واپس نہیں جانا چاہتے، ہزاروں مراکشی تارکین وطن سڑکوں پر نکل آئے
میڈرڈ : اسپین میں ہزاروں تارکین وطن نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے، جس میں انہوں نے اسپین سے مراکش واپس بھیجے جانے کے بجائے، باقاعدہ پناہ (اسائلم) دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
سیوٹا میں حال ہی میں داخل ہونے والے سیکڑوں تارکین وطن نے اتوار کو ساحلی مقام پر احتجاج کرتے ہوئے ہسپانوی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں مراکش واپس بھیجنے کے بجائے پناہ دی جائے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ تارکین وطن ان ہزاروں افراد میں شامل ہیں جو تقریباً دو ہفتے قبل سیوٹا میں داخل ہوئے تھے۔ایک اندازے کے مطابق 5 سے 8 ہزار افراد سیوٹا میں رہ گئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 72 ہزار سے زائد افراد نے اس دوران علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، بعد ازاں ان میں سے بیشتر افراد رضاکارانہ طور پر مراکش واپس چلے گئے تھے۔
تارکین وطن کہاں رہائش پذیر ہیں؟
زیادہ تر تارکین وطن سیوٹا شہر کے مضافات یا ساحل کے قریبی پسماندہ علاقے میں انتہائی نامساعد حالات میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں سے وہ یورپ جانے کے کسی موقع کے منتظر ہیں۔احتجاج کے دوران تارکین وطن نے اسپین کے پرچم اٹھا رکھے تھے اور مختلف بینرز کے ذریعے مطالبات پیش کیے۔ ان میں ’’ہم مراکش واپس نہیں جانا چاہتے‘‘ اور ’’ہم بھی انسان ہیں‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین ’’ہم تھک چکے ہیں‘‘ اور ’’ہمیں حل چاہیے‘‘ کے نعرے بھی لگاتے رہے۔
تارکین وطن کہاں رہائش پذیر ہیں؟
زیادہ تر تارکین وطن سیوٹا شہر کے مضافات یا ساحل کے قریبی پسماندہ علاقے میں انتہائی نامساعد حالات میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں سے وہ یورپ جانے کے کسی موقع کے منتظر ہیں۔احتجاج کے دوران تارکین وطن نے اسپین کے پرچم اٹھا رکھے تھے اور مختلف بینرز کے ذریعے مطالبات پیش کیے۔ ان میں ’’ہم مراکش واپس نہیں جانا چاہتے‘‘ اور ’’ہم بھی انسان ہیں‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین ’’ہم تھک چکے ہیں‘‘ اور ’’ہمیں حل چاہیے‘‘ کے نعرے بھی لگاتے رہے۔