پبلک کی فلاح یا ادیت کا سامان؟
پبلک کی فلاح یا ادیت کا سامان؟
اسے فلاح کہیں یا فریب؟ کہتے ہیں ایک بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا میں چاہتا ہوں کہ میری رعایا خوش رہے، ان کے لیے کوئی یادگار منصوبہ بنایا جائے تاکہ یہ دورِ حکمرانی فلاح کا استعارہ بن جائے۔ درباریوں نے مشورہ دیا “جہاں لوگ روز پانی بھرنے آتے ہیں، وہاں ایک شاندار فوارہ بنا دیا جائے۔ رعایا سمجھے گی کہ بادشاہ ان کی بھلائی کا خواہاں ہے۔”
چند ہی دنوں میں سنگِ مرمر کا فوارہ تعمیر ہوا۔ روشنیوں کی چمک، پتھروں کی زیبائش، اور افتتاح کے موقع پر جشن و تماشہ۔مگر کچھ ہی دنوں بعد گاؤں کے لوگ فریاد لے کر دربار میں پہنچے اور کہا جہاں پناہ
“جہاں فوارہ بنایا گیا، وہی ہمارا واحد کنواں تھا۔ اب نہ پانی ملتا ہے، نہ زندگی کی آسائش باقی رہی۔”بادشاہ نے حیرت سے کہا:“میں نے تو تمہاری فلاح کے لیے یہ سب کیا تھا”گاؤں کے ایک بزرگ نے خاموشی سے جواب دیا “جہاں فلاح سوچ کے بغیر کی جائے، وہاں سہولت نہیں، اذیت جنم لیتی ہے۔”
یہ کہانی کسی پرانے عہد کی نہیں، منڈی بہاؤالدین کی آج کی تصویر بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ترقی کے نام پر خواب دکھائے گئے، مگر تعبیر میں اذیت رقم کر دی گئی۔ویران ہوئی شہر کی دھڑکن میری مراد جنرل بساسٹینڈہے۔جی ہاں وہی جگہ جو کبھی شہر کی زندگی کی علامت تھیجنرل بس اسٹینڈ۔جہاں مسافروں کا شور، چائے کے کھوکھوں کی خوشبو، اور گاڑیوں کے ہارن شہر کی دھڑکن تھے، آج وہاں سناٹا اور ویرانی ہے۔
دو برس ہونے کو آئے، اسٹینڈ کو مسمار کر دیا گیا، مگر تعمیرِ نو کا کے نام و نشان پہ۔کبھی اک ٹرالی مٹی ڈال دی جاتی ہے، کبھی چند اینٹیں لگا کر خاموشی چھا جاتی ہے۔“فلاحِ عامہ صرف کاغذوں پر نہیں، زمین پر نظر آتی ہے۔”نہ بیت الخلا باقی رہے، نہ سایہ دار شیڈ۔
دھوپ میں جھلستے مسافر، بارش میں کیچڑ سے لت پت راستے، اور بے بسی میں کھڑے ڈرائیور و کنڈکٹر، یہ ہیں اس نام نہاد ترقی کے حقیقی مناظر۔جنہوں نے برسوں اس شہر کی خدمت کی، آج وہی کھلے آسمان تلے اپنی باری کے انتظار میں خوار ہیں۔سبز منڈی کے سبز خوابوں کی سنسان حقیقت یہ ہیکہ “ایک دن شاہی فرمان صادر ہوا سبز منڈی یہاں نہیں، وہاں ہوگی، شہر سے کوسوں دور“۔مگر وہاں نہ بیت الخلا، نہ پانی، نہ سایہ دار جگہ، اور نہ ہی کوئی سرکاری سہولت۔سوال یہ نہیں کہ منڈی کیوں منتقل کی گئی، بلکہ یہ ہے کہ کیا کسی نے سوچا کہ اسفیصلے کا اثر کن پر پڑے گا؟
تاجر ہوں یا آڑھتی، مزدور ہوں یا خریدار ،سب کے لیے یہ فیصلہ ایک معاشی زلزلے سے کم نہیں۔اضافی کرایے، وقت کا ضیاع، سامان کی ترسیل میں مشکلات اور نتیجہ لا یعنی ؟مہنگائی کی ایک نئی لہر، جو آخرکار عوام کے دروازے پر آ کھڑی ہوتی ہے۔اور پھر وہی گھسا پٹا جملہ سننے کو ملتا ہے“یہ سب عوام کی فلاح کے لیے کیا جا رہا ہے۔”اگر واقعی مقصد عوامی فلاح ہوتا تو منڈی کی منتقلی سے قبل وہاں بنیادی ڈھانچہ مکمل کیا جاتا۔شہر سے منڈی تک سرکاری ٹرانسپورٹ مہیا کی جاتی۔تاجر، مزدور، خریدار ، سب کی سہولت کا خیال رکھا جاتا۔مگر یہاں تو الٹی گنگا بہتی ہے —پہلے تباہی، پھر وضاحت، اور آخر میں خاموشی۔یہ کیسی فلاح، یہ کیسی ترقی؟ جس میں عوام سہولت کے بجائے سزا بھگت رہی ہے؟یہ کیسی ترقی ہے جس میں جینا دوبھر اور روزگار غیر یقینی ہو گیا ہے؟اور سب سے بڑا سوال یہ کہ:جناب ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فیصل سلیم صاحب، جو ہمیشہ ایک شائستہ، بھلے مانس اور عوام دوست افسر کے طور پر جانے جاتے رہے ، آخر یہ سب کس کے مشوروں پر چلنے لگے ہیں؟
ان کے فیصلے اب سمجھ سے بالا تر ہوتے جا رہے ہیں۔شاید وہ نہیں جانتے کہ ان کے ماتحتوں کے چند ناقص مشورے نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں بلکہ ان کی اپنی نیک نامی کو بھی داغدار بنا رہے ہیں۔وقت آ گیا ہے کہ اربابِ اختیار اپنے گریبان میں جھانکیں، اور سوچیں کہ عوام کی فلاح کے نام پر وہ عوام سے کیا کچھ چھین چکے ہیں۔
چند ہی دنوں میں سنگِ مرمر کا فوارہ تعمیر ہوا۔ روشنیوں کی چمک، پتھروں کی زیبائش، اور افتتاح کے موقع پر جشن و تماشہ۔مگر کچھ ہی دنوں بعد گاؤں کے لوگ فریاد لے کر دربار میں پہنچے اور کہا جہاں پناہ
“جہاں فوارہ بنایا گیا، وہی ہمارا واحد کنواں تھا۔ اب نہ پانی ملتا ہے، نہ زندگی کی آسائش باقی رہی۔”بادشاہ نے حیرت سے کہا:“میں نے تو تمہاری فلاح کے لیے یہ سب کیا تھا”گاؤں کے ایک بزرگ نے خاموشی سے جواب دیا “جہاں فلاح سوچ کے بغیر کی جائے، وہاں سہولت نہیں، اذیت جنم لیتی ہے۔”
یہ کہانی کسی پرانے عہد کی نہیں، منڈی بہاؤالدین کی آج کی تصویر بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ترقی کے نام پر خواب دکھائے گئے، مگر تعبیر میں اذیت رقم کر دی گئی۔ویران ہوئی شہر کی دھڑکن میری مراد جنرل بساسٹینڈہے۔جی ہاں وہی جگہ جو کبھی شہر کی زندگی کی علامت تھیجنرل بس اسٹینڈ۔جہاں مسافروں کا شور، چائے کے کھوکھوں کی خوشبو، اور گاڑیوں کے ہارن شہر کی دھڑکن تھے، آج وہاں سناٹا اور ویرانی ہے۔
دو برس ہونے کو آئے، اسٹینڈ کو مسمار کر دیا گیا، مگر تعمیرِ نو کا کے نام و نشان پہ۔کبھی اک ٹرالی مٹی ڈال دی جاتی ہے، کبھی چند اینٹیں لگا کر خاموشی چھا جاتی ہے۔“فلاحِ عامہ صرف کاغذوں پر نہیں، زمین پر نظر آتی ہے۔”نہ بیت الخلا باقی رہے، نہ سایہ دار شیڈ۔
دھوپ میں جھلستے مسافر، بارش میں کیچڑ سے لت پت راستے، اور بے بسی میں کھڑے ڈرائیور و کنڈکٹر، یہ ہیں اس نام نہاد ترقی کے حقیقی مناظر۔جنہوں نے برسوں اس شہر کی خدمت کی، آج وہی کھلے آسمان تلے اپنی باری کے انتظار میں خوار ہیں۔سبز منڈی کے سبز خوابوں کی سنسان حقیقت یہ ہیکہ “ایک دن شاہی فرمان صادر ہوا سبز منڈی یہاں نہیں، وہاں ہوگی، شہر سے کوسوں دور“۔مگر وہاں نہ بیت الخلا، نہ پانی، نہ سایہ دار جگہ، اور نہ ہی کوئی سرکاری سہولت۔سوال یہ نہیں کہ منڈی کیوں منتقل کی گئی، بلکہ یہ ہے کہ کیا کسی نے سوچا کہ اسفیصلے کا اثر کن پر پڑے گا؟
تاجر ہوں یا آڑھتی، مزدور ہوں یا خریدار ،سب کے لیے یہ فیصلہ ایک معاشی زلزلے سے کم نہیں۔اضافی کرایے، وقت کا ضیاع، سامان کی ترسیل میں مشکلات اور نتیجہ لا یعنی ؟مہنگائی کی ایک نئی لہر، جو آخرکار عوام کے دروازے پر آ کھڑی ہوتی ہے۔اور پھر وہی گھسا پٹا جملہ سننے کو ملتا ہے“یہ سب عوام کی فلاح کے لیے کیا جا رہا ہے۔”اگر واقعی مقصد عوامی فلاح ہوتا تو منڈی کی منتقلی سے قبل وہاں بنیادی ڈھانچہ مکمل کیا جاتا۔شہر سے منڈی تک سرکاری ٹرانسپورٹ مہیا کی جاتی۔تاجر، مزدور، خریدار ، سب کی سہولت کا خیال رکھا جاتا۔مگر یہاں تو الٹی گنگا بہتی ہے —پہلے تباہی، پھر وضاحت، اور آخر میں خاموشی۔یہ کیسی فلاح، یہ کیسی ترقی؟ جس میں عوام سہولت کے بجائے سزا بھگت رہی ہے؟یہ کیسی ترقی ہے جس میں جینا دوبھر اور روزگار غیر یقینی ہو گیا ہے؟اور سب سے بڑا سوال یہ کہ:جناب ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فیصل سلیم صاحب، جو ہمیشہ ایک شائستہ، بھلے مانس اور عوام دوست افسر کے طور پر جانے جاتے رہے ، آخر یہ سب کس کے مشوروں پر چلنے لگے ہیں؟
ان کے فیصلے اب سمجھ سے بالا تر ہوتے جا رہے ہیں۔شاید وہ نہیں جانتے کہ ان کے ماتحتوں کے چند ناقص مشورے نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں بلکہ ان کی اپنی نیک نامی کو بھی داغدار بنا رہے ہیں۔وقت آ گیا ہے کہ اربابِ اختیار اپنے گریبان میں جھانکیں، اور سوچیں کہ عوام کی فلاح کے نام پر وہ عوام سے کیا کچھ چھین چکے ہیں۔