چین میں ایشیا کے امیر ترین رہنے والے شخص کو عمر قید کی سزا
بیجنگ (20 اگست 2026): دنیا کے سب سے زیادہ قرض میں ڈوبے ہوئے پراپرٹی ڈویلپر ’چائنا ایورگرینڈ گروپ‘ کے بانی ہوئی کا یان کو ایک چینی عدالت نے جمعرات کے روز عمر قید کی سزا سنا دی۔
روئٹرز کے مطابق ہوئی کا یان کو یہ سزا کمپنی کے دیوالیہ ہونے کے 5 سال بعد سنائی گئی ہے، جس کے نتیجے میں چین کی معیشت اور مالیاتی منڈیوں کو شدید دھچکا لگا تھا۔
ہوئی کا یان ایشیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز بھی رکھتے تھے، انھوں نے اپریل میں 8 الزامات میں اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔ ان الزامات میں رقوم کا غلط استعمال، فنڈز اکٹھے کرنے میں فراڈ، عوام سے غیر قانونی طور پر رقوم جمع کرنا، غیر قانونی طور پر قرضوں میں توسیع، سیکیورٹیز کا دھوکا دہی سے اجرا اور رشوت شامل ہیں۔
چین کی بڑی پراپرٹی کمپنی
ایورگرینڈ، جو کبھی چین کی صفِ اول کی پراپرٹی ڈویلپر کمپنی تھی، اپنی تقریباً 300 ارب ڈالر کی واجبات میں سے بیش تر کی ادائیگی میں ناکام ہو چکی ہے۔ کمپنی کے بحران نے چین کے پراپرٹی سیکٹر میں جاری ایک ایسے بحران کی علامت اختیار کر لی ہے جس نے دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کو طویل عرصے سے متاثر کر رکھا ہے۔
چین کے جنوبی شہر شینژن کی عدالت میں سنائی جانے والی سزا میں ’ہوئی کا یان‘ کی تمام ذاتی جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی شامل ہے۔ اس فیصلے سے اگرچہ ان کی غربت سے دولت تک پہنچنے کی داستان اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے، تاہم امکان کم ہے کہ اس سے ایورگرینڈ کے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک قرض خواہوں کو کوئی خاص اطمینان حاصل ہوگا۔
ہوئی کو 2023 میں چینی حکام نے حراست میں لے لیا تھا، جس کے بعد سے انھیں عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا تھا، یہ گرفتاری ایورگرینڈ کے قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی کے بعد عمل میں آئی تھی۔
عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں 67 سالہ سفید بالوں والے ہوئی کو 2 اہلکاروں کے درمیان کھڑے دکھایا گیا۔ انھوں نے لمبی آستین والی گہرے نیلے رنگ کی کالر والی قمیض پہن رکھی تھی، جب کہ عدالت ان کے خلاف سزا پڑھ کر سنا رہی تھی۔
ہوئی کی سزا کے علاوہ عدالت نے ایورگرینڈ پر 8.82 ارب یوآن (1.31 ارب ڈالر) اور اس کی مرکزی ذیلی کمپنی ہینگڈا (Hengda) پر 7 ارب یوآن جرمانہ عائد کیا۔ عدالت نے کمپنی کے مزید 5 اعلیٰ عہدیداروں کو بھی 6 سے 18 سال تک قید اور جرمانوں کی سزائیں سنائیں۔ سرکاری میڈیا سی سی ٹی وی کے مطابق جمعرات کو مجموعی طور پر ہوئی کے علاوہ ایورگرینڈ سے وابستہ 56 افراد کو سزائیں سنائی گئیں۔
عدالت نے اپنے بیان میں کہا ’’ایورگرینڈ گروپ، ہینگڈا رئیل اسٹیٹ اور ہوئی کا یان کی مجرمانہ کارروائیوں میں انتہائی بھاری رقوم شامل تھیں اور حالات انتہائی سنگین تھے۔ ان کارروائیوں سے غیر معمولی طور پر بڑے معاشی نقصانات ہوئے اور معاشرے کو انتہائی سنگین نقصان پہنچا، اس لیے قانون کے مطابق سخت سزا دی جانی چاہیے۔‘‘
یاد رہے کہ کمپنی کی جانب سے اربوں ڈالر مالیت کے ویلتھ مینجمنٹ پروڈکٹس کی رقم واپس کرنے میں ناکامی کے بعد احتجاج شروع ہو گئے تھے، جس سے سماجی استحکام کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ ان عام سرمایہ کاروں میں بہت سے کم آمدنی والے افراد بھی شامل تھے، جنھوں نے اپنی جمع پونجی ختم ہوتے دیکھی۔
ہوئی کی پرورش کس نے کی؟
ہوئی کا یان کی پرورش ان کی دادی نے وسطی چین کے صوبے ہینان کے ایک دیہی گاؤں میں کی۔ وہ پہلے اسٹیل ٹیکنیشن تھے۔ انھوں نے 1996 میں ایورگرینڈ قائم کی اور جارحانہ انداز میں قرض لے کر اسے معاہدہ شدہ فروخت کے اعتبار سے چین کی سب سے بڑی پراپرٹی ڈویلپر کمپنی بنا دیا۔
فوربز کے مطابق 2017 میں ہوئی کی مجموعی دولت 45.3 ارب ڈالر تھی، جو اس وقت ایشیا میں سب سے زیادہ تھی۔ ہانگ کانگ کی ایک عدالت نے 2024 میں ایورگرینڈ کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا، جب کہ ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج نے گزشتہ سال کمپنی کو فہرست سے خارج کر دیا، جس کے ساتھ کمپنی کے عروج سے زوال تک کے ہنگامہ خیز سفر کا اختتام ہو گیا۔
ہوئی کا یان ایشیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز بھی رکھتے تھے، انھوں نے اپریل میں 8 الزامات میں اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔ ان الزامات میں رقوم کا غلط استعمال، فنڈز اکٹھے کرنے میں فراڈ، عوام سے غیر قانونی طور پر رقوم جمع کرنا، غیر قانونی طور پر قرضوں میں توسیع، سیکیورٹیز کا دھوکا دہی سے اجرا اور رشوت شامل ہیں۔
چین کی بڑی پراپرٹی کمپنی
ایورگرینڈ، جو کبھی چین کی صفِ اول کی پراپرٹی ڈویلپر کمپنی تھی، اپنی تقریباً 300 ارب ڈالر کی واجبات میں سے بیش تر کی ادائیگی میں ناکام ہو چکی ہے۔ کمپنی کے بحران نے چین کے پراپرٹی سیکٹر میں جاری ایک ایسے بحران کی علامت اختیار کر لی ہے جس نے دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کو طویل عرصے سے متاثر کر رکھا ہے۔
چین کے جنوبی شہر شینژن کی عدالت میں سنائی جانے والی سزا میں ’ہوئی کا یان‘ کی تمام ذاتی جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی شامل ہے۔ اس فیصلے سے اگرچہ ان کی غربت سے دولت تک پہنچنے کی داستان اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے، تاہم امکان کم ہے کہ اس سے ایورگرینڈ کے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک قرض خواہوں کو کوئی خاص اطمینان حاصل ہوگا۔
ہوئی کو 2023 میں چینی حکام نے حراست میں لے لیا تھا، جس کے بعد سے انھیں عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا تھا، یہ گرفتاری ایورگرینڈ کے قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی کے بعد عمل میں آئی تھی۔
عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں 67 سالہ سفید بالوں والے ہوئی کو 2 اہلکاروں کے درمیان کھڑے دکھایا گیا۔ انھوں نے لمبی آستین والی گہرے نیلے رنگ کی کالر والی قمیض پہن رکھی تھی، جب کہ عدالت ان کے خلاف سزا پڑھ کر سنا رہی تھی۔
ہوئی کی سزا کے علاوہ عدالت نے ایورگرینڈ پر 8.82 ارب یوآن (1.31 ارب ڈالر) اور اس کی مرکزی ذیلی کمپنی ہینگڈا (Hengda) پر 7 ارب یوآن جرمانہ عائد کیا۔ عدالت نے کمپنی کے مزید 5 اعلیٰ عہدیداروں کو بھی 6 سے 18 سال تک قید اور جرمانوں کی سزائیں سنائیں۔ سرکاری میڈیا سی سی ٹی وی کے مطابق جمعرات کو مجموعی طور پر ہوئی کے علاوہ ایورگرینڈ سے وابستہ 56 افراد کو سزائیں سنائی گئیں۔
عدالت نے اپنے بیان میں کہا ’’ایورگرینڈ گروپ، ہینگڈا رئیل اسٹیٹ اور ہوئی کا یان کی مجرمانہ کارروائیوں میں انتہائی بھاری رقوم شامل تھیں اور حالات انتہائی سنگین تھے۔ ان کارروائیوں سے غیر معمولی طور پر بڑے معاشی نقصانات ہوئے اور معاشرے کو انتہائی سنگین نقصان پہنچا، اس لیے قانون کے مطابق سخت سزا دی جانی چاہیے۔‘‘
یاد رہے کہ کمپنی کی جانب سے اربوں ڈالر مالیت کے ویلتھ مینجمنٹ پروڈکٹس کی رقم واپس کرنے میں ناکامی کے بعد احتجاج شروع ہو گئے تھے، جس سے سماجی استحکام کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ ان عام سرمایہ کاروں میں بہت سے کم آمدنی والے افراد بھی شامل تھے، جنھوں نے اپنی جمع پونجی ختم ہوتے دیکھی۔
ہوئی کی پرورش کس نے کی؟
ہوئی کا یان کی پرورش ان کی دادی نے وسطی چین کے صوبے ہینان کے ایک دیہی گاؤں میں کی۔ وہ پہلے اسٹیل ٹیکنیشن تھے۔ انھوں نے 1996 میں ایورگرینڈ قائم کی اور جارحانہ انداز میں قرض لے کر اسے معاہدہ شدہ فروخت کے اعتبار سے چین کی سب سے بڑی پراپرٹی ڈویلپر کمپنی بنا دیا۔
فوربز کے مطابق 2017 میں ہوئی کی مجموعی دولت 45.3 ارب ڈالر تھی، جو اس وقت ایشیا میں سب سے زیادہ تھی۔ ہانگ کانگ کی ایک عدالت نے 2024 میں ایورگرینڈ کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا، جب کہ ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج نے گزشتہ سال کمپنی کو فہرست سے خارج کر دیا، جس کے ساتھ کمپنی کے عروج سے زوال تک کے ہنگامہ خیز سفر کا اختتام ہو گیا۔