اوڈیسا کے تاریخی و ثقافتی مقامات پر حملہ، یونیسکو کی شدید مذمت
یوکرین کے شہر اوڈیسا میں تاریخی عمارتوں کو نقصان پہنچنے پر یونیسکو نے شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا۔
اقوامِ متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔
ادارے نے یوکرین کے شہر اوڈیسا کے عالمی ثقافتی ورثے پر ہونے والے تازہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
یونیسکو کے مطابق ان حملوں میں شہر کے تاریخی مرکز کی چھ اہم عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔
متاثرہ عمارتوں میں برانڈٹ اینڈ شلٹز ہاؤس اور گاگارین اپارٹمنٹ بلڈنگ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ تاریخی اسٹرڈزا ہاؤس اور روسی اپارٹمنٹ بلاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ تاریخی اور ثقافتی مقامات پر حملے عالمی ورثے کی خلاف ورزی ہیں۔
اوڈیسا کا تاریخی مرکز یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔
عالمی ادارے نے تمام فریقین سے تاریخی مقامات کے تحفظ کی اپیل کی ہے۔
جنگ کے باعث تاریخی عمارتوں کی تباہی پر ثقافتی ماہرین شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
یونیسکو نے حملے کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک ماہرین کی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان حملوں کے بعد اوڈیسا میں واقع تاریخی شاہکاروں کی بحالی کا کام معطل ہو گیا ہے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ عمارتوں کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کی مرمت میں وقت لگے گا۔
یونیسکو نے بین الاقوامی برادری سے کہا ہے کہ وہ ان نایاب عمارتوں کے تحفظ میں مدد کرے۔
ثقافتی ورثے کی تباہی سے نہ صرف یوکرین بلکہ پوری دنیا کی تاریخ اور آرٹ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
عالمی ادارے کے مطابق جیو جنگی قوانین کے تحت ثقافتی سائٹس کا تحفظ لازمی ہے۔
مقامی باشندے اور مؤرخین اس تاریخی نقصان پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔
اوڈیسا کی تاریخی خوبصورتی اور اس کا گوتھک و کلاسک طرزِ تعمیر دنیا بھر میں مشہور ہے۔
ماہرین کے مطابق کچھ عمارتیں اتنی متاثر ہوئی ہیں کہ انہیں دوبارہ پرانی حالت میں لانا مشکل ہے۔
جنگ کے دوران ثقافتی سائٹس کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی ڈرون اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے واضح کیا ہے کہ تاریخ کو نشانہ بنانا بین الاقوامی کنونشنز کے خلاف ہے۔
دنیا بھر کے مختلف ممالک نے یونیسکو کے اس مذمتی بیان کی حمایت کی ہے۔
اوڈیسا کی لوکل کونسل نے متاثرہ عمارتوں کی فوری حفاظت کے لیے ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
تاریخی دستاویزات اور نایاب نوادرات کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
عالمی ورثہ کمیٹی کا اگلا اجلاس اس موضوع پر خاص توجہ دے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ثقافتی سائٹس پر حملہ انسانیت کی اجتماعی یادداشت پر حملہ ہے۔
بین الاقوامی ریڈ کراس اور دیگر اداروں نے بھی ثقافتی مقامات کے احترام پر زور دیا ہے۔
یوکرینی حکام نے دنیا سے اپیل کی ہے کہ وہ ان تاریخی اثاثوں کی حفاظت کے لیے عملی قدم اٹھائیں۔
اس حملے کی تصاویر نے دنیا بھر کے آرٹ اور تاریخ کے دلدادہ افراد کو دکھی کر دیا ہے۔
یونیسکو نے بارہا کہا ہے کہ تنازعات والے علاقوں میں ثقافت کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
اوڈیسا کا یہ خطہ صدیوں پرانی تاریخ اور منفرد آرکیٹیکچر کے لیے جانا جاتا ہے۔
مقامی انتظامیہ تباہ شدہ مقامات کو سنبھالنے اور بنیادی حفاظتی ڈھانچہ کھڑا کرنے میں مصروف ہے۔
بین الاقوامی سطح پر ان عمارتی شاہکاروں کی حفاظت کے لیے الگ فنڈ قائم کرنے کی تجویز ہے۔
عالمی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ تاریخی شناخت کو مٹانے سے روکا جانا چاہیے۔
یونیسکو اس واقعے کی تفصیلی رپورٹ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کو پیش کرے گا۔
اوڈیسا میں ثقافتی ورثے کا تحفظ عالمی سطح پر بحث کا ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔
ادارے نے یوکرین کے شہر اوڈیسا کے عالمی ثقافتی ورثے پر ہونے والے تازہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
یونیسکو کے مطابق ان حملوں میں شہر کے تاریخی مرکز کی چھ اہم عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔
متاثرہ عمارتوں میں برانڈٹ اینڈ شلٹز ہاؤس اور گاگارین اپارٹمنٹ بلڈنگ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ تاریخی اسٹرڈزا ہاؤس اور روسی اپارٹمنٹ بلاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ تاریخی اور ثقافتی مقامات پر حملے عالمی ورثے کی خلاف ورزی ہیں۔
اوڈیسا کا تاریخی مرکز یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔
عالمی ادارے نے تمام فریقین سے تاریخی مقامات کے تحفظ کی اپیل کی ہے۔
جنگ کے باعث تاریخی عمارتوں کی تباہی پر ثقافتی ماہرین شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
یونیسکو نے حملے کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک ماہرین کی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان حملوں کے بعد اوڈیسا میں واقع تاریخی شاہکاروں کی بحالی کا کام معطل ہو گیا ہے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ عمارتوں کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کی مرمت میں وقت لگے گا۔
یونیسکو نے بین الاقوامی برادری سے کہا ہے کہ وہ ان نایاب عمارتوں کے تحفظ میں مدد کرے۔
ثقافتی ورثے کی تباہی سے نہ صرف یوکرین بلکہ پوری دنیا کی تاریخ اور آرٹ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
عالمی ادارے کے مطابق جیو جنگی قوانین کے تحت ثقافتی سائٹس کا تحفظ لازمی ہے۔
مقامی باشندے اور مؤرخین اس تاریخی نقصان پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔
اوڈیسا کی تاریخی خوبصورتی اور اس کا گوتھک و کلاسک طرزِ تعمیر دنیا بھر میں مشہور ہے۔
ماہرین کے مطابق کچھ عمارتیں اتنی متاثر ہوئی ہیں کہ انہیں دوبارہ پرانی حالت میں لانا مشکل ہے۔
جنگ کے دوران ثقافتی سائٹس کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی ڈرون اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے واضح کیا ہے کہ تاریخ کو نشانہ بنانا بین الاقوامی کنونشنز کے خلاف ہے۔
دنیا بھر کے مختلف ممالک نے یونیسکو کے اس مذمتی بیان کی حمایت کی ہے۔
اوڈیسا کی لوکل کونسل نے متاثرہ عمارتوں کی فوری حفاظت کے لیے ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
تاریخی دستاویزات اور نایاب نوادرات کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
عالمی ورثہ کمیٹی کا اگلا اجلاس اس موضوع پر خاص توجہ دے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ثقافتی سائٹس پر حملہ انسانیت کی اجتماعی یادداشت پر حملہ ہے۔
بین الاقوامی ریڈ کراس اور دیگر اداروں نے بھی ثقافتی مقامات کے احترام پر زور دیا ہے۔
یوکرینی حکام نے دنیا سے اپیل کی ہے کہ وہ ان تاریخی اثاثوں کی حفاظت کے لیے عملی قدم اٹھائیں۔
اس حملے کی تصاویر نے دنیا بھر کے آرٹ اور تاریخ کے دلدادہ افراد کو دکھی کر دیا ہے۔
یونیسکو نے بارہا کہا ہے کہ تنازعات والے علاقوں میں ثقافت کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
اوڈیسا کا یہ خطہ صدیوں پرانی تاریخ اور منفرد آرکیٹیکچر کے لیے جانا جاتا ہے۔
مقامی انتظامیہ تباہ شدہ مقامات کو سنبھالنے اور بنیادی حفاظتی ڈھانچہ کھڑا کرنے میں مصروف ہے۔
بین الاقوامی سطح پر ان عمارتی شاہکاروں کی حفاظت کے لیے الگ فنڈ قائم کرنے کی تجویز ہے۔
عالمی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ تاریخی شناخت کو مٹانے سے روکا جانا چاہیے۔
یونیسکو اس واقعے کی تفصیلی رپورٹ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کو پیش کرے گا۔
اوڈیسا میں ثقافتی ورثے کا تحفظ عالمی سطح پر بحث کا ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔