مہنگائی کے خدشات کے پیشِ نظر مرکزی بینکوں نے شرحِ سود برقرار رکھی
اہم مرکزی بینکوں نے بنیادی پالیسی ریٹ کو برقرار رکھا ہے کیونکہ معاشی پیشگوئیاں ظاہر کرتی ہیں کہ آنے والے مہینوں میں افراطِ زر میں عارضی اضافہ ہو سکتا ہے۔
مرکزی بینک اور مالیاتی ادارے مسلسل مہنگائی کے اعداد و شمار اور بدلتے ہوئے معاشی اشاریوں کے جواب میں بنیادی شرحِ سود کو بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھ رہے ہیں۔ پالیسی کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ عالمی معاشی نمو معتدل ہے، لیکن توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور اجرتوں کا دباؤ صارفین کی افراطِ زر کو عارضی طور پر 3 فیصد تک بڑھا سکتا ہے، جس کے بعد یہ طویل المدتی ہدف پر مستحکم ہوگی۔ بین الاقوامی اداروں کے منڈی تجزیہ کاروں نے اس فیصلے کی توقع کی تھی، اور یہ مشورہ دیا ہے کہ شرح سود میں وقت سے پہلے کمی افراطِ زر کے چکر کو دوبارہ فعال کر سکتی ہے۔ مالیاتی ادارے آئندہ کی مالیاتی پالیسی رپورٹس اور لیکویڈیٹی کے اشاریوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ کاروباری ادارے دنیا بھر میں قرضوں کی بلند لاگت اور محتاط کارپوریٹ ماحول کا مقاب