آوارہ کتوں سے پریشان شہری کا انوکھا احتجاج، ویڈیو وائرل
(19 اگست 2026): بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد اور کاٹنے کے واقعات سے پریشان شہری نے انوکھا احتجاج کیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع کھنڈوا میں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے آوارہ کتوں کی نس بندی کے پروگرام میں مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف ایک انوکھا احتجاج سامنے آیا۔ میونسپل کارپوریشن میں حزب اختلاف کے رہنما دیپک راٹھور ایک شخص کو کتے کا ماسک پہنا کر عوامی سماعت میں لے آئے۔
واضح رہے کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران کھنڈوا میں کتوں کے کاٹنے کے 13 ہزار 225 واقعات رپورٹ ہوئے۔
حزب اختلاف کے رہنما کا الزام ہے کہ میونسپل کارپوریشن نے آوارہ کتوں کی نس بندی مہم پر 40 لاکھ روپے سے زائد کی رقم خرچ کی، اس کے باوجود آوارہ کتوں کی آبادی میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مبینہ طور پر جس کتے کی نس بندی کی گئی تھی، اس کے ہاں بعد میں چھ بچے پیدا ہوئے جو اس مہم کی کارکردگی اور نفاذ پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔
کتے کا ماسک پہننے شخص کو میونسپل کارپوریشن میں احتجاج کے دوران پولیس نے گیٹ پر روکنے کی کوشش کی لیکن حکام کی مداخلت کے بعد اسے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔
اپوزیشن رہنما نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (اے ڈی ایم) کاشی رام بدولے کو ایک میمورنڈم سونپ کر فنڈز کے استعمال، ٹینڈر کے عمل اور زمینی حقائق کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا جبکہ قصوروار حکام یا ٹھیکیداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران کھنڈوا میں کتوں کے کاٹنے کے 13 ہزار 225 واقعات رپورٹ ہوئے۔
حزب اختلاف کے رہنما کا الزام ہے کہ میونسپل کارپوریشن نے آوارہ کتوں کی نس بندی مہم پر 40 لاکھ روپے سے زائد کی رقم خرچ کی، اس کے باوجود آوارہ کتوں کی آبادی میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مبینہ طور پر جس کتے کی نس بندی کی گئی تھی، اس کے ہاں بعد میں چھ بچے پیدا ہوئے جو اس مہم کی کارکردگی اور نفاذ پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔
کتے کا ماسک پہننے شخص کو میونسپل کارپوریشن میں احتجاج کے دوران پولیس نے گیٹ پر روکنے کی کوشش کی لیکن حکام کی مداخلت کے بعد اسے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔
اپوزیشن رہنما نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (اے ڈی ایم) کاشی رام بدولے کو ایک میمورنڈم سونپ کر فنڈز کے استعمال، ٹینڈر کے عمل اور زمینی حقائق کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا جبکہ قصوروار حکام یا ٹھیکیداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔