منگل, 25 اگست 2026 | 11 ربیع الاول 1448 ہجری | 10 بھادوں
بریکنگ نیوز
بقایا جات کی وصولی کیلئے گھریلو بجلی کنکشن کاٹنا غیر قانونی قرار معروف برانڈ کے اسٹور سے 3 ہزار کلو فنگس زدہ آئسکریم برآمد ایران پر امریکی پابندیاں، چین کا ردِعمل سامنے آگیا سعودی آرامکو اور فرانسیسی کمپنیوں کے درمیان اربوں ڈالرز کے معاہدے امریکی سفارتخانے نے ویزا بکنگ کا آغاز کردیا اربوں روپے کی لاگت سے بنی سڑک صرف 40 دن میں ہی دھنس گئی غزہ میں اسرائیلی بربریت کا سلسلہ جاری، دو بچوں سمیت مزید پانچ شہید
پھاٹک جو وقت کی راہ میں کھڑا ہے

پھاٹک جو وقت کی راہ میں کھڑا ہے

یہ خبر 2026 میں شائع ہوئی۔ تازہ پیش رفت کے لیے متعلقہ کوریج نیچے دیکھیں۔

پھاٹک جو وقت کی راہ میں کھڑا ہے

دھوپ بےرحم، اور ریل کے آنے کی سیٹی فضا میں گونج رہی تھی۔ گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، رکشے۔ سب ایک دوسرے سے الجھے کھڑے تھے۔ ریل گزری، دھول اڑی، شور تھما، اور پھر وہ ماں بیٹی اپنے راستے پر چلی گئیں۔ مگر میں آج تک وہ منظر بھلا نہیں سکا۔ شاید اس لیے کہ ہم سب کسی نہ کسی شکل میں اسی پھاٹک کے قیدی ہیں، جو دہائیوں سے ترقی کے دروازے پر بند پڑا ہے۔جہاں وعدوں کے دیے جلتے ہیں، وہاں ہمیشہ عمل کا اندھیرا چھایا رہتا ہے۔
یہ مسئلہ آج کا نہیں۔ میں جب طالبِ علم تھا تب بھی سنتا تھا کہ یہاں اوور ہیڈ برج بننے والا ہے۔ کچھ برس بعد خبر ملی کہ نہیں، انڈر پاس کی منظوری ہو گئی ہے۔ لیکن دہائیاں بییت گئیں، حکومتیں بدل گئیں، وعدے دُہراتے رہے، اور منڈی بہاؤالدین کا پھاٹک آج بھی وہی ہے۔ رش، شور، ہارنوں کی چیخیں اور گاڑیوں کی بے ہنگم قطاریں۔
دنیا چاند پر بستیاں بسا رہی ہے، خودکار گاڑیاں بنا رہی ہے، شہروں میں جدید انفراسٹرکچر ترقی کی علامت بن چکا ہے، مگر افسوس کہ ہمارا شہر آج بھی ایک ایسے دروازے پر رکا ہوا ہے جہاں وقت رک سا گیا ہے۔
سیاست کے سائے میں دبی حقیقتوں سے اگر پردہ اٹھ جاۓ تو کتنے لوگ وضاحتوں کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔ منڈی بہاؤالدین کے لوگ صبر کے پیکر بن چکے ہیں۔ ہر انتخاب میں وہی وعدے، وہی تسلیاں، اور ہر تقریر کے آخر میں “جلد خوشخبری” کی گردان۔محترمہ حمیدہ وحیدالدین عرصہ دراز سے اس شہر کی سیاست کا مرکزی کردار ہیں۔ لیکن عوامی فلاح کے میدان میں ان کے وعدوں کی تعبیر تاحال پوشیدہ کہیں یا گمشدہ ۔
پھاٹک کی بند پٹڑیوں کے پیچھے صرف گاڑیاں نہیں رُکتیں، خواب رُکتے ہیں۔ کوئی مریض ایمبولینس میں وقت پر اسپتال نہیں پہنچ پاتا، کوئی مزدور کام پر دیری سے پہنچتا ہے، کوئی طالب علم اپنے کمرہ امتحان میں تاخیر سے پہنچنے کا ذمہ دار اسی لوہے کے دروازے کو سمجھتا ہے۔ اور ہم سب خاموش تماشائی بنے اس اذیت کو روز سہتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ کب بنے گا، سوال یہ ہے کہ کب جاگیں گے؟کیا یہ شہر کسی جرم کی سزا بھگت رہا ہے؟ یا ہم واقعی اپنی بے حسی کے اسیر ہیں؟ اہلِ اقتدار کے لیے یہ محض ایک ترقیاتی منصوبہ ہو سکتا ہے، مگر عوام کے لیے یہ روزمرہ اذیت ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اس شہر کے نمائندے وعدوں کے خالی لفافے بند کریں اور عمل کا آغاز کریں۔وقت کا پہیہ چلتا رہتا ہے، مگر منڈی بہاؤالدین کا مین پھاٹک اب بھی وقت کی راہ میں رکاوٹ کھڑا ہے۔ شاید ایک دن کوئی آئے جو وعدے نہ کرے، عمل کرے۔ وہ دن جب شہری ریل کے گزرنے کا نہیں، ترقی کے آنے کا انتظار کریں۔ تب شاید اس پھاٹک کی زنجیر ٹوٹے، اور منڈی بہاؤالدین کا نام حقیقی معنوں میں ترقی کی پٹڑی پر آ جائے۔

متعلقہ خبریں اور کالم

آزادی کا دن… کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ جب قوم جاگتی ہے تو فیصلے بدل جاتے ہیں۔ مون سون… غریب کے لیے رحمت یا ہر سال کا عذاب؟ قانون کی کرسی پر خواہش نہیں، ضابطہ بیٹھتا ہے وینزیلا ماصی کے ساءے اور مستقبل کا اندیشہ ہر لمحہ اک مکتب ۔۔۔ہر لمحہ اک سطر