انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کے دوران سیندک مائن کی سپلائی لائنز اور تنصیبات کے لیے اضافی سیکیورٹی فورسز تعینات
وفاقی حکومت نے بلوچستان میں سیندک تانبے اور سونے کی کان کے گرد سیکیورٹی سخت کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں تاکہ دہشت گردی کی حالیہ لہر سے سپلائی کے متاثرہ راستوں کو بحال رکھا جا سکے۔
حکومت نے یہ اقدام ان افواہوں اور رپورٹس کے بعد اٹھایا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے باعث کان کا کام ایک ماہ میں بند ہو سکتا ہے۔ سیندک میٹلز لمیٹڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر رازق سنجرانی نے بندش کی خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ پروجیکٹ گزشتہ 25 سال سے بلا تعطل چل رہا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چینی اور دیگر بین الاقوامی کمپنیوں کے اثاثوں، ملازمین اور لاجسٹکس کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اضافی نفری تعینات کریں۔