعض ماہرین کے مطابق اے سی کا درجہ حرارت ہر ایک ڈگری بڑھانے سے توانائی کے اخراجات میں تقریباً 1 سے 3 فیصد تک بچت ہو سکتی ہے۔

یعنی اے سی کو 22 ڈگری کے بجائے 26 ڈگری سینٹی گریڈ پر چلانا کم توانائی استعمال کر سکتا ہے اور بجلی کے اخراجات بھی کم ہو سکتے ہیں۔

انتہائی گرم دنوں میں اے سی کو مکمل طور پر بند کرنا ہر صورت میں زیادہ مؤثر نہیں ہوتا۔ گھر کا درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھنے کی صورت میں واپسی پر اسے دوبارہ ٹھنڈا کرنے کے لیے اے سی کو زیادہ دیر اور زیادہ محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

ایسے حالات میں اے سی کو مکمل بند کرنے کے بجائے اس کا درجہ حرارت بڑھانا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔ صرف درجہ حرارت ہی اس بات کا تعین نہیں کرتا کہ موسم کتنا گرم محسوس ہو رہا ہے، زیادہ نمی کی وجہ سے ایک ہی درجہ حرارت زیادہ گرم اور گھٹن والا محسوس ہو سکتا ہے۔

اے سی کو بہت کم درجہ حرارت پر چلانے کے بجائے اسے کچھ زیادہ درجہ حرارت پر مقرر کرنے سے بجلی کی کھپت کم کی جا سکتی ہے۔

عام طور پر 24 سے 26 ڈگری سینٹی گریڈ اے سی کی ایسی ابتدائی ترتیب ہو سکتی ہے جو آرام اور توانائی کی بچت کے درمیان توازن قائم کرے۔


متعلقہ خبریں اور کالم

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کے بعد ایران کے بعض زمینی علاقوں پر کنٹرول کا دعویٰ پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کیلئے امریکی ویزوں کی کارروائی معطل کرنے کی پالیسی کالعدم قرار 50 فیصد ٹیرف !‌ کینیڈا کا امریکا سے تجارتی مذاکرات معطل کرنے کا اعلان برطانیہ میں مشتبہ گاڑی کا تعاقب کرنے والی پولیس موبائل کو حادثہ، 7 افراد ہلاک حزب اللہ کی درخواست پر انصار اللہ ’آبنائے باب المندب‘ بند کرنے کے لیے تیار ابتدائی رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی ہشاش بشاش ہیں: عطا اللہ تارڑ