امن کا ادھورا خواب
پاکستان میں امن کی نازک صورتحال کا ایک تجزیاتی جائزہ، جس میں فوجی آپریشنز کی کامیابیوں کے باوجود بنوں اور لکی مروت میں حالیہ حملوں کو اجاگر کیا گیا ہے
نوان: امن کا ادھورا خواب
تحریر ظہیر احمد ہنجرا
ہم سب کے دلوں میں ایک نرم سی خواہش انگڑائی لیتی ہے کہ شاید اب اندھیروں کا سفر مختصر ہو رہا ہے، شاید افق پر روشنی کی پہلی لکیر نمودار ہو چکی ہے۔ بلاشبہ، آپریشن غضبُ للحق کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں کمی ایک امید افزا اشارہ ہے۔گویا زخم خوردہ زمین پر مرہم کی پہلی تہہ رکھی گئی ہو۔ مگر حقیقت کی کڑوی دھوپ یہ باور کراتی ہے کہ خطرہ ابھی پوری طرح ٹلا نہیں۔ بنوں کے ڈومیل پولیس اسٹیشن پر ہونے والا حالیہ حملہ اسی ادھورے امن کی داستان سناتا ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ کی کہانی ہے جو ابھی ختم نہیں ہوئی اور جس کا بوجھ اب بھی عام انسان کے کندھوں پر ہے۔
لکی مروت میں ایک بڑے حملے کا بروقت ناکام بنایا جانا یقیناً حوصلہ افزا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب نگاہیں بیدار ہوں اور معلومات قابل بھروسہ ہوں تو کئی زندگیاں موت کے منہ میں جانے سے بچ سکتی ہیں۔ مگر دل کے کسی گوشے میں ایک سوال سر اٹھاتا ہے کیا ہم ہر بار اتنے ہی مستعد، اتنے ہی تیار ہوتے ہیں؟
خیبر پختونخوا کی سرزمین تو پہلے ہی نازک توازن پر کھڑی ہے۔ سرحدی قربت اسے مسلسل خطرات کے سائے میں رکھتی ہے۔ کچھ عناصر اب بھی سرحد پار کی دھند میں چھپ کر حالات کو بگاڑنے کی سعی کرتے ہیں۔ ایسے میں محض عسکری کارروائیاں کافی نہیں ہوتیں؛ ضرورت ایک ایسے مستقل، مدبرانہ نظام کی ہے جہاں انٹیلی جنس کی آنکھ کبھی نہ جھپکے، اور خطرے کی آہٹ کو اس کے نمودار ہونے سے پہلے ہی سن لیا جائے۔
ادھر پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی بازگشت سنائی دیتی ہے، اور چین کا کردار اس مکالمے کو ایک نئی سمت دیتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ پیش رفت یقیناً خوش آئند ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ صرف باتوں کے چراغ اندھیروں کو مکمل طور پر نہیں مٹا سکتے۔ اصل ضرورت عملی اقدامات کی ہے، ایسے اقدامات جو محض دعوے نہ ہوں بلکہ یقین دہانی بن جائیں کہ اس سرزمین پر دہشت کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں۔
اندرونِ ملک بھی حالات کسی طور آسان نہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے باسی برسوں سے آزمائشوں کی دھوپ سہہ رہے ہیں۔ کبھی آپریشن، کبھی بدامنی، کبھی ہجرت۔ یہ سب ان کی زندگی کے معمولات میں شامل ہو چکا ہے۔ ہم خبروں میں اعداد و شمار پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، مگر ان نمبروں کے پیچھے دھڑکتے دل، بکھرتے گھر، اور ٹوٹتی امیدیں ہوتی ہیں جن کی گونج ہم تک پوری طرح نہیں پہنچ پاتی۔
امن صرف سرحدوں کی نگرانی سے جنم نہیں لیتا یہ اندرونی استحکام کی کوکھ سے پیدا ہوتا ہے۔ ان ہاتھوں کو روکنا بھی ناگزیر ہے جو پسِ پردہ دہشت کو سہارا دیتے ہیں چاہے وہ مالی مدد ہو یا کسی اور صورت میں اعانت۔ جب تک یہ پوشیدہ سہارے ختم نہیں ہوں گے، امن کی بنیادیں کمزور ہی رہیں گی۔
آخرکار، سچ نہایت سادہ مگر گہرا ہے: امن کوئی ایک لمحے کی عطا نہیں، بلکہ مسلسل جدوجہد، سنجیدہ پالیسی اور اجتماعی شعور کا ثمر ہے۔ اگر ہم واقعی ایک محفوظ، مطمئن پاکستان کا خواب دیکھتے ہیں، تو ہمیں وقتی ردِعمل کی سطح سے بلند ہو کر دیرپا حل کی راہوں پر چلنا ہوگا۔ تبھی شاید کسی صبح، جب سورج طلوع ہو، تو اس کی روشنی میں خوف کی جگہ سکون، اور بے یقینی کی جگہ یقین نے لے لی ہو۔
تحریر ظہیر احمد ہنجرا
ہم سب کے دلوں میں ایک نرم سی خواہش انگڑائی لیتی ہے کہ شاید اب اندھیروں کا سفر مختصر ہو رہا ہے، شاید افق پر روشنی کی پہلی لکیر نمودار ہو چکی ہے۔ بلاشبہ، آپریشن غضبُ للحق کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں کمی ایک امید افزا اشارہ ہے۔گویا زخم خوردہ زمین پر مرہم کی پہلی تہہ رکھی گئی ہو۔ مگر حقیقت کی کڑوی دھوپ یہ باور کراتی ہے کہ خطرہ ابھی پوری طرح ٹلا نہیں۔ بنوں کے ڈومیل پولیس اسٹیشن پر ہونے والا حالیہ حملہ اسی ادھورے امن کی داستان سناتا ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ کی کہانی ہے جو ابھی ختم نہیں ہوئی اور جس کا بوجھ اب بھی عام انسان کے کندھوں پر ہے۔
لکی مروت میں ایک بڑے حملے کا بروقت ناکام بنایا جانا یقیناً حوصلہ افزا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب نگاہیں بیدار ہوں اور معلومات قابل بھروسہ ہوں تو کئی زندگیاں موت کے منہ میں جانے سے بچ سکتی ہیں۔ مگر دل کے کسی گوشے میں ایک سوال سر اٹھاتا ہے کیا ہم ہر بار اتنے ہی مستعد، اتنے ہی تیار ہوتے ہیں؟
خیبر پختونخوا کی سرزمین تو پہلے ہی نازک توازن پر کھڑی ہے۔ سرحدی قربت اسے مسلسل خطرات کے سائے میں رکھتی ہے۔ کچھ عناصر اب بھی سرحد پار کی دھند میں چھپ کر حالات کو بگاڑنے کی سعی کرتے ہیں۔ ایسے میں محض عسکری کارروائیاں کافی نہیں ہوتیں؛ ضرورت ایک ایسے مستقل، مدبرانہ نظام کی ہے جہاں انٹیلی جنس کی آنکھ کبھی نہ جھپکے، اور خطرے کی آہٹ کو اس کے نمودار ہونے سے پہلے ہی سن لیا جائے۔
ادھر پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی بازگشت سنائی دیتی ہے، اور چین کا کردار اس مکالمے کو ایک نئی سمت دیتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ پیش رفت یقیناً خوش آئند ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ صرف باتوں کے چراغ اندھیروں کو مکمل طور پر نہیں مٹا سکتے۔ اصل ضرورت عملی اقدامات کی ہے، ایسے اقدامات جو محض دعوے نہ ہوں بلکہ یقین دہانی بن جائیں کہ اس سرزمین پر دہشت کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں۔
اندرونِ ملک بھی حالات کسی طور آسان نہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے باسی برسوں سے آزمائشوں کی دھوپ سہہ رہے ہیں۔ کبھی آپریشن، کبھی بدامنی، کبھی ہجرت۔ یہ سب ان کی زندگی کے معمولات میں شامل ہو چکا ہے۔ ہم خبروں میں اعداد و شمار پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، مگر ان نمبروں کے پیچھے دھڑکتے دل، بکھرتے گھر، اور ٹوٹتی امیدیں ہوتی ہیں جن کی گونج ہم تک پوری طرح نہیں پہنچ پاتی۔
امن صرف سرحدوں کی نگرانی سے جنم نہیں لیتا یہ اندرونی استحکام کی کوکھ سے پیدا ہوتا ہے۔ ان ہاتھوں کو روکنا بھی ناگزیر ہے جو پسِ پردہ دہشت کو سہارا دیتے ہیں چاہے وہ مالی مدد ہو یا کسی اور صورت میں اعانت۔ جب تک یہ پوشیدہ سہارے ختم نہیں ہوں گے، امن کی بنیادیں کمزور ہی رہیں گی۔
آخرکار، سچ نہایت سادہ مگر گہرا ہے: امن کوئی ایک لمحے کی عطا نہیں، بلکہ مسلسل جدوجہد، سنجیدہ پالیسی اور اجتماعی شعور کا ثمر ہے۔ اگر ہم واقعی ایک محفوظ، مطمئن پاکستان کا خواب دیکھتے ہیں، تو ہمیں وقتی ردِعمل کی سطح سے بلند ہو کر دیرپا حل کی راہوں پر چلنا ہوگا۔ تبھی شاید کسی صبح، جب سورج طلوع ہو، تو اس کی روشنی میں خوف کی جگہ سکون، اور بے یقینی کی جگہ یقین نے لے لی ہو۔