بدھ, 19 اگست 2026 | 5 ربیع الاول 1448 ہجری | 4 بھادوں
بریکنگ نیوز
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا تاریخی دفاعی معاہدہ، ٹرمپ کا خیرمقدم پاکستان میں بارشوں کا سلسلہ جاری، راولپنڈی اور اسلام آباد میں سیلابی صورتحال کا عالمی کشیدگی کے باوجود پاکستان میں خام تیل کی درآمدات پر اہم پیش رفت ایران جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیز روس اور یوکرین کشیدگی میں اضافہ، ماسکو پر بڑے ڈرون حملے کی اطلاعات پاکستانی روپے کی قدر میں استحکام کی توقع، عالمی مارکیٹ پر سرمایہ کاروں کی نظریں ہاکی ورلڈ کپ 2026، پاکستان اور بھارت ایک ہی گروپ میں شامل
بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی : عدالت کی سخت شرائط کیا ہیں؟

بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی : عدالت کی سخت شرائط کیا ہیں؟

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی و سابق وزیراعظم عمران خان کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے اور ان کے طبی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی تحریری ہدایت کردی۔

اس عدالتی تحریری فیصلے کی تفصیلات کیا ہیں اس حوالے سے آر وائی نیوز کے پروگرام خبر میں میزبان محمد مالک نے تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے بتایا کہ عدالت نے حکومت سے عمران خان کی گرفتاری کے وقت سے اب تک کے مکمل طبی ریکارڈ سمیت مختلف مقدمات کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔
عدالت کی تحریری ہدایات کے مطابق حکومت کا نامزد افسر عدالت کے سامنے عمران خان کی تمام میڈیکل ٹیسٹ رپورٹس، تجویز کردہ ادویات، معائنے کی رپورٹس اور گرفتاری کے بعد فراہم کی گئی علاج کی سہولیات سے متعلق مکمل تفصیلات پیش کرے گا۔
عدالت نے گزشتہ 3 ماہ کے دوران عمران خان اور ان کے اہلِ خانہ کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں، جبکہ ان کے خلاف اب تک کے زیرِ سماعت مقدمات، الزامات اور دی جانے والی سزاؤں کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ عمران خان کو 48 گھنٹوں کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے اور اسپتال انتظامیہ سے مشاورت کے بعد میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔ میڈیکل بورڈ میں کم از کم فزیشن، جنرل سرجن، انٹرنل میڈیسن اسپیشلسٹ، آئی اسپیشلسٹ اور کارڈیالوجسٹ شامل ہوں گے۔عدالتی حکم کے مطابق ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمٰی خان کو بھی طبی معائنے اور علاج کے عمل میں شامل ہونے کی اجازت ہوگی، جبکہ علاج کے اخراجات عمران خان کے خاندان کی جانب سے برداشت کیے جائیں گے۔

عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ اگلی سماعت تک عمران خان کے طبی ریکارڈ اور رپورٹس کو اہلِ خانہ، سیاسی جماعت یا کسی دوسرے فریق کی جانب سے عام یا میڈیا کے ساتھ شیئر نہ کیا جائے۔

حکومت کو عمران خان اور ان کے اہلِ خانہ کے درمیان ہر ہفتے ملاقات یقینی بنانے جبکہ ان کے بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ٹیلی فونک گفتگو کرانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ اسپتال میں کسی قسم کے جلسے، احتجاج یا ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی جس سے مریضوں یا اسپتال کے معمولات میں خلل پڑے۔

مذکورہ ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں عدالت عمران خان سے طبی سہولیات واپس لینے کا اختیار رکھتی ہے۔ عمران خان کے اسپتال میں قیام کے دوران سکیورٹی کے مناسب انتظامات کرنے کی ذمہ داری بھی حکومت کو سونپی گئی ہے۔

عمران خان کے وکیل کے مطابق عدالتی حکم کی روشنی میں ان کا قیام 16 ستمبر تک شفا انٹرنیشنل میں برقرار رہنے کی توقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے طلب کردہ مکمل ریکارڈ اور طبی رپورٹس سامنے آنے کے بعد عدالت فیصلہ کرے گی کہ عمران خان کو مزید اسپتال میں رکھا جائے یا انہیں دوبارہ جیل منتقل کیا جائے۔

دوسری جانب حکومتی حلقوں کی جانب سے عدالتی حکم پر نظرثانی کے امکان کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق جیل قوانین کے تحت قیدیوں کے علاج کے لیے مخصوص طریقہ کار موجود ہے اور طبی معائنے کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ علاج جیل کے اندر ہوگا یا باہر۔

حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر قیدی کو جیل سے باہر علاج کے لیے منتقل کرنا ہو تو قانون کے تحت سرکاری اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اسی بنیاد پر حکومت سپریم کورٹ سے حکم میں مناسب ترمیم کی درخواست کرنے پر غور کر رہی ہے۔

ادھر مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر ناصر بٹ نے عدالتی فیصلے کو سیاسی سازش سے جوڑتے ہوئے حکومت کے خلاف مبینہ سازش کا تاثر دیا ہے، تاہم اس حوالے سے مختلف سیاسی حلقوں میں مختلف آرا سامنے آرہی ہیں۔

متعلقہ خبریں اور کالم

ایف آئی اے میں ملازمتوں کے مواقع، اشتہار جاری میزائل حملے کا الزام، یو اے ای نے ایران کے ساتھ تجارت معطل کر دی ایران نے متحدہ عرب امارات پر میزائل حملے کی تردید کر دی سپریم کورٹ کا بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم بانی پی ٹی آئی کو بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی سہولت دینے کا حکم نورین نیازی کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوگئی