پیر, 17 اگست 2026 | 3 ربیع الاول 1448 ہجری | 2 بھادوں
بریکنگ نیوز
ٹرمپ کا قوم سے خطاب: ایران کو "قدیم دور" میں دھکیلنے کی دھمکی، جنگی مقاصد کی تکمیل کا دعویٰ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا، جس کے بعد مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے برطانیہ کی قیادت میں 40 ممالک کا اتحاد سرگرم ہو گیا ہے اور مشترکہ فوجی و سفارتی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے پاکستان اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں اقوام متحدہ نے لبنان میں امن دستوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے جبکہ فرانسیسی پولیس نے یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن کو حراست میں لے لیا ہے عراق 40 سال اور ترکیہ 24 سال کے طویل وقفے کے بعد فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں قطر کی اہم ایل این جی تنصیبات پر حملوں کے بعد گیس کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر توانائی بحران کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق قطر کی گیس سپلائی میں کمی دنیا بھر میں قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں تاریخی دفاعی معاہدہ

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں تاریخی دفاعی معاہدہ

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے علاقائی سیکیورٹی اور عسکری تعاون کو فروغ دینے کے لیے مکہ مکرمہ میں ایک تین ملکی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں منعقدہ سربراہی اجلاس کے دوران ایک تاریخی تین ملکی دفاعی معاہدے کو باضابطہ شکل دی ہے۔
یہ معاہدہ تینوں اہم مسلم ممالک کے درمیان علاقائی سیکیورٹی اور عسکری تعاون کی سمت میں ایک بڑا اسٹریٹجک قدم ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے زور دیا کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے لیے بھی کھلا ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم (OIC) نے اس تاریخی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے طویل مدتی علاقائی استحکام کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔
سفارت کاروں نے واضح کیا کہ اس تعاون میں جوائنٹ ڈیفنس ٹیکنالوجی وینچرز، عسکری تربیت اور انٹیلی جنس کی مشترکہ فراہمی شامل ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ اتحاد مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی اسٹریٹجک صورتحال کو تبدیل کر دے گا۔
ایران نے اس معاہدے کا اعتراف کرتے ہوئے خطے میں بین الاقوامی اتحاد کے بدلتے ہوئے تناظر کو نوٹ کیا ہے۔
یہ معاہدہ عالمی سفارتی اور عسکری سیکیورٹی فریم ورک میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
تینوں ممالک کی عسکری قیادت نے باہمی عملیاتی تیاریوں کے لیے مکمل عزم کا اظہار کیا ہے۔
دفاعی فریم ورک رکن ممالک کے درمیان وسیع تر معاشی اور سیکیورٹی تعاون کی راہ ہموار کرتا ہے۔
حکام نے پڑوسی ممالک کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس اتحاد سے کسی دوسرے ملک کو کوئی جارحانہ خطرہ نہیں ہے۔
ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون اور دفاعی خریداریاں طے کرنے کے لیے مزید فالو اپ اجلاس متوقع ہیں۔
اس معاہدے کو تمام اسٹریٹجک شراکت دار ممالک کے میڈیا میں بے حد پذیرائی ملی ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ سہ ملکی شراکت داری آنے والے دہائیوں کے لیے دفاعی حکمت عملیوں کو نیا رخ دے گی۔
یہ تاریخی معاہدہ اسلام آباد، ریاض اور انقرہ کے روابط کو ایک مضبوط دفاعی چھتری تلے استوار کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں اور کالم

کراچی: اہم شاہراہ 6 بجے سے ٹریفک کیلیے بند جماعتِ اسلامی کے دھرنوں اور احتجاجی تحریک کے لیے انتظامات مکمل، کارکنان کو متحرک کرنے کی مہم تیز ملک بھر کی شاہراہوں اور عمارتوں پر برقی ققمقموں سے چراغاں، گرینڈ آزادی ریلیوں کا انعقاد یومِ آزادی پر تمام بڑے شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، وائلٹنگ پر پابندی اگست پر سول و ملٹری اعزازات کا اعلان: بہادری اور نمایاں خدمات پر سول ایوارڈز تفویض ملک بھر میں 79 واں یومِ آزادی شایانِ شان طریقے سے منایا گیا، وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں کی سلامتی