امریکہ اور جنوبی کوریا کی اولچی فریڈم شیلڈ عسکری مشقوں کا اعلان
اتحادی افواج نے علاقائی میزائل خطرات کے خلاف دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے سالانہ اولچی فریڈم شیلڈ مشترکہ مشقوں کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ اور جنوبی کوریا نے اپنی سالانہ مشترکہ عسکری مشق 'اولچی فریڈم شیلڈ' کے شیڈول کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔
11 دن جاری رہنے والی اس مشق میں تقریباً 18,000 جنوبی کوریائی اہلکار اور امریکی فوج کے اہم دستے حصہ لیں گے۔
ان مشقوں کا مقصد مشترکہ دفاعی تیاریوں کو بہتر بنانا اور جدید بیلسٹک میزائل خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔
یہ اعلان شمالی کوریا کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف حال ہی میں کیے گئے میزائل تجربات کے بعد سامنے آیا ہے۔
فوجی ترجمانوں نے تصدیق کی ہے کہ مشقوں کا حجم سابقہ سالانہ عملیاتی معیار کے مطابق ہی رکھا گیا ہے۔
ان مشقوں میں کمپیوٹر سیمولیٹڈ کمانڈ پوسٹ مشقوں کے ساتھ ساتھ فیلڈ ٹریننگ کا شعبہ بھی شامل ہوگا۔
اتحادی کمانڈ کا مقصد سیکیورٹی ہنگامی صورتحال کے مختلف منظرناموں کے تحت ردعمل کی صلاحیتوں کو پرکھنا ہے۔
شمالی کوریا کے حکام اکثر ان مشترکہ مشقوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں حملے کی مشق قرار دیتے ہیں۔
واشنگٹن اور سیول نے واضح کیا کہ یہ مشقیں خالصتاً دفاعی ہیں اور اتحاد کے استحکام کے لیے ضروری ہیں۔
مشترکہ مشقیں مشرقی ایشیا میں علاقائی توازن برقرار رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
مبصرین کو توقع ہے کہ مشقوں کے دوران ڈی ملٹریائزڈ زون کے ساتھ عسکری نگرانی انتہائی سخت رہے گی۔
یہ اتحاد فضائی اور سائبر خطرات کے خلاف اپنے مربوط دفاعی نظام کو مسلسل جدید بنا رہا ہے۔
یہ عسکری مشقیں امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان جاری سیکیورٹی عزم کو نمایاں کرتی ہیں۔
انڈو پیسفک خطے میں کمانڈروں کے لیے دفاعی تیاری اعلیٰ ترین عملیاتی ترجیح بنی ہوئی ہے۔
آنے والی مشقیں کورین جزیرہ نما میں جاری علاقائی سیکیورٹی کشیدگی کو ظاہر کرتی ہیں۔
11 دن جاری رہنے والی اس مشق میں تقریباً 18,000 جنوبی کوریائی اہلکار اور امریکی فوج کے اہم دستے حصہ لیں گے۔
ان مشقوں کا مقصد مشترکہ دفاعی تیاریوں کو بہتر بنانا اور جدید بیلسٹک میزائل خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔
یہ اعلان شمالی کوریا کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف حال ہی میں کیے گئے میزائل تجربات کے بعد سامنے آیا ہے۔
فوجی ترجمانوں نے تصدیق کی ہے کہ مشقوں کا حجم سابقہ سالانہ عملیاتی معیار کے مطابق ہی رکھا گیا ہے۔
ان مشقوں میں کمپیوٹر سیمولیٹڈ کمانڈ پوسٹ مشقوں کے ساتھ ساتھ فیلڈ ٹریننگ کا شعبہ بھی شامل ہوگا۔
اتحادی کمانڈ کا مقصد سیکیورٹی ہنگامی صورتحال کے مختلف منظرناموں کے تحت ردعمل کی صلاحیتوں کو پرکھنا ہے۔
شمالی کوریا کے حکام اکثر ان مشترکہ مشقوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں حملے کی مشق قرار دیتے ہیں۔
واشنگٹن اور سیول نے واضح کیا کہ یہ مشقیں خالصتاً دفاعی ہیں اور اتحاد کے استحکام کے لیے ضروری ہیں۔
مشترکہ مشقیں مشرقی ایشیا میں علاقائی توازن برقرار رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
مبصرین کو توقع ہے کہ مشقوں کے دوران ڈی ملٹریائزڈ زون کے ساتھ عسکری نگرانی انتہائی سخت رہے گی۔
یہ اتحاد فضائی اور سائبر خطرات کے خلاف اپنے مربوط دفاعی نظام کو مسلسل جدید بنا رہا ہے۔
یہ عسکری مشقیں امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان جاری سیکیورٹی عزم کو نمایاں کرتی ہیں۔
انڈو پیسفک خطے میں کمانڈروں کے لیے دفاعی تیاری اعلیٰ ترین عملیاتی ترجیح بنی ہوئی ہے۔
آنے والی مشقیں کورین جزیرہ نما میں جاری علاقائی سیکیورٹی کشیدگی کو ظاہر کرتی ہیں۔