فیفا میں بحران کی شدت: یوفا اور اے ایف سی کا انفینٹینو پر عدم اعتماد
فیفا کے اندرونی انتظامی مسائل کے باعث یوفا، ایشیائی اور کون کاکاف کنفیڈریشنز نے آئندہ ٹورنامنٹس کے بائیکاٹ پر غور شروع کر دیا ہے۔
عالمی فٹبال کی نگران تنظیم فیفا کے اندرونی انتظامی مسائل اور اختلافات میں شدت آ گئی ہے۔
تین بڑے عالمی براعظمی باڈیز یوفا (یورپ)، اے ایف سی (ایشیا) اور کون کاکاف نے فیفا صدر پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ کنفیڈریشنز فیفا کے فیصلے اور یکطرفہ پالیسیوں پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ آئندہ عالمی ایونٹس کے بائیکاٹ کے آپشن پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
فیفا صدر جیانی انفینٹینو کی انتظامی پالیسیوں کو اس بحران کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
فٹبال بورڈز کا موقف ہے کہ اہم عالمی فیصلے کنفیڈریشنز کو اعتمادی میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔
اس انتظامی انتشار کی وجہ سے بین الاقوامی فٹبال کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر معترضین بائیکاٹ کی طرف گئے تو فٹبال انڈسٹری کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہو سکتا ہے۔
یوفا اور ایشیائی کرکٹ/فٹبال رہنماؤں کے درمیان ہنگامی اجلاس بلائے جانے کا امکان ہے۔
فیفا کے ترجمان نے تاحال اس بحران پر کوئی باضابطہ مفصل ردعمل جاری نہیں کیا۔
عالمی برادری اس کشیدگی کو حل کرنے کے لیے سفارتی مداخلت کی خواہش مند ہے۔
اس تنازع نے فٹبال ورلڈ کپ کے انتظامی ڈھانچے اور نشریاتی حقوق پر بھی سائے ڈال دیے ہیں۔
کھیلوں کے وکلا اور مبصرین اس صورتحال کو فیفا کی تاریخ کا بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔
شائقین فٹبال نے کھیل کو سیاست اور انتظامی کھینچ تان سے دور رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آئندہ چند روز میں فیفا کی ایگزیکٹو کونسل کی اہم میٹنگ متوقع ہے۔
تین بڑے عالمی براعظمی باڈیز یوفا (یورپ)، اے ایف سی (ایشیا) اور کون کاکاف نے فیفا صدر پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ کنفیڈریشنز فیفا کے فیصلے اور یکطرفہ پالیسیوں پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ آئندہ عالمی ایونٹس کے بائیکاٹ کے آپشن پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
فیفا صدر جیانی انفینٹینو کی انتظامی پالیسیوں کو اس بحران کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
فٹبال بورڈز کا موقف ہے کہ اہم عالمی فیصلے کنفیڈریشنز کو اعتمادی میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔
اس انتظامی انتشار کی وجہ سے بین الاقوامی فٹبال کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر معترضین بائیکاٹ کی طرف گئے تو فٹبال انڈسٹری کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہو سکتا ہے۔
یوفا اور ایشیائی کرکٹ/فٹبال رہنماؤں کے درمیان ہنگامی اجلاس بلائے جانے کا امکان ہے۔
فیفا کے ترجمان نے تاحال اس بحران پر کوئی باضابطہ مفصل ردعمل جاری نہیں کیا۔
عالمی برادری اس کشیدگی کو حل کرنے کے لیے سفارتی مداخلت کی خواہش مند ہے۔
اس تنازع نے فٹبال ورلڈ کپ کے انتظامی ڈھانچے اور نشریاتی حقوق پر بھی سائے ڈال دیے ہیں۔
کھیلوں کے وکلا اور مبصرین اس صورتحال کو فیفا کی تاریخ کا بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔
شائقین فٹبال نے کھیل کو سیاست اور انتظامی کھینچ تان سے دور رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آئندہ چند روز میں فیفا کی ایگزیکٹو کونسل کی اہم میٹنگ متوقع ہے۔