خاموش خدمت کا روشن مینار: ملک صلاح الدین ایڈووکیٹ کی بے لوث جدوجہد
ایک ایسے مخلص انسان کی کہانی جنہوں نے منڈی بہاؤالدین کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ پروگرام کی بحالی کے لیے خاموشی سے لاکھوں روپے کے فنڈز اور دفتری رکاوٹوں کا مسئلہ حل کر کے انسانیت کی خدمت کی اعلیٰ مثال قائم کی۔
خاموش خدمت کی روشن مثال*
دنیا میں نام و نمود کی خواہش ایک فطری جذبہ ہے۔ اکثر لوگ نیکی کے کام بھی اس نیت سے کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ہو، ان کا چرچا ہو، اور ان کی پہچان بنے۔ مگر اسی ہجوم میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ وہ نہ کسی صلے کے طلبگار ہوتے ہیں اور نہ ہی ستائش کے خواہاں۔ یہی لوگ دراصل معاشرے کے اصل معمار اور حقیقی ہیرو ہوتے ہیں—وہ گمنام ہیرو، جن کی محنت کے ثمرات آنے والی نسلیں سمیٹتی ہیں۔
ایسے ہی باکردار اور مخلص افراد میں ملک صلاح الدین ایڈووکیٹ، سابق چیئرمین بلدیہ، کا نام نمایاں ہے۔ انہوں نے ہمیشہ عوامی خدمت کو اپنی ترجیح بنایا اور اپنی جدوجہد کو کبھی ذاتی تشہیر کا ذریعہ نہیں بننے دیا۔ شہر کی ترقی اور فلاح کے متعدد منصوبوں میں ان کا کردار بانی اور رہنما کا رہا ہے، مگر انہوں نے کبھی اس کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا۔
حال ہی میں ان کی ایک قابلِ ذکر کاوش سامنے آئی، جس کا تعلق صحت کے شعبے سے ہے۔ تقریباً ایک سال قبل، ان کی درخواست اور منڈی بہاؤالدین کے سپوت ڈاکٹر خالد مسعود گوندل، وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، کی ذاتی دلچسپی سے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں بعض شعبوں میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کی منظوری حاصل ہوئی۔ اس اچیومنٹ پر اہل ضلع منڈی بہاوالدین ڈاکٹر خالد مسعود گوندل صاحب کے انتہائی ممنون ہیں۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے، جو مقامی ڈاکٹروں اور عوام دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
لیکن اس پروگرام کی PMDC سے الحاق کے لیے فیس سولہ لاکھ روپے تھی جمع نہ ہو سکی، جس کے باعث خطرہ تھا کہ یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہو جائے گا۔ اس موقع پر ملک صلاح الدین صاحب نے خاموشی سے میدان عمل میں قدم رکھا۔ انہوں نے بغیر کسی ذاتی مفاد کے، مسلسل چھ ماہ تک دفاتر کے چکر لگائے، رکاوٹوں کا سامنا کیا، مگر ہمت نہ ہاری۔ بالآخر ان کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں یہ فیس، جو بڑھ کر انیس لاکھ روپے ہو چکی تھی، جمع کروا دی گئی۔
اس کامیابی کے نتیجے میں نہ صرف مقامی ڈاکٹروں کو پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کی سہولت میسر آئے گی بلکہ علاقے کے عوام کو بھی ماہر ڈاکٹرز کی خدمات دستیاب ہوں گی۔ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جس کے اثرات دیرپا اور دور رس ہوں گے۔
ملک صلاح الدین صاحب کی یہ کاوش نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ ان تمام افراد کے لیے مشعلِ راہ بھی ہے جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ اگر معاشرے میں ایسے افراد کی تعداد بڑھ جائے، جو ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر اجتماعی بھلائی کے لیے کام کریں، تو یقیناً ہمارے مسائل کا حل ممکن ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ گمنام ہیرو وہی ہوتے ہیں جو اپنی پہچان سے نہیں، بلکہ اپنے کام سے جانے جاتے ہیں۔ اور ایسے لوگ ہی کسی بھی قوم کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔
تحریر: عاصم افضل سید
دنیا میں نام و نمود کی خواہش ایک فطری جذبہ ہے۔ اکثر لوگ نیکی کے کام بھی اس نیت سے کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ہو، ان کا چرچا ہو، اور ان کی پہچان بنے۔ مگر اسی ہجوم میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ وہ نہ کسی صلے کے طلبگار ہوتے ہیں اور نہ ہی ستائش کے خواہاں۔ یہی لوگ دراصل معاشرے کے اصل معمار اور حقیقی ہیرو ہوتے ہیں—وہ گمنام ہیرو، جن کی محنت کے ثمرات آنے والی نسلیں سمیٹتی ہیں۔
ایسے ہی باکردار اور مخلص افراد میں ملک صلاح الدین ایڈووکیٹ، سابق چیئرمین بلدیہ، کا نام نمایاں ہے۔ انہوں نے ہمیشہ عوامی خدمت کو اپنی ترجیح بنایا اور اپنی جدوجہد کو کبھی ذاتی تشہیر کا ذریعہ نہیں بننے دیا۔ شہر کی ترقی اور فلاح کے متعدد منصوبوں میں ان کا کردار بانی اور رہنما کا رہا ہے، مگر انہوں نے کبھی اس کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا۔
حال ہی میں ان کی ایک قابلِ ذکر کاوش سامنے آئی، جس کا تعلق صحت کے شعبے سے ہے۔ تقریباً ایک سال قبل، ان کی درخواست اور منڈی بہاؤالدین کے سپوت ڈاکٹر خالد مسعود گوندل، وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، کی ذاتی دلچسپی سے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں بعض شعبوں میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کی منظوری حاصل ہوئی۔ اس اچیومنٹ پر اہل ضلع منڈی بہاوالدین ڈاکٹر خالد مسعود گوندل صاحب کے انتہائی ممنون ہیں۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے، جو مقامی ڈاکٹروں اور عوام دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
لیکن اس پروگرام کی PMDC سے الحاق کے لیے فیس سولہ لاکھ روپے تھی جمع نہ ہو سکی، جس کے باعث خطرہ تھا کہ یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہو جائے گا۔ اس موقع پر ملک صلاح الدین صاحب نے خاموشی سے میدان عمل میں قدم رکھا۔ انہوں نے بغیر کسی ذاتی مفاد کے، مسلسل چھ ماہ تک دفاتر کے چکر لگائے، رکاوٹوں کا سامنا کیا، مگر ہمت نہ ہاری۔ بالآخر ان کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں یہ فیس، جو بڑھ کر انیس لاکھ روپے ہو چکی تھی، جمع کروا دی گئی۔
اس کامیابی کے نتیجے میں نہ صرف مقامی ڈاکٹروں کو پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کی سہولت میسر آئے گی بلکہ علاقے کے عوام کو بھی ماہر ڈاکٹرز کی خدمات دستیاب ہوں گی۔ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جس کے اثرات دیرپا اور دور رس ہوں گے۔
ملک صلاح الدین صاحب کی یہ کاوش نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ ان تمام افراد کے لیے مشعلِ راہ بھی ہے جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ اگر معاشرے میں ایسے افراد کی تعداد بڑھ جائے، جو ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر اجتماعی بھلائی کے لیے کام کریں، تو یقیناً ہمارے مسائل کا حل ممکن ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ گمنام ہیرو وہی ہوتے ہیں جو اپنی پہچان سے نہیں، بلکہ اپنے کام سے جانے جاتے ہیں۔ اور ایسے لوگ ہی کسی بھی قوم کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔
تحریر: عاصم افضل سید