اسٹار فٹبالر نیمار نے انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا
برازیلیا (06 جولائی 2026): برازیل کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد اسٹار کھلاڑی نیمار نے روتے ہوئے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا، اور اس طرح ان کا بین الاقوامی کیریئر وہیں ختم ہوا جہاں سے شروع ہوا تھا۔
برازیل کے مشہور فٹبالر نیمار نے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے اور اب وہ اپنی قومی ٹیم کی طرف سے نہیں کھیلیں گے۔ یہ فیصلہ انہوں نے اس وقت کیا جب ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف 16 میں ناروے نے برازیل کو 2-1 سے ہرا کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔ اتوار کو میچ ختم ہونے کے بعد نیمار کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ان کا یہ سفر اسی میٹ لائف اسٹیڈیم سے شروع ہوا تھا اور اب یہیں ختم ہو رہا ہے، اب سب کچھ مکمل ہو چکا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 34 سالہ نیمار نے اپنے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز بھی اسی اسٹیڈیم سے کیا تھا، جب انہوں نے 10 اگست 2010 کو امریکہ کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلا۔ نیمار برازیل کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں اور انہوں نے اپنے ملک کے لیے پہلا گول عظیم فٹبالر پیلے سے بھی کم عمر میں کیا تھا۔ ناروے کے خلاف اپنے آخری میچ میں وہ میچ کے آخری حصے میں متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان میں آئے اور پنالٹی پر برازیل کی طرف سے واحد گول کیا۔ میچ ختم ہوتے ہی وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور رو پڑے، جس پر ان کے ساتھی کھلاڑیوں نے انہیں سنبھالا۔
بدقسمتی سے پنڈلی کی تکلیف کی وجہ سے نیمار اس ورلڈ کپ کے پانچ میں سے صرف دو میچز کھیل سکے اور گروپ اسٹیج پر اسکاٹ لینڈ کے خلاف بھی وہ صرف 15 منٹ ہی ایکشن میں نظر آئے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران وہ مسلسل انجری کا شکار رہے جس نے ان کے کھیل کو کافی متاثر کیا۔ نیمار کے جانے کے بعد اب برازیل کی فٹبال ٹیم ایک نئے دور میں قدم رکھ رہی ہے جہاں نوجوان کھلاڑیوں کو آگے آنا ہے۔ اس موقع پر ٹیم کے کپتان مارکینیوس نے مداحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نئی نسل کے کھلاڑیوں کے ساتھ صبر کا مظاہرہ کریں اور شروع سے ہی ان کا بھرپور ساتھ دیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 34 سالہ نیمار نے اپنے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز بھی اسی اسٹیڈیم سے کیا تھا، جب انہوں نے 10 اگست 2010 کو امریکہ کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلا۔ نیمار برازیل کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں اور انہوں نے اپنے ملک کے لیے پہلا گول عظیم فٹبالر پیلے سے بھی کم عمر میں کیا تھا۔ ناروے کے خلاف اپنے آخری میچ میں وہ میچ کے آخری حصے میں متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان میں آئے اور پنالٹی پر برازیل کی طرف سے واحد گول کیا۔ میچ ختم ہوتے ہی وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور رو پڑے، جس پر ان کے ساتھی کھلاڑیوں نے انہیں سنبھالا۔
بدقسمتی سے پنڈلی کی تکلیف کی وجہ سے نیمار اس ورلڈ کپ کے پانچ میں سے صرف دو میچز کھیل سکے اور گروپ اسٹیج پر اسکاٹ لینڈ کے خلاف بھی وہ صرف 15 منٹ ہی ایکشن میں نظر آئے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران وہ مسلسل انجری کا شکار رہے جس نے ان کے کھیل کو کافی متاثر کیا۔ نیمار کے جانے کے بعد اب برازیل کی فٹبال ٹیم ایک نئے دور میں قدم رکھ رہی ہے جہاں نوجوان کھلاڑیوں کو آگے آنا ہے۔ اس موقع پر ٹیم کے کپتان مارکینیوس نے مداحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نئی نسل کے کھلاڑیوں کے ساتھ صبر کا مظاہرہ کریں اور شروع سے ہی ان کا بھرپور ساتھ دیں۔