بدھ, 26 اگست 2026 | 12 ربیع الاول 1448 ہجری | 11 بھادوں
بریکنگ نیوز
بقایا جات کی وصولی کیلئے گھریلو بجلی کنکشن کاٹنا غیر قانونی قرار معروف برانڈ کے اسٹور سے 3 ہزار کلو فنگس زدہ آئسکریم برآمد ایران پر امریکی پابندیاں، چین کا ردِعمل سامنے آگیا سعودی آرامکو اور فرانسیسی کمپنیوں کے درمیان اربوں ڈالرز کے معاہدے امریکی سفارتخانے نے ویزا بکنگ کا آغاز کردیا اربوں روپے کی لاگت سے بنی سڑک صرف 40 دن میں ہی دھنس گئی غزہ میں اسرائیلی بربریت کا سلسلہ جاری، دو بچوں سمیت مزید پانچ شہید
رحمتِ عالم ﷺ اور آج کی دنیا

رحمتِ عالم ﷺ اور آج کی دنیا

آج دنیا بھر میں حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کی خوشی عقیدت و محبت کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ کہیں مساجد میں محافلِ میلاد سجائی جا رہی ہیں، کہیں درود و سلام کی محفلیں ہو رہی ہیں ۔

# رحمتِ عالم ﷺ اور آج کی دنیا


آج دنیا بھر میں حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کی خوشی عقیدت و محبت کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ کہیں مساجد میں محافلِ میلاد سجائی جا رہی ہیں، کہیں درود و سلام کی محفلیں ہو رہی ہیں اور کہیں گھروں، بازاروں اور گلیوں کو چراغاں سے روشن کیا گیا ہے۔ ہر خطے کا اپنا انداز ہے، مگر دلوں میں محبت ایک ہی ہے۔

پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، ترکی، انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش اور دنیا کے دوسرے مسلم ممالک میں بھی آج کے دن کو عقیدت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ یورپ، برطانیہ، شمالی امریکہ، افریقہ اور دنیا کے دیگر خطوں میں رہنے والے مسلمان بھی اپنی اپنی مساجد اور اسلامی مراکز میں محافل منعقد کرتے ہیں۔ ملک الگ ہیں، زبانیں الگ ہیں، رسم و رواج الگ ہیں، لیکن جب نامِ محمد ﷺ آتا ہے تو مسلمانوں کے دل ایک ہی جذبے سے دھڑکتے ہیں۔

لیکن آج کا دن صرف خوشی منانے کا دن نہیں، اپنے آپ سے ایک سوال کرنے کا دن بھی ہے۔

ہم حضور نبی کریم ﷺ سے محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں، مگر کیا ہماری زندگی میں آپ ﷺ کی تعلیمات بھی نظر آتی ہیں؟

حضور اکرم ﷺ نے ہمیں سچ بولنا سکھایا، امانت داری سکھائی، وعدہ پورا کرنا سکھایا، کمزور کے ساتھ کھڑے ہونا سکھایا، پڑوسی کا خیال رکھنا سکھایا اور انسان کی عزت کرنا سکھایا۔ آپ ﷺ نے یہ بھی بتایا کہ کسی انسان کی اصل بڑائی اس کے مال، عہدے یا طاقت میں نہیں بلکہ اس کے کردار میں ہے۔

آج اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو شاید سب سے زیادہ ضرورت اسی کردار کی ہے۔

ہم عبادت بھی کرتے ہیں اور کبھی کبھی دوسروں کے حقوق بھی بھول جاتے ہیں۔ ہم درود و سلام بھی پڑھتے ہیں لیکن کسی غریب کی مدد کرتے ہوئے سوچتے ہیں۔ ہم نبی کریم ﷺ کی محبت کی بات کرتے ہیں لیکن معمولی اختلاف پر ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتے یہ سوچنے کی بات ہے کہ اگر ہم واقعی حضور ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہماری زبان، ہمارا کاروبار، ہماری سیاست، ہمارا رویہ اور ہمارے معاملات بھی اس محبت کی گواہی کیوں نہ دیں؟حضور ﷺ نے مدینہ میں ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جہاں انسان کی عزت، انصاف اور بھائی چارے کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ وہاں طاقتور کے لیے الگ قانون اور کمزور کے لیے الگ قانون نہیں تھا۔ یتیم، مسکین، غلام، عورت، پڑوسی اور مسافر سب کے حقوق کا خیال رکھا گیا۔آج ہماری سب سے بڑی ضرورت بھی یہی ہے کہ ہم محبتِ رسول ﷺ کو صرف نعروں اور تقریبات تک محدود نہ کریں بلکہ اسے اپنے کردار کا حصہ بنائیں۔اگر ایک تاجر ناپ تول میں انصاف کرے، ایک افسر اپنے اختیار کا غلط استعمال نہ کرے، ایک سیاست دان جھوٹے وعدوں سے بچے، ایک استاد اپنے شاگرد کے ساتھ انصاف کرے، ایک والد اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرے اور ایک عام شہری دوسرے انسان کے حق کا خیال رکھے تو شاید یہی حضور ﷺ سے محبت کا سب سے خوبصورت اظہار ہو۔

دنیا آج بے شمار مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ جنگیں ہیں، نفرتیں ہیں، معاشی مشکلات ہیں، بے انصافی ہے اور انسان انسان سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہمارے لیے صرف ماضی کی ایک روشن داستان نہیں بلکہ آج کی زندگی کے لیے بھی مکمل رہنمائی ہے۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا اصل پیغام صرف چراغاں نہیں، دلوں کا اجالا بھی ہے؛ صرف محفل نہیں، کردار کی تبدیلی بھی ہے؛ صرف نعت نہیں، سنت پر عمل بھی ہے۔آج جب دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان اپنے محبوب نبی ﷺ کی ولادت کی خوشی منا رہے ہیں تو ہمیں ایک عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں کم از کم ایک ایسی برائی چھوڑنے کی کوشش کریں گے جو کسی دوسرے انسان کے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہے، اور کم از کم ایک ایسی خوبی اپنائیں گے جو حضور ﷺ کی تعلیمات کے قریب لے جائے۔

کیونکہ محبت صرف کہنے کا نام نہیں۔

محبت تو وہ ہے جو انسان کو بدل دے۔

اور اگر نامِ محمد ﷺ ہمارے دل میں ہے تو اس کا اثر ہمارے کردار میں بھی نظر آنا چاہیے۔

یہی شاید آج کے دن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ہماری سب سے خوبصورت نذرانۂ عقیدت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں اور کالم

آزادی کا دن… کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ جب قوم جاگتی ہے تو فیصلے بدل جاتے ہیں۔ مون سون… غریب کے لیے رحمت یا ہر سال کا عذاب؟ قانون کی کرسی پر خواہش نہیں، ضابطہ بیٹھتا ہے وینزیلا ماصی کے ساءے اور مستقبل کا اندیشہ ہر لمحہ اک مکتب ۔۔۔ہر لمحہ اک سطر