مید کی کرن: امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر سے دنیا میں سکون کی فضا
امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی سیز فائر نے عالمی کشیدگی کے ماحول میں ایک مثبت پیش رفت فراہم کی ہے، جو امن اور سفارت کاری کی جانب ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے۔
امید کی کرن
تاریخ میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جب امن چاہنے والوں کے لئے ایک تازہ ہوا کے جھونکے میں سانس لینے کا ایک نیا موقع ہاتھ آتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر بھی ایک ایسا ہی لمحہ ہے۔ یہ امید کی ایسی کرن ہے جو خوف، تباہی اور ظلم کے اندھیروں میں سے افق پر نمودار ہوئی ہے۔ کئی دنوں سے فضا میں بارود کی بو، خبروں میں جنگ کی بازگشت اور دلوں میں خوف کی دھڑکنیں تیز تھیں ہر گزرتا لمحہ یہ احساس دلا رہا تھا کہ شاید ظالم اور بے وقوف امریکی صدر ٹرمپ کی وجہ سے دنیا ایک اور بڑے تصادم کا سامنا کر سکتی ہے لیکن خدا کا شکر ہے کہ سفارت کاری کے دروازے کھلے، عقل نے جذبات پر قابو پایا اور بندوقوں کی گھن گرج کو خاموشی نے اپنے حصار میں لے لیا۔
یہ سیز فائر صرف امریکہ ایران کے درمیان ایک معاہدہ نہیں ہے بلکہ ہمارے خطے کے لیے اور ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے ایک امن کی علامت ہے۔ اگرچہ یہ سیز فائر عارضی ہے مگر توقع کی جا سکتی ہے کہ امن کے لیے کوششیں کرنے والی قوتیں اس سیز فائر کو مستقل معاہدے میں تبدیل کرا سکیں گی۔
تاریخ کا درس ہے کہ امن کو برقرار رکھنا جنگ جیتنے سے کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے اور اس کے لیے صرف کاغذی معاہدے نہیں بلکہ نیتوں کی سچائی، برداشت کا حوصلہ اور مکالمے کا تسلسل ضروری ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سیز فائر کو ایک نئے اغاز کے طور پر لیا جائے۔ دشمنی کو ختم کیا جائے اور طاقت کی بجائے حکمت کو ترجیح دی جائے۔ دنیا کو اس وقت لیڈروں سے زیادہ مدبروں کی ضرورت ہے، ایسے رہنما جو اختلافات کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، جو جنگ کی بجائے امن کی سیاست کو ترجیح دیں اور سب سے اہم بات ڈونلڈ ٹرمپ کی جذباتی فطرت ہے کہ وہ اپنے فیصلے کو کہاں تک لے جاتا ہے
اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ دنیا کے مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا۔ مشترکہ وسائل سے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی کرنا ہوگی اور ایک مسلم بلاک کی شناخت کو بنانے کے لیے اپنے اختلافات کو بھلانا ہوگا۔ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کی بجائے ان سے سیکھ کر مسلم یونٹی کو فروغ دینا ہو گا۔ اجتماعی طاقت ہی سے مسلم ممالک کو ناقابل تسخیر بنایا جا سکتا ہے۔
تاریخ میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جب امن چاہنے والوں کے لئے ایک تازہ ہوا کے جھونکے میں سانس لینے کا ایک نیا موقع ہاتھ آتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر بھی ایک ایسا ہی لمحہ ہے۔ یہ امید کی ایسی کرن ہے جو خوف، تباہی اور ظلم کے اندھیروں میں سے افق پر نمودار ہوئی ہے۔ کئی دنوں سے فضا میں بارود کی بو، خبروں میں جنگ کی بازگشت اور دلوں میں خوف کی دھڑکنیں تیز تھیں ہر گزرتا لمحہ یہ احساس دلا رہا تھا کہ شاید ظالم اور بے وقوف امریکی صدر ٹرمپ کی وجہ سے دنیا ایک اور بڑے تصادم کا سامنا کر سکتی ہے لیکن خدا کا شکر ہے کہ سفارت کاری کے دروازے کھلے، عقل نے جذبات پر قابو پایا اور بندوقوں کی گھن گرج کو خاموشی نے اپنے حصار میں لے لیا۔
یہ سیز فائر صرف امریکہ ایران کے درمیان ایک معاہدہ نہیں ہے بلکہ ہمارے خطے کے لیے اور ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے ایک امن کی علامت ہے۔ اگرچہ یہ سیز فائر عارضی ہے مگر توقع کی جا سکتی ہے کہ امن کے لیے کوششیں کرنے والی قوتیں اس سیز فائر کو مستقل معاہدے میں تبدیل کرا سکیں گی۔
تاریخ کا درس ہے کہ امن کو برقرار رکھنا جنگ جیتنے سے کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے اور اس کے لیے صرف کاغذی معاہدے نہیں بلکہ نیتوں کی سچائی، برداشت کا حوصلہ اور مکالمے کا تسلسل ضروری ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سیز فائر کو ایک نئے اغاز کے طور پر لیا جائے۔ دشمنی کو ختم کیا جائے اور طاقت کی بجائے حکمت کو ترجیح دی جائے۔ دنیا کو اس وقت لیڈروں سے زیادہ مدبروں کی ضرورت ہے، ایسے رہنما جو اختلافات کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، جو جنگ کی بجائے امن کی سیاست کو ترجیح دیں اور سب سے اہم بات ڈونلڈ ٹرمپ کی جذباتی فطرت ہے کہ وہ اپنے فیصلے کو کہاں تک لے جاتا ہے
اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ دنیا کے مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا۔ مشترکہ وسائل سے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی کرنا ہوگی اور ایک مسلم بلاک کی شناخت کو بنانے کے لیے اپنے اختلافات کو بھلانا ہوگا۔ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کی بجائے ان سے سیکھ کر مسلم یونٹی کو فروغ دینا ہو گا۔ اجتماعی طاقت ہی سے مسلم ممالک کو ناقابل تسخیر بنایا جا سکتا ہے۔