عالمی سیاست خطرے میں: ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو "ایک ہی رات میں تباہی" کی دھمکی اور فرعونی لہجہ
ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ پریس کانفرنس نے عالمی امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ ایران کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے اور اسے ایک ہی رات میں تباہ کرنے کی دھمکی انسانی قدروں کی پامالی اور طاقت کے بے لگام استعمال کی عکاسی ہے۔
پروفیسر ظہیر احمد ہنجرا صاحب ٹی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ۔۔
عالمی سیاست ایک بار پھر انتہائی خطرناک موڑ پر ہے، جہاں الفاظ بارود کی بدبو میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ موجودہ دور کے فرعون Donald Trump کی تھوڑی دیر پہلے ایران کے حوالے سے دھمکی آمیز پریس کانفرنس نے دنیا کو طاقت کے بے لگام استعمال کے خدشات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس کا لہجہ کسی جمہوری رہنما سے زیادہ ایک ایسے حکمران کی عکاسی ہے جو خود کو ہر قانون اور اخلاق سے بالا سمجھتا ہو۔
ایران کو “ایک ہی رات میں تباہ کرنے” کی دھمکی اور انفرا سٹرکچر کو نشانہ بنانے کی باتیں انسانی قدروں کو پاؤں تلے روندنے کی علامت ہیں۔ آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم اور مذاکرات کی پیشکش کو ناکافی کہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مقصد امن نہیں بلکہ اپنی شرائط منوانا ہے۔
مزید برآں، امریکی پائلٹ کے ریسکیو آپریشن کو طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کرنا اور شہری ہلاکتوں کے سوالات کو نظرانداز کرنا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ جنگ کی دھمکیاں اور تعمیرِ نو کی باتیں اس غیر یقینی صورتحال کو بڑھا رہی ہیں، جہاں تباہی اور امن ایک ہی لمحے میں پیش کیے جاتے ہیں۔
آج دنیا کو فرعونیت نہیں بلکہ فراست کی ضرورت ہے۔ طاقت کا حقیقی استعمال امن، انصاف اور استحکام کے لیے ہونا چاہیے، خوف اور تباہی کے لیے نہیں۔ عالمی برادری کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے، اور اس بدمست ہاتھی کو لگام ڈالنا ہوگی۔ اسرائیل امریکہ گٹھ جوڑ اور عالمی برادری کی خاموشی دنیا کے امن کو تباہ کرنے کی علامت ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ خدائے مطلق نے نمرود ، فرعون ، ابرہہ اور یزید جیسے کئی کرداروں کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دیا اور انھیں رہتی دنیا تک نشان عبرت بنا دیا۔ ٹرمپ جیسے ظالموں کی رسی دراز ہو سکتی ہے مگر انجام کبھی بھی مثالی نہیں ہوتا۔
عالمی سیاست ایک بار پھر انتہائی خطرناک موڑ پر ہے، جہاں الفاظ بارود کی بدبو میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ موجودہ دور کے فرعون Donald Trump کی تھوڑی دیر پہلے ایران کے حوالے سے دھمکی آمیز پریس کانفرنس نے دنیا کو طاقت کے بے لگام استعمال کے خدشات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس کا لہجہ کسی جمہوری رہنما سے زیادہ ایک ایسے حکمران کی عکاسی ہے جو خود کو ہر قانون اور اخلاق سے بالا سمجھتا ہو۔
ایران کو “ایک ہی رات میں تباہ کرنے” کی دھمکی اور انفرا سٹرکچر کو نشانہ بنانے کی باتیں انسانی قدروں کو پاؤں تلے روندنے کی علامت ہیں۔ آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم اور مذاکرات کی پیشکش کو ناکافی کہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مقصد امن نہیں بلکہ اپنی شرائط منوانا ہے۔
مزید برآں، امریکی پائلٹ کے ریسکیو آپریشن کو طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کرنا اور شہری ہلاکتوں کے سوالات کو نظرانداز کرنا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ جنگ کی دھمکیاں اور تعمیرِ نو کی باتیں اس غیر یقینی صورتحال کو بڑھا رہی ہیں، جہاں تباہی اور امن ایک ہی لمحے میں پیش کیے جاتے ہیں۔
آج دنیا کو فرعونیت نہیں بلکہ فراست کی ضرورت ہے۔ طاقت کا حقیقی استعمال امن، انصاف اور استحکام کے لیے ہونا چاہیے، خوف اور تباہی کے لیے نہیں۔ عالمی برادری کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے، اور اس بدمست ہاتھی کو لگام ڈالنا ہوگی۔ اسرائیل امریکہ گٹھ جوڑ اور عالمی برادری کی خاموشی دنیا کے امن کو تباہ کرنے کی علامت ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ خدائے مطلق نے نمرود ، فرعون ، ابرہہ اور یزید جیسے کئی کرداروں کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دیا اور انھیں رہتی دنیا تک نشان عبرت بنا دیا۔ ٹرمپ جیسے ظالموں کی رسی دراز ہو سکتی ہے مگر انجام کبھی بھی مثالی نہیں ہوتا۔