عالمی سیاسی کشمکش اور سکیورٹی
عالمی سیاسی کشمکش اور سکیورٹی
دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہر سڑک کسی نہ کسی محاذ کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے۔ اگر آپ عالمی نقشہ سامنے رکھ کر غور کریں تو شاید کوئی ایسا خطہ نہ ملے جہاں سکون کی سانس لی جا رہی ہو۔ کہیں بارود بول رہا ہے، کہیں مفادات ٹکرا رہے ہیں اور کہیں خاموشی ایک آنے والے طوفان کی خبر دے رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ دنیا میں جنگ ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا جنگ کے بغیر رہنے کے قابل رہی ہے؟
یوکرین کی جنگ اس وقت عالمی سیاست کی علامت بن چکی ہے۔ یہ جنگ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ طاقتور ریاستوں کے فیصلے صرف ان کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس تصادم نے یورپ کی نیندیں حرام کر دی ہیں، توانائی کے بحران نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور عالمی معیشت ایک بار پھر عدم یقینی کے اندھیروں میں داخل ہو چکی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بڑی طاقتیں آمنے سامنے آتی ہیں تو چھوٹے ممالک کچلے جاتے ہیں اور عام انسان قیمت ادا کرتا ہے۔ لیکن مسئلہ صرف یوکرین تک محدود نہیں۔ مشرق وسطیٰ میں فرقہ واریت کی آگ دہائیوں سے جل رہی ہے۔ شیعہ اور سنی کی اس جنگ نے پورے خطے کو لہولہان کر دیا ہے۔ افغانستان میں طالبان کی واپسی نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا بندوق کے زور پر قائم ہونے والا نظام دیرپا ہو سکتا ہے؟ افریقہ میں دہشت گرد تنظیمیں ریاستوں کی رِٹ کو چیلنج کر رہی ہیں اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ قوم پرستی ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکزی نعرہ بن چکی ہے۔ امریکہ اپنی برتری بچانے کے لیے بے چین ہے، چین خاموشی سے اپنی طاقت کو عالمی سطح پر منوا رہا ہے، روس ماضی کی عظمت کی طرف لوٹنے کا خواب دیکھ رہا ہے اور یورپ اپنے وجود کے تحفظ میں الجھا ہوا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان سرد جنگ اب صرف تجارت تک محدود نہیں رہی، یہ ٹیکنالوجی، دفاع اور نظریات تک پھیل چکی ہے۔ اگر یہ کشمکش یونہی بڑھتی رہی تو دنیا ایک نئے عالمی بحران کے دہانے پر کھڑی ہو سکتی ہے۔
قدرتی وسائل نے اس آگ میں تیل کا کام کیا ہے۔ پانی، جو کبھی زندگی کی علامت تھا، آج جنگ کی وجہ بن چکا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان انڈس واٹر معاہدہ ہو یا مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں پانی کی قلت، آنے والے دنوں میں پانی سونے سے زیادہ قیمتی ہو گا۔ تیل، گیس اور معدنیات پہلے ہی عالمی سیاست کے ہتھیار بن چکے ہیں، اب مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجی نے طاقت کی نئی تعریف وضع کر دی ہے۔ان تمام عوامل کا نتیجہ یہ ہے کہ عالمی سیکیورٹی ایک نازک دھاگے سے لٹک رہی ہے۔ تجارتی راستے غیر محفوظ ہو رہے ہیں، معیشتیں دباؤ کا شکار ہیں اور پناہ گزینوں کے قافلے سرحدوں پر دستک دے رہے ہیں۔ لاکھوں انسان جنگوں کی نذر ہو چکے ہیں اور کروڑوں بے یقینی کی زندگی گزار رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ حل کیا ہے؟ تاریخ ہمیں ایک ہی سبق دیتی ہے: جنگ کبھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی، یہ صرف مسائل کو بڑھا دیتی ہے۔ عالمی رہنماؤں کو اب طاقت کے نشے سے باہر آ کر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہو گا۔ اگر مفادات کی جنگ نہ رکی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
دنیا کو اس وقت ہتھیاروں کی نہیں، عقل کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو یہ عالمی کشمکش ہمیں ایک ایسی جنگ میں دھکیل دے گی جس کا کوئی فاتح نہیں ہو گا، صرف شکست خوردہ انسان ہوں گے۔
یوکرین کی جنگ اس وقت عالمی سیاست کی علامت بن چکی ہے۔ یہ جنگ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ طاقتور ریاستوں کے فیصلے صرف ان کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس تصادم نے یورپ کی نیندیں حرام کر دی ہیں، توانائی کے بحران نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور عالمی معیشت ایک بار پھر عدم یقینی کے اندھیروں میں داخل ہو چکی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بڑی طاقتیں آمنے سامنے آتی ہیں تو چھوٹے ممالک کچلے جاتے ہیں اور عام انسان قیمت ادا کرتا ہے۔ لیکن مسئلہ صرف یوکرین تک محدود نہیں۔ مشرق وسطیٰ میں فرقہ واریت کی آگ دہائیوں سے جل رہی ہے۔ شیعہ اور سنی کی اس جنگ نے پورے خطے کو لہولہان کر دیا ہے۔ افغانستان میں طالبان کی واپسی نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا بندوق کے زور پر قائم ہونے والا نظام دیرپا ہو سکتا ہے؟ افریقہ میں دہشت گرد تنظیمیں ریاستوں کی رِٹ کو چیلنج کر رہی ہیں اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ قوم پرستی ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکزی نعرہ بن چکی ہے۔ امریکہ اپنی برتری بچانے کے لیے بے چین ہے، چین خاموشی سے اپنی طاقت کو عالمی سطح پر منوا رہا ہے، روس ماضی کی عظمت کی طرف لوٹنے کا خواب دیکھ رہا ہے اور یورپ اپنے وجود کے تحفظ میں الجھا ہوا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان سرد جنگ اب صرف تجارت تک محدود نہیں رہی، یہ ٹیکنالوجی، دفاع اور نظریات تک پھیل چکی ہے۔ اگر یہ کشمکش یونہی بڑھتی رہی تو دنیا ایک نئے عالمی بحران کے دہانے پر کھڑی ہو سکتی ہے۔
قدرتی وسائل نے اس آگ میں تیل کا کام کیا ہے۔ پانی، جو کبھی زندگی کی علامت تھا، آج جنگ کی وجہ بن چکا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان انڈس واٹر معاہدہ ہو یا مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں پانی کی قلت، آنے والے دنوں میں پانی سونے سے زیادہ قیمتی ہو گا۔ تیل، گیس اور معدنیات پہلے ہی عالمی سیاست کے ہتھیار بن چکے ہیں، اب مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجی نے طاقت کی نئی تعریف وضع کر دی ہے۔ان تمام عوامل کا نتیجہ یہ ہے کہ عالمی سیکیورٹی ایک نازک دھاگے سے لٹک رہی ہے۔ تجارتی راستے غیر محفوظ ہو رہے ہیں، معیشتیں دباؤ کا شکار ہیں اور پناہ گزینوں کے قافلے سرحدوں پر دستک دے رہے ہیں۔ لاکھوں انسان جنگوں کی نذر ہو چکے ہیں اور کروڑوں بے یقینی کی زندگی گزار رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ حل کیا ہے؟ تاریخ ہمیں ایک ہی سبق دیتی ہے: جنگ کبھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی، یہ صرف مسائل کو بڑھا دیتی ہے۔ عالمی رہنماؤں کو اب طاقت کے نشے سے باہر آ کر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہو گا۔ اگر مفادات کی جنگ نہ رکی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
دنیا کو اس وقت ہتھیاروں کی نہیں، عقل کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو یہ عالمی کشمکش ہمیں ایک ایسی جنگ میں دھکیل دے گی جس کا کوئی فاتح نہیں ہو گا، صرف شکست خوردہ انسان ہوں گے۔