ظہران ممدانی ۔۔۔ایک مضبوط نظام، ایک منصف جمہوریت
ظہران ممدانی ۔۔۔ایک مضبوط نظام، ایک منصف جمہوریت
ظہران نے نیویارک کے عام سکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ وہ نہ کسی سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، نہ سرمایہ دارانہ نظام کے سہارے ان کی سیاست پروان چڑھی۔ لیکن ان میں ایک چیز تھی عزم، خلوص اور عوام کے دکھ کو محسوس کرنے کا شعور۔
انہوں نے نیویارک کی اسمبلی میں نوجوانوں، کم آمدنی والے طبقات اور تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ ان کی سیاست نعرے بازی نہیں، خدمت کا استعارہ تھی۔ یہی وہ جذبہ ہے جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں ایک عام شہری کو قیادت کے منصب تک پہنچا دیتا ہے۔
یہ کامیابی صرف ظہران ممدانی کی نہیں، بلکہ امریکہ کے مضبوط جمہوری نظام کی بھی جیت ہے ۔ ایک ایسا نظام جو موقع، مساوات اور Merit پر کھڑا ہے۔
یہ وہ نظام ہے جس میں کسی کا نام، رنگ، مذہب یا خاندانی پس منظر نہیں، بلکہ کردار، وژن اور کارکردگی فیصلہ کرتے ہیں کہ کون قیادت کے قابل ہے۔
یہ جمہوری نظام بالکل اُس شفاف دریا کی مانند ہے جس میں چھوٹی ناؤ بھی منزل تک پہنچ سکتی ہے، بشرطے کہ اس کے چپو مضبوط ہوں۔
اس کے برعکس ہمارا نظام اکثر ایسی دلدل بن جاتا ہے جہاں قابلیت کے قدم پھسل جاتے ہیں اور تعلقات کی کائی ہر سمت پھیلی ہوتی ہے۔
پاکستان میں کتنے ظہران ممدانی بستے ہیں؟
ہزاروں نوجوان ، جو ذہانت، تعلیم اور خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں، مگر جن کے لیے سیاست کے دروازے بند ہیں۔ یہاں قیادت وراثت میں ملتی ہے، وژن نہیں۔ عہدے خاندانی جائیداد کی طرح تقسیم ہوتے ہیں۔
ہمارے ہاں سیاست میدانِ خدمت نہیں، اقتدار کا کھیل بن چکی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں ظہران ممدانی کیوں نہیں بنتے ۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا نظام کسی ظہران کو ابھرنے دیتا ہے؟
امریکہ کی جمہوریت کی اصل طاقت یہی ہے کہ وہ عوام کو بااختیار بناتی ہے۔ وہاں ووٹ ایک ذمہ داری ہے، اور عوام کی رائے ہر منصب کی بنیاد۔
وہاں ایک نوجوان اپنے عزم سے شہر کا میئر بن سکتا ہے، کیونکہ سسٹم اسے اوپر اٹھنے کا موقع دیتا ہے ۔
جبکہ ہمارے ہاں نوجوان اکثر مایوسی اور محرومی کے اندھیروں میں دفن ہو جاتے ہیں۔
ظہران ممدانی کی کامیابی ہم سب کے لیے ایک آئینہ ہے۔
یہ ہمیں بتاتی ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں ۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو صلاحیت کو جگہ دیتا ہے، خوابوں کو حقیقت میں بدلتا ہے، اور عوام کو فیصلہ سازی کا حق دیتا ہے۔
اگر پاکستان کو آگے بڑھنا ہے تو ہمیں اپنے سیاسی ڈھانچے کو ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا۔ قیادت کو وراثت سے نکال کر میرٹ، علم اور کارکردگی سے جوڑنا ہوگا۔ نوجوانوں کو صرف ووٹر نہیں، بلکہ فیصلہ ساز بنانا ہوگا۔
ظہران ممدانی کی جیت ایک یاد دہانی ہے ،
کہ جب نظام منصف ہو، موقع سب کے لیے برابر ہو، تو خواب حقیقت میں بدل جاتے ہیں۔
کاش وہ دن ہمارے ہاں بھی آئے،
جب کسی پاکستانی نوجوان کی کہانی بھی یوں لکھی جائے:
“ایک عام لڑکا، ایک بڑا خواب، اور ایک منصف نظام ۔۔۔جو اُسے میئر بنا گیا۔”
انہوں نے نیویارک کی اسمبلی میں نوجوانوں، کم آمدنی والے طبقات اور تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ ان کی سیاست نعرے بازی نہیں، خدمت کا استعارہ تھی۔ یہی وہ جذبہ ہے جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں ایک عام شہری کو قیادت کے منصب تک پہنچا دیتا ہے۔
یہ کامیابی صرف ظہران ممدانی کی نہیں، بلکہ امریکہ کے مضبوط جمہوری نظام کی بھی جیت ہے ۔ ایک ایسا نظام جو موقع، مساوات اور Merit پر کھڑا ہے۔
یہ وہ نظام ہے جس میں کسی کا نام، رنگ، مذہب یا خاندانی پس منظر نہیں، بلکہ کردار، وژن اور کارکردگی فیصلہ کرتے ہیں کہ کون قیادت کے قابل ہے۔
یہ جمہوری نظام بالکل اُس شفاف دریا کی مانند ہے جس میں چھوٹی ناؤ بھی منزل تک پہنچ سکتی ہے، بشرطے کہ اس کے چپو مضبوط ہوں۔
اس کے برعکس ہمارا نظام اکثر ایسی دلدل بن جاتا ہے جہاں قابلیت کے قدم پھسل جاتے ہیں اور تعلقات کی کائی ہر سمت پھیلی ہوتی ہے۔
پاکستان میں کتنے ظہران ممدانی بستے ہیں؟
ہزاروں نوجوان ، جو ذہانت، تعلیم اور خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں، مگر جن کے لیے سیاست کے دروازے بند ہیں۔ یہاں قیادت وراثت میں ملتی ہے، وژن نہیں۔ عہدے خاندانی جائیداد کی طرح تقسیم ہوتے ہیں۔
ہمارے ہاں سیاست میدانِ خدمت نہیں، اقتدار کا کھیل بن چکی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں ظہران ممدانی کیوں نہیں بنتے ۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا نظام کسی ظہران کو ابھرنے دیتا ہے؟
امریکہ کی جمہوریت کی اصل طاقت یہی ہے کہ وہ عوام کو بااختیار بناتی ہے۔ وہاں ووٹ ایک ذمہ داری ہے، اور عوام کی رائے ہر منصب کی بنیاد۔
وہاں ایک نوجوان اپنے عزم سے شہر کا میئر بن سکتا ہے، کیونکہ سسٹم اسے اوپر اٹھنے کا موقع دیتا ہے ۔
جبکہ ہمارے ہاں نوجوان اکثر مایوسی اور محرومی کے اندھیروں میں دفن ہو جاتے ہیں۔
ظہران ممدانی کی کامیابی ہم سب کے لیے ایک آئینہ ہے۔
یہ ہمیں بتاتی ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں ۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو صلاحیت کو جگہ دیتا ہے، خوابوں کو حقیقت میں بدلتا ہے، اور عوام کو فیصلہ سازی کا حق دیتا ہے۔
اگر پاکستان کو آگے بڑھنا ہے تو ہمیں اپنے سیاسی ڈھانچے کو ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا۔ قیادت کو وراثت سے نکال کر میرٹ، علم اور کارکردگی سے جوڑنا ہوگا۔ نوجوانوں کو صرف ووٹر نہیں، بلکہ فیصلہ ساز بنانا ہوگا۔
ظہران ممدانی کی جیت ایک یاد دہانی ہے ،
کہ جب نظام منصف ہو، موقع سب کے لیے برابر ہو، تو خواب حقیقت میں بدل جاتے ہیں۔
کاش وہ دن ہمارے ہاں بھی آئے،
جب کسی پاکستانی نوجوان کی کہانی بھی یوں لکھی جائے:
“ایک عام لڑکا، ایک بڑا خواب، اور ایک منصف نظام ۔۔۔جو اُسے میئر بنا گیا۔”