اتوار, 16 اگست 2026 | 2 ربیع الاول 1448 ہجری | 1 بھادوں
بریکنگ نیوز
ٹرمپ کا قوم سے خطاب: ایران کو "قدیم دور" میں دھکیلنے کی دھمکی، جنگی مقاصد کی تکمیل کا دعویٰ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا، جس کے بعد مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے برطانیہ کی قیادت میں 40 ممالک کا اتحاد سرگرم ہو گیا ہے اور مشترکہ فوجی و سفارتی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے پاکستان اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں اقوام متحدہ نے لبنان میں امن دستوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے جبکہ فرانسیسی پولیس نے یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن کو حراست میں لے لیا ہے عراق 40 سال اور ترکیہ 24 سال کے طویل وقفے کے بعد فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں قطر کی اہم ایل این جی تنصیبات پر حملوں کے بعد گیس کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر توانائی بحران کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق قطر کی گیس سپلائی میں کمی دنیا بھر میں قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
اسرائیل کا بورڈ آف پیس کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی غزہ امن منصوبہ مسترد

اسرائیل کا بورڈ آف پیس کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی غزہ امن منصوبہ مسترد

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے فوجی انخلا سے قبل حماس کی مکمل غیر مسلح سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے 15 نکاتی امن منصوبے کو علانیہ رد کر دیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے بورڈ آف پیس کی جانب سے غزہ کے لیے پیش کردہ 15 نکاتی امن منصوبے کو باضابطہ مسترد کر دیا۔
کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے دہرایا کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی افواج کا انخلا نہیں ہوگا۔
اس منصوبے کا مقصد علاقائی سیکیورٹی ضمانتوں کے بدلے اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار انخلا ممکن بنانا تھا۔
نیتن یاہو نے زور دیا کہ غیر مسلح سازی میں تمام ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کی مکمل تحویل شامل ہونی چاہیے۔
اس ردعمل نے مستقل جنگ بندی اور سیاسی حل کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
سفارت کاروں نے اس سے قبل اس منظم 15 نکاتی فریم ورک پر امید افزا اشارے دیے تھے۔
نیتن یاہو نے اپنی حکومت کے موقف پر کسی بھی قسم کے ابہام کو ختم کرنے کے لیے یہ بیان علانیہ جاری کیا۔
اس فیصلے نے عالمی رہنماؤں کی طرف سے کشیدگی میں کمی اور انسانی امداد کی رسائی کے لیے نئے مطالبات کو جنم دیا ہے۔
امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل فوجی کارروائیاں غزہ میں بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔
عوامی اختلاف کے باوجود امریکہ اعلیٰ سطح کے سفارتی مذاکرات کی سہولت کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان اتفاق رائے کے لیے بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہوگی۔
اسرائیلی دفاعی قیادت نے غزہ کے اندر اپنے عملیاتی اہداف کو حاصل کرنے کا اعادہ کیا ہے۔
امن مذاکرات میں ایک اور رکاوٹ کی وجہ سے شہری آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
بین الاقوامی ثالث تنازع کے حل کے لیے فریقین کے درمیان خلیج کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
توقع ہے کہ بورڈ آف پیس آنے والے ہفتوں میں موصول ہونے والے ردعمل کا جائزہ لے کر امن منصوبے پر نظرثانی کرے گا۔

متعلقہ خبریں اور کالم

ملک بھر کی شاہراہوں اور عمارتوں پر برقی ققمقموں سے چراغاں، گرینڈ آزادی ریلیوں کا انعقاد یومِ آزادی پر تمام بڑے شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، وائلٹنگ پر پابندی اگست پر سول و ملٹری اعزازات کا اعلان: بہادری اور نمایاں خدمات پر سول ایوارڈز تفویض ملک بھر میں 79 واں یومِ آزادی شایانِ شان طریقے سے منایا گیا، وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں کی سلامتی پاکستان سٹاک ایکسچینج (PSX) میں زبردست تیزی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال خیبر پختونخوا کابینہ نے ملاکنڈ ڈویژن اور ضم شدہ اضلاع کے لیے سیلز ٹیکس ریلیف منظور کر دیا