اتوار, 16 اگست 2026 | 2 ربیع الاول 1448 ہجری | 1 بھادوں
بریکنگ نیوز
ٹرمپ کا قوم سے خطاب: ایران کو "قدیم دور" میں دھکیلنے کی دھمکی، جنگی مقاصد کی تکمیل کا دعویٰ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا، جس کے بعد مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے برطانیہ کی قیادت میں 40 ممالک کا اتحاد سرگرم ہو گیا ہے اور مشترکہ فوجی و سفارتی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے پاکستان اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں اقوام متحدہ نے لبنان میں امن دستوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے جبکہ فرانسیسی پولیس نے یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن کو حراست میں لے لیا ہے عراق 40 سال اور ترکیہ 24 سال کے طویل وقفے کے بعد فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں قطر کی اہم ایل این جی تنصیبات پر حملوں کے بعد گیس کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر توانائی بحران کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق قطر کی گیس سپلائی میں کمی دنیا بھر میں قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
امریکہ کی ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات میں 'سنجیدہ مگر خاموش' حکمت عملی

امریکہ کی ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات میں 'سنجیدہ مگر خاموش' حکمت عملی

امریکی انتظامیہ نے ایران کی معیشت پر معاشی دباؤ برقرار رکھتے ہوئے متوازن سفارتی طریقہ کار اختیار کیا ہے۔

امریکہ نے تہران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے ایک محتاط اور کم پروفائل اپروچ اپنانے کا اشارہ دیا ہے۔
حکام نے اشارہ دیا کہ وہ سفارتی حکمت عملی کے لیے موجودہ معاشی دباؤ کو استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔
بلند افراط زر اور سخت تجارتی پابندیاں ایرانی معیشت کو مسلسل متاثر کر رہی ہیں۔
امریکی موقف جارحانہ مذاکرات کی دھونس جمانے کے بجائے مالی حالات کی نگرانی پر زیادہ منحصر ہے۔
آبنائے ہرمز جیسے اسٹریٹجک بحری راستوں پر بحری سیکیورٹی کے اقدامات مسلسل فعال ہیں۔
سفارت کاروں نے موجودہ بات چیت کو خطے کی معاشی صورتحال کے جائزے کے ساتھ جوڑا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق تہران کے لیے امریکی خارجہ پالیسی میں معاشی پابندیاں اب بھی اہم ستون ہیں۔
ایرانی قیادت نے بارہا مغرب کی معاشی پابندیوں کی شدید مذمت کی ہے جو اس کی عوام کو متاثر کر رہی ہیں۔
سخت بیان بازی کے باوجود، دونوں فریقین ثالث ممالک کے ذریعے بنیادی سفارتی مواصلاتی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
علاقائی اتحادی اس بات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ حکمت عملی مشرق وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی پر کیا اثر ڈالتی ہے۔
آئل مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ تجارتی دباؤ عالمی توانائی کی نقل و حمل کو متاثر کر سکتا ہے۔
امریکی انتظامیہ کا موقف ہے کہ اگر شرائط پوری ہوں تو مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔
معاشی مشیروں نے ایرانی اندرونی مارکیٹ میں کرنسی کی قدر میں کمی کے مجموعی اثرات کو اجاگر کیا۔
یہ سفارتی تعطل ایٹمی نگرانی اور علاقائی سیکیورٹی معاہدوں کو مسلسل متاثر کر رہا ہے۔
دو طرفہ مذاکرات کے حوالے سے مزید سرکاری تفصلات آنے والے اسٹریٹجک بریفنگز میں سامنے آئیں گی۔

متعلقہ خبریں اور کالم

ملک بھر کی شاہراہوں اور عمارتوں پر برقی ققمقموں سے چراغاں، گرینڈ آزادی ریلیوں کا انعقاد یومِ آزادی پر تمام بڑے شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، وائلٹنگ پر پابندی اگست پر سول و ملٹری اعزازات کا اعلان: بہادری اور نمایاں خدمات پر سول ایوارڈز تفویض ملک بھر میں 79 واں یومِ آزادی شایانِ شان طریقے سے منایا گیا، وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں کی سلامتی پاکستان سٹاک ایکسچینج (PSX) میں زبردست تیزی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال خیبر پختونخوا کابینہ نے ملاکنڈ ڈویژن اور ضم شدہ اضلاع کے لیے سیلز ٹیکس ریلیف منظور کر دیا