اتوار, 16 اگست 2026 | 2 ربیع الاول 1448 ہجری | 1 بھادوں
بریکنگ نیوز
ٹرمپ کا قوم سے خطاب: ایران کو "قدیم دور" میں دھکیلنے کی دھمکی، جنگی مقاصد کی تکمیل کا دعویٰ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا، جس کے بعد مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے برطانیہ کی قیادت میں 40 ممالک کا اتحاد سرگرم ہو گیا ہے اور مشترکہ فوجی و سفارتی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے پاکستان اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں اقوام متحدہ نے لبنان میں امن دستوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے جبکہ فرانسیسی پولیس نے یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن کو حراست میں لے لیا ہے عراق 40 سال اور ترکیہ 24 سال کے طویل وقفے کے بعد فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں قطر کی اہم ایل این جی تنصیبات پر حملوں کے بعد گیس کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر توانائی بحران کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق قطر کی گیس سپلائی میں کمی دنیا بھر میں قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
فیفا میں بحران کی شدت: یوفا اور اے ایف سی کا انفینٹینو پر عدم اعتماد

فیفا میں بحران کی شدت: یوفا اور اے ایف سی کا انفینٹینو پر عدم اعتماد

فیفا کے اندرونی انتظامی مسائل کے باعث یوفا، ایشیائی اور کون کاکاف کنفیڈریشنز نے آئندہ ٹورنامنٹس کے بائیکاٹ پر غور شروع کر دیا ہے۔

عالمی فٹبال کی نگران تنظیم فیفا کے اندرونی انتظامی مسائل اور اختلافات میں شدت آ گئی ہے۔
تین بڑے عالمی براعظمی باڈیز یوفا (یورپ)، اے ایف سی (ایشیا) اور کون کاکاف نے فیفا صدر پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ کنفیڈریشنز فیفا کے فیصلے اور یکطرفہ پالیسیوں پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ آئندہ عالمی ایونٹس کے بائیکاٹ کے آپشن پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
فیفا صدر جیانی انفینٹینو کی انتظامی پالیسیوں کو اس بحران کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
فٹبال بورڈز کا موقف ہے کہ اہم عالمی فیصلے کنفیڈریشنز کو اعتمادی میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔
اس انتظامی انتشار کی وجہ سے بین الاقوامی فٹبال کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر معترضین بائیکاٹ کی طرف گئے تو فٹبال انڈسٹری کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہو سکتا ہے۔
یوفا اور ایشیائی کرکٹ/فٹبال رہنماؤں کے درمیان ہنگامی اجلاس بلائے جانے کا امکان ہے۔
فیفا کے ترجمان نے تاحال اس بحران پر کوئی باضابطہ مفصل ردعمل جاری نہیں کیا۔
عالمی برادری اس کشیدگی کو حل کرنے کے لیے سفارتی مداخلت کی خواہش مند ہے۔
اس تنازع نے فٹبال ورلڈ کپ کے انتظامی ڈھانچے اور نشریاتی حقوق پر بھی سائے ڈال دیے ہیں۔
کھیلوں کے وکلا اور مبصرین اس صورتحال کو فیفا کی تاریخ کا بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔
شائقین فٹبال نے کھیل کو سیاست اور انتظامی کھینچ تان سے دور رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آئندہ چند روز میں فیفا کی ایگزیکٹو کونسل کی اہم میٹنگ متوقع ہے۔

متعلقہ خبریں اور کالم

جماعتِ اسلامی کا پٹرولیم مصنوعات پر نافذ کردہ لیوی اور مہنگائی کے خلاف 17 اگست سے ملک گیر احتجاج کا اعلان بہتر گورننس کے لیے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدہ مشاورت شروع آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کے بعد نون لیگ حکومت بنانے کے قریب، نواز شریف کا علاقے کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان مقامی اور عالمی صرافہ بازار میں سونے کی قیمتوں میں یکدم 3,500 روپے فی تولہ کمی بحرِ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثی حملے میں 3 پاکستانی شہید، اسلام آباد کی سخت مذمت سالہ تعلق کے بعد کرسٹیانو رونالڈو اور جارجینا روڈریگز بالآخر رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئ8